تعلیمی نظام میں بہتری؟

تعلیمی نظام میں بہتری؟
تعلیمی نظام میں بہتری؟

  

وزارت تعلیم کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انگر یزی نظام تعلیم نے معاشرتی تقسیم پیدا کی اسی وجہ سے اردو نظام تعلیم کی اکثر یت اوپر نہیں آسکی۔انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا تعلیمی نصاب ختم کیا۔ عمران خان کے مطابق ایک ہی ملک میں تین قسم کا تعلیمی نصاب بڑی بے انصافی ہے۔ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے گا۔وزیراعظم نے مرض کی درست تشخیص کی ہے۔خاص طور پر تین قسم کا نصاب تعلیم اور اردو اور انگر یزی نظام تعلیم کے بارے میں موقف بالکل درست ہے۔ ایم فل، پی ایچ ڈی اور مقابلے کے امتحانات کا معیار ہر سال گرتا جا رہا ہے اور اس کے بہت سے عوامل ہیں۔ مقابلے کے امتحان کو تو ہم اسلئے مکمل طور پر تعلیمی نظام کو پرکھنے کی کسوٹی قرار نہیں دے سکتے، کیو نکہ مقابلے کے امتحان میں تو ویسے بھی ذہانت سے زیادہ کر دار رٹا لگانے کی ”صلا حیت“ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مقابلے کے امتحانات میں بعض اوقات ذہین اور وسیع مطالعہ امیدوار نا کام ہو جا تے ہیں اور اوسط درجہ کا ذہن رکھنے والے امیدوار رٹے کی ”صلاحتیوں“ کا مظاہرہ کر کے کامیاب ہو جا تے ہیں۔ یہاں پر اس حقیقت کو بھی تسلیم کر نا پڑے گا کہ مقابلے کے امتحان کے ذریعے ریا ست نے اپنی مشینری چلانے کے لئے ایسی ذہنی صلاحیتوں کے افراد ہی لینے ہوتے ہیں جو ”اسٹیٹس کو“ کو برقرار رکھنے کے لئے ریاست کی مدد کر سکیں۔ پا کستان ہی نہیں دنیا بھر میں ریاستوں کی یہی کوشش رہتی ہے کہ اپنی ریا ستی مشینری چلانے کے لئے ”یس سر“ ٹائپ کے افراد کو بیورو کریسی میں شامل کیا جا ئے۔

دنیا کی کوئی بھی ریا ست کسی بھی طور یہ بر داشت نہیں کر سکتی کہ اس کی مشینری ایسے”مفکرین“ چلانا شروع کر دیں جو سوچ اور فکر کے اعتبار سے اتنے بلند ہوں کہ حکمرانوں کی اطاعت ہی نہ کر پا ئیں یوں ہم یہ مانتے ہیں کہ ریاست کے اپنے مخصوص تقاضوں کے باعث مقابلے کے امتحانات میں ”مفکروں“ والا ذہن رکھنے والے کئی امیدوار کا میا ب نہیں ہو پا تے۔ مگران یونیورسٹیوں، کالجوں اور ایسے تعلیمی اداروں کے بارے میں کیا کہیں کہ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ”مفکرین“ تیار کر کے ان کو قوم کی خدمت کے لئے پیش کر نے والے ہیں۔یہ صرف سنی سنائی یا کہیں پڑھی ہو ئی با تیں ہی نہیں ہیں بلکہ مجھے گز شتہ کئی سالوں سے خود کئی یو نی ورسٹیوں اور کالجز میں مختلف موضوعات پر لیکچرز دینے کے مواقع ملتے رہے ہیں۔اس نظام کو دیکھ کر یہ کہنے میں کو ئی عار نہیں سمجھتا کہ ہما را تعلیمی نظام تیزی کے ساتھ زوال پذیری کی طر ف بڑھ رہا ہے۔پرا ئیویٹ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کا بظا ہر مشن کچھ بھی ہو،مگر اصل مقصد صرف پیسہ بنانا ہے، چاہے اس کے لئے اگلی نسلیں فکری طور پر بانجھ ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ ”ایچ ای سی“ نے بھلے ہی اچھے مقاصد کے لئے بہت سی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی اجازت دی ہو، مگر زمینی حقا ئق یہی ہیں کہ ہر چھوٹے، بڑے شہر میں کھمبیوں کی طرح تیزی سے اگنے والے سکول، کالج اور جا معات پاکستانی سماج میں کسی بھی طرح کے سدھار کی بجائے اس سماج کے مستقبل کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

طالب علم اپنے مضامین میں فکری اور تخلیقی مہارت پیدا کرنے کی بجائے صرف ”جی پی اے“ بہتر کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے اساتذہ نے ان کے ذہنوں میں یہ راسخ کر دیا ہے کہ اب روزگار کے حصول کے لئے کسی تخلیقی صلاحیت کی نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ ”جی پی اے“ لانے کی ضرورت ہے۔ کراچی، لاہورسمیت پا کستان کے ہر بڑے شہر میں شا ئد ہی کو ئی ایسا علاقہ ہو جہاں پر ”ایم بی اے“ اور”بی بی اے“ کروانے والے کالجز اور یونی ورسٹیاں موجود نہ ہوں ”ایچ ای سی“ نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھاکہ پا کستان میں 155یونی ورسٹیاں غیر قانونی ہیں اور یہ کروڑوں روپے دیکر اپنا وجود بر قرار رکھے ہوئے ہیں۔اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر وائی جا چکی ہے کہ صرف ”ایم بی اے“ یا اکا ونٹس کے کسی مضمون میں اعلیٰ ڈگریوں سے ہی ان کو روزگار مل سکتا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بینکوں میں اچھی تنخواہ والی اعلی ٰ درجے کی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔اس سب کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نوجوان مہنگے سے مہنگے کالجوں اور جامعات میں داخلے لے رہے ہیں۔ان کا لجوں اور جا معات کا چونکہ بنیادی مقصدہی پیسہ کما نا ہے اس لئے یہ بغیر کسی میرٹ کے ایسے طالب علموں کو بھی ہاتھوں ہاتھ ڈگریاں دے دیتے ہیں جو کسی بھی صورت اس کسوٹی پر پورا نہیں اترتے۔

ایسے طالب علم جب پیسوں کے عوض ڈگریاں لے کر ”مارکیٹ“ میں نوکری لینے آتے ہیں تو کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی یا بڑا ادارہ ان کو نوکری نہیں دیتا جس سے ان نوجوانوں میں فر سٹریشن پیدا ہو تی ہے اور اس فرسٹریشن کے سماج پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں۔یہ بات کوئی بھی سوچنے کو تیار نہیں کہ بڑے بڑے شہروں میں جس تیزی سے پرائیوٹ کالجز اور جا معات ”ایم بھی اے“ یا ”بی بی اے“ تیار کر رہے ہیں تو کیا روزگار کی منڈی میں اتنی کھپت کی گنجائش بھی ہے کہ نہیں؟پرائیویٹ سیکٹرمیں ترقی کے باعث اب سماجی علوم اور ادب کے مضامین میں اعلی ٰ ڈگریوں کی ”روزگار کی منڈی میں“ کوئی خاص وقعت نہیں رہ گئی، کیو نکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں اور بڑے بڑے اداروں کو اپنے منافعوں کے حصول کے لئے اکاونٹس کے شعبے کے ڈگری یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انتہائی مہنگی یونیورسٹیوں سے اکا ونٹس میں اعلیٰ درجے کی ڈگریاں لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں میں لاکھوں روپے کی تنخواہوں پر کام کرنے والے لوگوں سے آپ اگر تھوڑی دیر بھی گفتگو کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان میں سے اکثر افراد ہر طرح کے سماجی، سیاسی اور تاریخی شعور سے بے بہرہ ہیں، کیونکہ ان کے دماغوں میں یہ بات راسخ کر دی گئی ہے کہ اس طرح کے شعور کی اب ”مارکیٹ“ میں کو ئی گنجائش نہیں ہے۔

اسی طرح اگر سماجی علوم جیسے تاریخ، عمرانیات، ابلاغیات، سیاسیات یا ادب کے مضامین میں ایم فل حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کرنے وا لے سکالرز سے با ت چیت کی جا ئے تو شا ید پچاس میں سے ایک سکالر ہی ایسا ہو گا جو اپنے مضمون میں کچھ تخلیق کرنے کا خواہاں ہو گا ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اکثر سکالرز کا مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ”جی پی اے“ حاصل کر کے اپنے ریٹ میں اضافہ کر وایا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ ہما رے ہاں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ شاید ہی کسی شعبے کی حالت قابل رشک ہو،مگر تعلیم اور صحت دو ایسے شعبے ہیں جن میں منا فع کی اندھی ہوس ایک سنگین جرم تسلیم کیا جانا چاہیے۔ مغرب خاص طور پر یورپ کے کئی ممالک کہ جہاں پر سرمایہ داری نظام یا منڈی کی معیشت ہے ایسے ممالک میں بھی ریاست تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خود اتنی زیا دہ سرمایہ کا ری اس لئے کر تی ہے کہ عام شہری بھی تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے فا ئدہ اٹھا سکیں۔ عمران خان صاحب اپنی سیاست کی ابتدا سے ہی تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کی بات کرتے آئے ہیں۔ اب ملک کا وزیراعظم بن کر ان کے ہا تھ میں یہ سنہری موقع ہے کہ وہ پا کستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں۔

مزید :

رائے -کالم -