شہباز شریف کا عملہ نیب دفتر پہنچ گیا مگر کیوں؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

شہباز شریف کا عملہ نیب دفتر پہنچ گیا مگر کیوں؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی
شہباز شریف کا عملہ نیب دفتر پہنچ گیا مگر کیوں؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو گرفتار کرلیا،جس کے بعد شہباز شریف کا سٹاف کھانا،ادویات اور ضروری سامان کے ہمراہ نیب آفس پہنچ گیا  ۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیونیوز‘‘ کے مطابق احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کو نیب میں صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا لیکن جب وہ بیان کرانے پہنچے تو انہیں آشیانہ سکیم کیس میں گرفتار کرلیاگیا اس کے بعد سے شہباز شریف نیب آفس میں موجود ہیں جنہیں کل 9 بجے احتساب عدالت پیش کیا جائے ، گرفتاری کے بعد نیب آفس میں شہبازشریف کا طبی معائنہ کیا گیا جہاں ان کا بلڈ پریشر، شوگر لیول اور ہارٹ بیٹ چیک کی گئی،اب شہباز شریف کا سٹاف کھانا ،ادویات ،کپڑے اور دیگر ضروری سامان لے کر نیب آفس پہنچ گیا ہے۔ 

واضح رہےکہ نیب آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں،آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم بھی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

نیب کی جانب سے شہبازشریف پر چار الزامات عائد کیے گئے ہیں انہوں نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے آشیانہ اسکیم کا پروجیکٹ پی ایل ڈی سی سے ایل ڈی اے کو منتتقل کیا،دوسرا الزام ہے کہ ایل ڈی اے سے دوبارہ پی ایل ڈی سی کو منتقل کرنے کے غیر قانونی احکامات دیئے،تیسرا الزام عائد کیا گیا ہےکہ انہوں نے اس پروجیکٹ کو پیراگون کو منتقل کرنے کا حکم دیا، پھر غیر قانونی احکامات کے ذریعے پی پی پی (پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ) موڈ میں رکھ دیا،شہبازشریف پر چوتھا الزام عائد کیا گیا ہےکہ وہ غیر قانونی طور پر بورڈ کے معاملات میں مخل ہوئے اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقدامات کیے، انہوں نے 2013 میں لطیف سنز کے ساتھ معاہدے کو غیر قانونی طور پر منسوخ کیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -