قومی و ملی یکجہتی کیلئے یکساں نظام تعلیم ناگزیر،وزیر اعظم عمران خان کا انگریز کے تعلیمی نظام سے جان چھڑانے کا بیانیہ لائق تحسین ہے:مولانا زاہد الراشدی

قومی و ملی یکجہتی کیلئے یکساں نظام تعلیم ناگزیر،وزیر اعظم عمران خان کا ...
قومی و ملی یکجہتی کیلئے یکساں نظام تعلیم ناگزیر،وزیر اعظم عمران خان کا انگریز کے تعلیمی نظام سے جان چھڑانے کا بیانیہ لائق تحسین ہے:مولانا زاہد الراشدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی و ملی یکجہتی کیلئے یکساں نظام تعلیم ناگزیر ہے،قومی نصاب کی تشکیل میں اسلامی تعلیمات اور ہماری تہذیب و تمدن کو ضرور مد نظر رکھا جائے،وزیر اعظم عمران خان کا انگریز کے تعلیمی نظام سے جان چھڑانے کا بیانیہ لائق تحسین ہے،نصاب سازی کے عمل میں مغربی ممالک کے نظام کو سامنے رکھنا بارش سے نکل کر پرنالے کے نیچے آنے کے مترادف ہو گا،تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی انگریز سامراج کے نظام سے جان چھڑانا ہو گی،آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والے قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور طویل عرصے سے جاری کرفیو قابل مذمت ہے،افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان کو بھر پور کردارادا کرنا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان شریعت کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا زاہد الراشدی،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا قاضی مشتاق احمد،مولانا محمد علی قریشی،مولانا عبدالرؤف محمدی،قاری عبدالحفیظ،مفتی محمد سعد سعدی،مولانا حافظ علی محی الدین اور دیگر نے علمائے کرام کے ایک بھر پور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،علمائے کرام نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے محض زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے،یکساں نصاب تمام علوم و فنون کے ماہرین کی مشاورت سے بنایا جائے اور دینی علوم کے حوالے سے ملک کے جید علمائے کرام کو اعتماد میں لیا جائے،انہوں نے کہا کہ ملک میں نافذ عدالتی نظام سمیت تمام قوانین اور اداروں کو اسلامی تعلیمات کے تابع بنایا جائے تا کہ ہمارا ملک حقیقی معنوں میں مدینہ کی ریاست کا نمونہ بن سکے۔علمائے کرام نے ملک میں جاری قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں اور بیرون ملک پاکستان کیخلاف سازشوں اور پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والے قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔علمائے کرام نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت کے انتہا پسند حکمران کشمیریوں کی نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں،عالمی برادری ان کو ان خطرناک عزائم سے روکے،علمائے کرام نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات ہی بہترین آپشن ہے،پاکستان کو اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنا چاہئیے۔اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر مولانا عبدالقیوم حقانی کی علالت کی خبر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی گئی،اجلاس میں مولانا مطلوب الحسن،مولانا عبدالقدیر،مفتی لئیق احمد،مفتی محمد ذیشان،مولانا محمد عمیر،مولانا عبدالرشید جلالی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -