عراق، حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، ہلاکتیں 44تک جا پہنچی: 500سے زائد زخمی

عراق، حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، ہلاکتیں 44تک جا پہنچی: 500سے ...

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عراق میں حکومت مخالف احتجاج میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 44ہلاکتوں کی تعداد 44اور زخمیوں کی 500سے زائد تک پہنچ گئی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کرفیو کے نفاذ کے باوجود عراق میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت برقرار رہے، چار دن سے جاری احتجاجی مظاہروں میں پولیس کیساتھ ہونیوالی جھڑپوں میں 44 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ہفتے قبل کرپشن، بیروزگاری اور بدانتظامی کیخلاف ہزاروں مظاہر ین سڑکوں پر نکل آئے تھے،تاہم مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے کرفیو نافذ کر کے مظاہرین کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے استعمال کیساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی۔ادھر وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین سے کہا ہے اْن کے مطالبات سْن لیے گئے ہیں اور اب وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ کرفیو کے نفاذ جیسے مشکل اور کڑے فیصلے ملک کی سلامتی کے تناظر میں کیے گئے جس کا مقصد مظاہرین سے سیاسی پرخارش نکالنا ہرگز نہیں تھا۔دوسری جانب سے مظاہرین نے کرپشن کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور کرپٹ وزرا کی برطرفی تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے مطالبات سْن لینا کافی نہیں، مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے پیشے کے لحاظ سے ماہر معیشت وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ برس اکتوبر میں منصب سنبھالا تھا وہ اس سے قبل عبوری حکومت میں وزیرخزانہ بھی رہے اور 2005 سے 2011 تک عراق کے نائب صدر اور 2014 سے 2016 تک وزیر تیل کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔

عراق ہلاکتیں

مزید :

علاقائی -