افغان طالبان دوبارہ مذاکرات کے لئے تیار

افغان طالبان دوبارہ مذاکرات کے لئے تیار

پاکستان کی قیادت اور افغان طالبان نے افغان امن عمل بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، ملّا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے دوحہ وفد کے12رکنی وفد نے جمعرات کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، ملاقات میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔قبل ازیں طالبان وفد نے دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی، جو ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی،جس میں معطل مذاکرات سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی گئی، ملاقات میں پاکستانی حکام اور طالبان نے مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا،جبکہ طالبان نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات پر بھی رضا مندی ظاہر کی، افغان وفد سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں،پاکستان افغانستان میں دیر پا قیام امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا،ہمیں خوشی ہے کہ آج دُنیا افغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے،ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی پر تیار ہوں تاکہ دیرپا اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور ہم اس معاہدے پر آج بھی قائم ہیں،امریکہ مذاکرات میں واپس آئے تو اسے خوش آمدید کہیں گے۔

دوحہ مذاکرات میں نو ادوار مکمل ہو چکے تھے اور ان کی کامیابی کے بارے میں مثبت خبریں آ رہی تھیں کہ صدر ٹرمپ نے اچانک مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کر دیا اور جواز یہ تراشا گیا کہ افغانستان میں ایک امریکی فوجی کو مار دیا گیا۔یہ واقعہ جتنا بھی افسوس ناک ہو،مذاکرات کے التوا یا خاتمے کا جواز اِس لئے نہیں بننا چاہئے تھا کہ طالبان کے ساتھ جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آ ہی جاتا ہے، خود افغان بھی بڑی تعداد میں قتل ہوتے رہے، لیکن اس بنیاد پر طالبان نے مذاکرات ختم یا ملتوی نہیں کئے، اگر اس بنیاد پر مذاکرات ملتوی ہونا ہوتے تو اب تک کئی بار ہو چکے ہوتے،پھر دُنیا جانتی ہے کہ جس طرح افغانستان کے جنگجو میدانِ جنگ میں سخت رویہ رکھتے ہیں وہ مذاکرات کی میز پر بھی نرم چارہ نہیں ہوتے کہ فریق ِ مخالف اُن سے اپنی باتیں منواتا چلا جائے اور وہ صرف اس کے رعب میں آ کر ایسی شرائط بھی مانتے چلے جائیں جو اُن کے موقف کے منافی ہوں، نوعیت کچھ بھی ہو طالبان نے ہمیشہ اپنے اصولی موقف پر قائم رہ کر مذاکرات کئے ہیں یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام،یہ بعد کا مسئلہ ہوتاہے۔اب بھی افغان طالبان کا یہ کہنا ہے کہ اُن کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو رہے تھے اور جو باتیں طے ہوگئی تھیں وہ آج بھی اُن پر نہ صرف قائم ہیں،بلکہ اُن پر دستخط کرنے کے لئے بھی تیار ہیں،لیکن افغان انتظامیہ کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے وہ چاہتی ہے کہ امریکہ اس کے ساتھ بھی برابر کی سطح پر مذاکرات کرے اور طالبان سے ترجیحی سلوک نہ کرے اور طالبان بھی اس کے ساتھ بات چیت کریں،جبکہ طالبان افغان گروپوں کے درمیان تو مذاکرات کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرنے کے لئے تیار ہیں،لیکن افغان حکومت کے بارے میں اُن کا موقف ہے کہ یہ امریکہ کی مسلط کردہ حکومت ہے، جو کسی کی نمائندہ نہیں،افغان عوام بھی اس حکومت کو اپنی نمائندہ حکومت نہیں سمجھتے۔

افغان حکومت طالبان کے اس نقطہ نظر کی حامی نہیں اور بعید نہیں کہ اس نے مذاکرات کے التوا میں کوئی کردار ادا کیا ہو،لیکن معروضی حالت یہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کا دوبارہ انعقاد چاہتا ہے اور یہ جو مذاکرات کی میز دوبارہ سجانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ان کو بھی امریکہ کی حمایت حاصل ہے،اِس لئے محسوس ایسے ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مزاج کے مطابق کسی بات پر غصے میں آ کر مذاکرات یکطرفہ طور پر ملتوی کر دیئے تھے، بعد میں اُنہیں احساس ہوا ہو گا کہ اگر افغانستان سے فوج نکالنی ہے تو مذاکرات بھی ضروری ہیں اور معاہدہ بھی، اِس لئے صدر ٹرمپ نے اپنے مذاکرات کار خلیل زاد کو متحرک کیا، جن کی ملاقاتوں کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور چند روز بعد ہی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں،افغان مذاکرات کے بارے میں ایک بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ ان میں نہ صرف پہلے اُونچ نیچ آتی رہی ہے،اب بھی مذاکرات شروع ہوں گے، تو نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں کوئی مشکل مقام نہیں آئے گا ایسا پھر بھی ہو سکتا ہے،جب تک معاہدہ نہیں ہو جاتا ہے اور سارے فریق اس پر دستخط نہیں کر دیتے اس وقت تک کچھ بھی ہو سکتا ہے،لیکن قرائن تو یہی بتاتے ہیں کہ بالآخر امریکہ بھی معاہدے پر دستخط کر دے گا، کیونکہ صدر ٹرمپ کو اپنی اگلی صدارتی مہم میں اپنی کامیابی کے لئے کوئی نہ کوئی گولی تو بیچنی ہے۔اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو اُن کے بلند باگ دعوؤں پر سوال اُٹھیں گے اور انہوں نے افغانستان میں کامیابی کے جو دعوے بھی کئے تھے اُن کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا کہ وہ کیا ہوئے، امریکہ کی یہ کمزوری طالبان بھی سمجھتے ہیں اور اس سے شاید پورا فائدہ بھی اٹھانا چاہیں اِس لئے مذاکرات کا سلسلہ نہ صرف آگے بڑھتا رہے گا،بلکہ کامیاب بھی ہو گا تاہم صدر ٹرمپ کا مزاج بہرحال کسی نہ کسی طرح اپنا رنگ دکھاتا رہے گا۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس نے پہلے بھی طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں مذاکرات پر آمادہ کیا تھا، اب پھر افغان طالبان کو اس بات پرآمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مذاکرات شروع کریں۔اِس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہئے اور دہشت گردوں کے لئے محفوظ مقامات کی پرانی باتوں کو اب قصہئ ماضی ہو جانا چاہئے۔پاکستان کی کوششوں سے اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو یہ پورے خطے کے لئے اچھا شگون ہو گا اور کئی عشروں کی خونریزی کے بعد خطے میں امن و امان کا نیا سورج طلوع ہو گا،جس کے ساتھ ہی پُرتشدد ایام کی سیاہی سیماب پا ہو جائے گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...