بیٹی کاٹفن

بیٹی کاٹفن

  

میری عادت تھی کہ گھر کی پرانی، بوسیدہ اور ناقابلِ استعمال اشیا کونکال دیتی۔ کبھی انھیں بیچ دیتی کبھی کسی سہیلی یا رشتے دار کو تھما دیتی۔ جو کسی بھی قابل نہ ہوتیں انھیں کوڑے میں پھینک دیتی۔

کل میں نے اپنی بیٹی کا ٹفن جو دائیں طرف سے ٹوٹ گیا تھا اپنی کام کرنے والی سلطانہ سے کوڑے میں پھینکنے کو کہا۔ٹفن تھا تو نیا مگر گرنے کہ وجہ سے ایک حصہ ناکارہ ہوگیا تھاجس سے اْس میں ڈالی گئی اشیا ء بہہ جاتیں۔

کام والی نے ٹفن اٹھایا اور کوڑے دان کی طرف چل پڑی۔

اگلے دن میں بیٹی کے لیے نیا ٹفن لے آئی اور اْسے تازہ اور مزیدار کھانا بنا کے دینے لگی۔

ایک دن سلطانہ کام کرنے آئی تو اپنی بیٹی کو سکول سے ساتھ لیتی آئی۔ اْس نے بیٹی کوسیڑھیوں میں بیٹھا دیااور خود کام کرنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد اْس کی بیٹی نے سکول بیگ سے ٹفن نکالا اورساتھ رکھ لیا۔پھر ایک کتاب لے کے پڑھنے لگی۔

میں نے دیکھا یہ تو وہی ٹفن تھا جو ٹوٹ جانے کی وجہ سے میں نے کوڑے میں پھینکوایا تھا۔ میں نے اْس کی بیٹی کو اپنے پاس بلوایا اور کہا:

”یہ ٹفن تم سکول لے کے جاتی ہو؟مگر یہ تو ٹوٹا ہْوا ہے۔“

اْس نے کہا: ”ہاں جی۔۔۔باجی جی، اماں اس میں کچھ روٹی کے ٹکڑے رکھ دیتی ہے جو گرتے نہیں، سالن میں وہاں سہیلی سے مانگ لیتی ہوں“

میں نے کہا: آج بھی روٹی کے ٹکڑے تھے؟“

”نہیں جی، آج کچھ بھی نہیں تھا“

”مگر ٹفن تو تم نے بیگ میں رکھا ہْوا تھا۔“

کہنے لگی:

”وہ اصل میں کبھی کبھار اماں بس ایسے ہی ساتھ رکھ دیتی ہے،کہتی ہے کہ روٹی نہیں ہے بس ٹفن رکھ لے۔ سہیلیاں کیا کہیں گی کہ آج ٹفن نہیں لائی۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -