کیس کے حتمی فیصلے تک بلدیاتی اداروں کو عبوری بحال کرنے کی استدعا مسترد

  کیس کے حتمی فیصلے تک بلدیاتی اداروں کو عبوری بحال کرنے کی استدعا مسترد

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ ،مسٹر جسٹس شاہد وحید اور مسٹر جسٹس جواد حسن پر مشتمل فل بنچ نے کیس کے حتمی فیصلے تک بلدیاتی اداروں کو عبوری طور پر بحال کرنے اوربلدیاتی اداروں کے سابق عہدیداروں کو کام کرنے کی اجازت دینے کی استدعا مستردکردی۔فاضل بنچ نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 ءکے خلاف صوبہ بھر کے سابق ضلع کونسلوںاورمیونسپل کمیٹیوں کے سابق سربراہوںسمیت سابق میئر لاہورکی طرف سے دائر 34 سے زائد درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروںکے وکلا ءکو پنجاب حکومت کے جواب کاجواب الجواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ آئندہ تاریخ سماعت پر سیکرٹری قانون،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔عدالت نے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کی درخواست عدم پیروی کی بناپر مسترد کردی جبکہ سابق ضلع کونسلوں کے فنڈز کے استعمال کو روکنے کے خلاف دائردرخواست پر حکومت اور دیگر مدعاعلیہان سے جواب طلب کر لیا ہے۔یہ درخواست سابق ضلع چیئرمین ساہیوال رائے محمد فاروق کی طرف سے دائر کی گئی ہے ،فاضل بنچ نے کچھ درخواستوں میں ترامیم کی اجازت دیتے ہوئے حکومت پنجاب سے ان پر جواب طلب کر لیا ہے،عدالت کے روبرو الیکشن کمیشن کے وکیل کہا کہ فل بنچ جب چاہے ہم الیکشن کروانے کو تیار ہیں تاہم انہوںنے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا،جس پر درخواست گزاروں کے وکلاءنے کہا کہ حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن کیسے ممکن ہیں،عدالت کے روبرو پنجاب حکومت اورسیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی طرف سے الگ الگ جواب داخل کئے گئے ،جن میں کہا گیاہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019ءآئینی تقاضوں کے مطابق منظور کیا گیا ،اس میں آئین کے منافی کوئی شق شامل نہیں ہے ، ،درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں ،انہیںمسترد کر دیا جائے،درخواست گزاروں کے وکلاءکی طرف سے استدعا کی گئی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کیا جائے اور درخواست گزاروں کودوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت دی جائے ۔درخواست گزاروں کی طرف سے ڈاکٹر خالد رانجھا ،احسن بھون ،اعظم نذیر تارز،قاضی مبین اوراویس خالد جیسے سینئر وکلاءپیش ہوئے ،اس سے قبل اس کیس کی جسٹس مامون رشید شیخ پرمشتمل سنگل بنچ سماعت کرتارہاہے ،فاضل جج کی سفارش پر چیف جسٹس نے یہ فل بنچ تشکیل دیا ہے،چیف جسٹس کی ہدایت پر بلدیاتی اداروں کے سابق عہدیداروں کی لاہورہائی کورٹ کے روالپنڈی ،ملتان اور بہاولپور بنچوں میں دائر ہونے والی درخواستوں کی سماعت بھی یہ فل بنچ لاہور پرنسپل سیٹ پر کررہاہے ۔

بلدیاتی ادارے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -