کتابیں

کتابیں

  

بھٹی صاحب نے جب شاعری کا آغازکیا، اس وقت وہ بے روزگار تھے۔ انھوں نے جلد ہی ایک کتابوں کی دکان بنا لی۔ ان کے بھائیوں نے انھیں اور بھی کاروبار کروانے کی پیشکش کی مگر وہ کتابوں کے ساتھ جڑے رہے۔

زندگی کا بیشتر حصہ انھی کتابوں کے ساتھ گزر گیا۔کتابیں بچے کہاں پالتی ہیں۔ ان کے چار بچوں نے جب مالی حالات تنگ کر دئیے تو انھوں نے روزگار کو وسیع کرنے کی غرض سے کتابیں بھی شایع کرنی شروع کر دیں۔جلد ان کا نام ایک شاعر کے ساتھ ایک اچھے پبلشرز کے طور پر لیا جانے لگا۔وقت گزرتا رہا اور اسی دوران ان کے بچوں نے ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔

بچوں نے بزنس کو بزنس سمجھ کے کام کیا۔وہ کتاب کو اپنے بزنس کے پروڈکٹ کہتے، جیسے برگر بیچنے والے کی پروڈکٹ اس کا برگر ہوتا ہے۔بچے اپنے باپ سے بے پناہ محبت بھی کرتے۔ اسی لیے انھیں گھر پر آرام کا کہتے رہتے۔

ایک دن بھٹی صاحب نے بچوں کے سامنے ایک گاہک کو غیر معمولی رعایتی قیمت پر کتابیں تھما دیں۔ وہ اسے مستحق سمجھ رہے تھے۔ بچے شدید خفا ہوئے اور انھیں بزنس میں رکاوٹ محسوس کرنے لگے۔سب بچوں نے مشترکہ طور پر انھیں گھر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا۔

کئی دن گزر گئے۔ بھٹی صاحب دکان پر نہ آئے۔ بچے بھی خوش تھے کہ ان کے والد کو اب محنت نہیں کرنی پڑتی۔

ایک دن خلافِ وعدہ بھٹی صاحب دکان میں داخل ہوئے اور چپکے سے آ کر کتابیں کھول کے دیکھنے لگے۔ بڑے بیٹے نے کہا:

”ابو آپ یہاں ___خیریت تو ہے!“

بھٹی صاحب بولے:

”اصل میں گھر میں دل نہیں لگ رہا تھا، شدید گھبرا گیا تھا، سوچا اپنے بچوں سے مل آؤں۔سو اپنی اصلی اولاد، اپنی کتابوں سے ملنے آ گیا ہوں۔

پینتالیس سال پہلے ان کو جنم دیا تھا۔

آج بوڑھا ہوں تو یہی یاد کرتی ہیں۔ یہی پاس بلا تی ہیں۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -