رشوت

رشوت

  

محکمہ انکم ٹیکس کا ایک آفیسر اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے دوستوں سے بولا:

”میں رشوت نہیں لیتا، روپے، نوٹ____اور یہ دولت____خدا گواہ، حج پر گیا تو بی بی فاطمہ کی زیارت گاہ کے پاس کھڑے مجھ پر اس کاغذی غلاظت سے نفرت کا نزول جاری ہوا اور میں ہمیشہ کے لیے اس حرام کام سے تائب ہو گیا۔ اب تو ان نوٹوں کو بھی ہاتھ نہیں لگاتا جو تنخواہ کے ملتے ہیں۔“

اسی دوران ایک آدمی آفس میں داخل ہْوا اور کہنے لگا:”سر___گاڑی میں بہترین ٹیک لگوادیا ہے یہ لیں کار کی چابی___!“

آفیسر کھسیانا ہوکے پھر دوستوں سے مخاطب ہْوا:

”شکریہ بھائی! اصل میں بچے ضد کر رہے تھے میوزک سننے کی__ اور آپ جانتے ہیں میری اتنی پسلی کہاں ___استغفراللہ_____نوٹ کو ہاتھ لگاؤں تو بی بی فاطمہ کی زیارت گاہ یاد آتی ہے۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -