جو اپنی محنت نہیں بھولتے

جو اپنی محنت نہیں بھولتے

  

میاں صبح گھر سے نکلتے تو سلطانہ آ جاتی۔میں اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتی اور سلطانہ صفائی کا کام کرنے لگتی۔گھر کا جو کام مجھ سے نہ ہو پاتا میں وہ بھی سلطانہ کو سونپ دیتی۔

سلطانہ دیر سے نکلتی اور پورا گھر چمکا کے جاتی۔ میں روزانہ اسے بچا سالن بھی ساتھ دے دیتی۔جب اس کے بچے بڑے ہونے شروع ہوئے تو وہ جلدی جانے لگی۔

وہ میرے پاس کئی سال سے کام کر رہی تھی۔کبھی اس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔

ایک دن وہ کافی پریشان تھی۔ میرے پوچھنے پر بتانے لگی۔

”بی بی جی! بیٹی نے میٹرک کر لیا ہے، کہتی ہے کہ کالج میں پڑھوں گی۔ کیا کرے گی پڑھ کے۔ کہیں پر نہ لگ جائیں اور پھر ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں کہ پڑھوائیں۔“

میں نے کہا؛

”اسے کہو تم جتنا چاہو پڑھو، فیس میں دوں گی۔ وہ بھی میری عافیہ جیسی ہے۔ اور ہاں ____پڑھنے دو، کوئی پر، ور نہیں لگتے۔ تعلیم اْس کا حق ہے۔“

وقت گزرتا گیا۔ سلطانہ کی بیٹی چند ہی سالوں بعد انجینئرنگ یونیورسٹی میں پہنچ گئی۔ صرف میرے میاں،سلطانہ اور اْس کی بیٹی جانتی تھی کہ اْس کی تعلیم کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے۔

ایک دن سلطانہ برتن دھو رہی تھی کہ رو پڑی۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہْوا۔

کہنے لگی:

”بی بی جی! بیٹی کہتی ہے کہ تم اب کام وام چھوڑ دو۔میری سہیلیوں کو پتا چلے تو میں کیا جواب دوں گی۔کب تک چھپاتی پھروں گی کہ میری ماں ایک کام کرنے والی ہے۔“

میں نے کہا: ”ہاں وہ ٹھیک کہتی ہے“

”مگر بی بی جی، اسی کام نے تو مجھے سب کچھ دیا ہے، میری بیٹی کو تعلیم دی ہے، آپ لوگ دیے ہیں۔“

سلطانہ کی بیٹی انجینئرنگ یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تو اسے بہت اچھی جاب مل گئی۔ پھر میں نے زبردستی اْسے کام سے منع کر دیا کہ اْس کی بیٹی اب خود کما رہی ہے۔ اس کے باوجود سلطانہ کبھی کبھار ملنے آ جاتی اور ڈھیر ساری باتیں کرتی۔ایک دیرینہ دوست کی طرح مجھ سے ہر دکھ شیئر کرتی۔

کچھ دن پہلے وہ میرے گھر آئی تو اْس کے ہاتھ میں بیٹی کا شادی کارڈ تھا۔ وہ مجھے بیٹی کی شادی میں شریک کرنے آئی تھی۔

شادی والے دن سلطانہ کی بیٹی کا حسن دیکھنے والا تھا۔ ایک خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکی۔میرا ہاتھ پکڑ پکڑ کے اپنی سہیلیوں اور ملنے والیوں سے ملاتی رہی۔میں نے گھر واپسی کے وقت سلطانہ کو ڈھونڈا تو کیا دیکھتی ہوں کہ سلطانہ کچن میں اکیلی برتن دھو رہی ہے۔

میں نے بے ساختہ کہا:

”سلطانہ تم برتن دھو رہی ہے۔ چھوڑو ان کو اور باہر جاؤ۔ لوگ تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔“

سلطانہ نے موٹے موٹے آنسو ٹپکاتے ہوئے کہا:

”نہیں بی بی جی! میں برتن نہیں دھو رہی،میں تو ان دنوں کو یاد کر رہی ہوں جب انھی برتنوں کے دھونے سے چولہا چلتا تھا اور آج انھی محنت والے ہاتھوں سے بیٹی کو رخصت کروں گی۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -