اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام بے بنیاد ،محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا

اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام بے بنیاد ،محکمہ اطلاعات خیبر ...

  

پشاور(پ ر)محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا نے ایک مقامی اخبارمیں چھپنے والی ایک خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے یا تو رپورٹر کے تخیل کی پیداوار یا کسی کی طرف سے صوبائی حکومت کے امیج کو خراب کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا سے جاری ایک تردیدی بیان میںاس امر پر حیرانگی ظاہر کی ہے کہ ایک مشہور بین الاقوامی اخبار کو اس طرح کی بے بنیاد اور غلط معلومات اکٹھی کرنے ، الفاظ کی ہیرا پھیری کرنے ، غلط اعداد وشمار پیش کرنے ا ور حقائق کو مسخ کرکے اپنے قارئین کو گمراہ کرنے کی ضرورت کوکیوں پیش آئی ہے جبکہ محکمہ اطلاعات میں اشتہارات کی تقسیم کار کا ایک منظم اور شفاف میکنزم موجود ہے۔ خبر میں رپورٹر نے دعوی کیا ہے کہ نگران دور حکومت میں صوبائی وزیر اطلاعات کے بھائی کے اخبار کو کم اشتہارات ملے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نگران دور حکومت میں عموماً مجموعی طورپر اشتہارات کا بہاﺅ کم ہوتا ہے کیونکہ نگران حکومت کے پاس صرف انتخابات کے شفاف انعقاد کا اختیار ہوتا ہے کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے کا اختیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سرکاری اشتہارات کا مجموعی بہاﺅ کم ہوتا ہے نتیجتاً کسی ایک اخبار نہیں بلکہ تمام اخبارات کے اشتہارات کم ہوتے ہیں۔محکمہ اطلاعات نے صوبائی وزیر کے بھائی کے اخبار کو جاری کئے گئے اشتہارات کے حجم سے متعلق اعداد وشمار کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذکورہ اخبار سرکاری اشتہارات کے حجم کے حوالے سے اپنے ہم پلہ ا ور ہم عصر اخباروں سے بہت پیچھے ہے اور یہاں تک کہ صوبے کے ایک بڑے اخبارکو مذکورہ اخبار سے 6 گنا زیادہ اشتہارات ملتے ہیں۔ علاوہ ازایں اشتہارات کے بہاﺅمیں اتار چڑھاﺅکی اصل وجہ مختلف صوبائی محکموں کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کےلئے مختص فنڈز میں کمی بیشی ہے۔مذکورہ اخبار کی ملکیت کے بارے میں محکمہ اطلاعات نے وضاحت کی ہے کہ اخبار کی ملکیت صوبائی وزیر اطلاعات کی نہیں بلکہ اس کے بھائی کے پاس ہے جو پہلے کسی وقت وزیر موصوف کے پاس ہوتا تھا اور صوبے میں مفادات میں تصادم کا قانون منظور ہونے کے بعد وزیر موصوف نے اخبار کی ملکیت اپنے بھائی کو دے دی کیونکہ اخبارات کی ریگولیشن سے متعلق صوبائی حکومت کے متعلقہ قانون کے تحت اخبار کی ملکیت خونی رشتے کے علاوہ کسی اور کو منتقل نہیں ہوسکتی اس لئے اخبار کی ملکیت سے متعلق رپورٹر کا دعوی بے بنیاد ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اطلاعات کو ایک مقامی اخبار کی اصل سرکولیشن معلوم کرنے میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ کسی اخبار کے سرکولیشن کے تعین کا اختیار حاصل ہے۔وفاقی حکومت کا پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پورے ملک میں اخباروں کے نرخ مقرر کرنے اور ان کی سرکولیشن متعین کرنے والا واحد ادارہ ہے۔ بیان میں مزید کیا گیا ہے کہ صوبائی محکمہ اطلاعات کو پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ایک مقامی اخبار پر ہونے والی نوازشات کی نشاندہی کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مزید برآں اس مقامی اخبار نے پشاور میں بیسیوں ملازمین کو فارغ کردیا ہے لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت نے اس کے اشتہارات میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔صوبائی محکمہ اطلاعات کو اخبار کے اس رپورٹر کی لاعلمی پر حیرانگی ہے جس نے یہ حقیقت بھی معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی کہ پورے ملک میں اخبارات کے نرخ مقرر کرنے اور ان کی سرکولیشن کے تعین کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے نہ کہ صوبائی حکومت کے پاس۔ اس غلط بیانی پر ان کیخلاف مقدمہ بھی چلایا جاسکتا ہے اورجہاں تک صوبائی حکومت کے اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار کا تعلق ہے تو یہ پہلا محکمہ ہے جس نے صوبے میں ہر قسم کی سرکاری معلومات کو عام کرنے کےلئے معلومات تک رسائی کا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت حکومت کے کلاسیفائیڈمعلومات کو بھی عام کر دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت کا یہ قانون پوری دنیا میں تین بہترین قوانین میں شمار ہوتا ہے۔محکمہ اطلاعات اشتہارات سے متعلق تمام اعداد وشمار اور معلومات کو خود سے عام کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ اطلاعات کے اشتہارات سے متعلق تمام اعداد وشمار سب کو دستیاب ہیں۔ محکمہ اطلاعات کے صاف اور شفاف نظام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اطلاعات نے حال ہی میں اشتہارات کی صاف ، شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کےلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔محکمہ اطلاعات کے معاملات میں اس حد تک شفافیت ہے کہ کوئی بھی منتخب حکومتی عہدیدار اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ خود وزیر اطلاعات بھی محکمے کے کاموں میں بے جا مداخلت نہیں کرسکتا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ صوبائی سیکرٹری اطلاعات کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے چند دن پہلے ” سٹی میل “نامی اخبار کی میڈیا لسٹ میں شمولیت کو مسترد کردیا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ محکمہ اپنے معاملات میں کتنا آزاد اور سیاسی اثرورسوخ سے پاک ہے۔اخباری رپورٹ میںایک اور الزام مذکورہ اخبار کے ریٹ میں اضافے کا ہے جو کہ مکمل طورپر وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ محکمہ اطلاعات اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ روزنامہ سرخاب صوبے کا ایک پرانا اخبار ہے اور گذشتہ پندرہ برسوں سے صوبائی میڈیا لسٹ میں شامل ہے۔ محکمے کے ریکارڈ کے مطابق اس اخبار کے پبلشر اور پرنٹر لیاقت علی ہیں۔ صوبائی حکومت نے اے این پی کے دور حکومت میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اخبار کی ڈیکلریشن خونی رشتے کے علاوہ کسی اور کو منتقل نہیں ہوسکتی۔

محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -