افغان امن مذاکرات: ایک بار پھر

افغان امن مذاکرات: ایک بار پھر
افغان امن مذاکرات: ایک بار پھر

  

مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے امریکی خواہشات کے مطابق اسے اس دلدل سے نکالنے کے لئے پاکستان ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے بلکہ محور و مرکز بن گیا ہے چاہے تھوڑی دیر کے لئے ہی ایسا ہو لیکن ہمارے لئے ہمارے قومی مفادات کے لئے یہ بہت اہم ہے۔ وسط اکتوبر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان کی حیثیت کا تعین کیا جاناہے اس اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے اور ایک پاک صاف مملکت قرار دے دیا جائے یا اس پر دباؤ قائم رکھا جائے اور گرے لسٹ میں ہی رکھ کر معاملات طے کئے جائیں۔ انڈین آرمی چیف کے بقول تو پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا ویسے یہ ہندو جرنیل کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا حقیقت سے تعلق نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ پاکستان نے ٹاسک فورس کے خدشات دور کرنے کے لئے انکی ہدایات پر عمل درآمد کیا ہے اس حوالے سے ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کی ایسی کاوشوں کو سراھا بھی ہے اس لئے بلیک لسٹ ہونا تو بعید از قیاس ہے ہاں پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے گرے لسٹ کا سٹیٹس برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو سردار داؤد کے دور 1973 سے ہی افغانستان میں ملوث کر دیا گیا تھا افغان حکمرانوں نے پشتونستان کے نعرے کو ہوا دے کر علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی شروع کی تو ذوالفقار علی بھٹو نے کابل سرکار کے مخالفین پروفیسر برھان الدین ربانی اور انجینئر گلبدین حکمت یار کی سرپرستی شروع کردی تھی۔ سردار داؤد پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوئے اور اسطرح معاملات بہتری کی طرف بڑھنے لگے تھے لیکن پھر کابل میں اشتراکی زیادہ فعال ہو گئے اِدھر یہاں بھٹو کے خلاف عوامی تحریک چل نکلی۔ جولائی 77 پاکستان میں بھٹو کا تختہ الٹ کر جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ ادھر 78 میں کابل میں سردار داؤد کا تختہ الٹ دیا گیا انقلاب ثور کے نتیجے میں حفیظ اللہ امین حکمران ہو گئے حتیٰ کہ دسمبر 79 میں اشتراکی افواج براہِ راست افغانستان پر قابض ہو گئیں اور ببرک کارمل کو تخت کابل پر بٹھا دیا گیا۔ پاکستان نے اشتراکیوں کے خلاف افغان عوام کی جدوجہد آزادی کو سپورٹ کیا حتیٰ کہ افغان مجاہدین کی شاندار مقاومت نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اشتراکی افواج ناکام ہو کر واپس لوٹ گئیں پھر عظیم اشتراکی سلطنت ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔اس کے بعد امریکہ نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا۔

افغانستان میں اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو گئی اس خانہ جنگی کے بطن سے طالبان برآمد ہوئے افغانستان میں امن لوٹ آیا لیکن امریکہ کو افغانستان میں طالبان پسند نہ آئے 2001 میں 9/11 ہوا اور امریکہ اپنے لاؤ لشکر سمیت طالبان کے افغانستان پر چڑھ دوڑا طالبان نے اپنے وطن کو حملہ آوروں سے چھڑانے کے لئے جدو جہد شروع کی ناٹو ممالک کے ساتھ ایساف فورسزطالبان کی قوت مزاحمت و مقاومت ختم کرنے کے لئے سالہا سال کوشاں رہیں ہندوکش کے غیور پشتونوں نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیاحتیٰ کہ انہوں نے یہاں سے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا امریکہ نے بھی ایسا ہی کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے لیکن وہ اپنی عالمی قوت کا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتا ہے پاکستان کی اسی حوالے سے اہمیت بڑھ گئی ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز تک لائے طالبان ایک مطالبے پر فوکس ہیں اور وہ ہے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان۔ ان کے لئے باقی معاملات غیر اہم ہیں 2018 میں دوھا مذاکرات پاکستان کی کاوشوں ہی سے ممکن ہوئے تھے اس کے 9 راؤنڈ منعقد ہوئے تھے۔ معاملات حتمی شکل اختیار کر گئے تھے معاہدہ لکھا بھی جا چکا تھا کہ اچانک ٹرمپ ٹویٹ کے معاملات صفر ہو گئے۔ایسا کیوں ہوا؟یہ اب کوئی راز نہیں ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں چار بنیادی ایشو ز زیر بحث تھے امریکی اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا، طالبان کی طرف سے یقین دھانی کہ غیر ملکی ٹروپس کی واپسی کے بعد افغانستان کی سر زمین غیر ملکی د ہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہو گی، جنگ بندی کا اعلان اور افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات۔ طالبان کا فوکس مذاکرات سے پہلے بھی غیر ملکی افواج کے انخلا پر تھا اور مذاکرات کے 9 راؤنڈز کے دوران بھی طالبان اسی نقطے پر مرکوز رہے کہ امریکہ اپنی افواج کے انخلا کے بارے میں اعلان کرے۔ طالبان نے انخلا کے کسی لمبے چوڑے پلان سے بھی بیزاری کا اظہار کیا حتیٰ کہ امریکہ نے 135 دنوں میں اپنے پانچ فوجی اڈے سمیٹنے کا اعلان بھی کیاتھا۔ ویسے تو طالبان کسی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں تھے طالبان 18 سال بندوق کی نالی کے ذریعے میدان جنگ میں دشمن سے پنجہ آزمائی کر چکے ہیں انہوں نے ابھی تک جنگ سے تھک جانے یا کسی قسم کی کمزوری اور کوتاہی کا اظہار نہیں کیا ہے امریکی قیادت پہلے بھی 2016 تک افغانستان سے نکل جانے کا اعلان کر چکی تھی امریکہ کی موجودہ قیادت بھی یہاں سے نکل جانے کا اعلان کر چکی ہے طالبان کو تو کسی قسم کی جلدی نہیں ہے کہ دشمن یہاں سے چلا جائے۔معطل شدہ دو فریقی مذاکرات ایک سال سے دوھا میں جاری تھے۔

طویل مذاکرات کے نو ادوار ہوئے بیان کردہ 4 امور بالخصوص زیر بحث آئے۔ معاملات سست روی کے ساتھ آگے بڑھتے بڑھتے مفاہمت اور مصالحت کے قریب پہنچ چکے تھے امریکی اپنے انخلا کے بارے میں طالبان کی تسلی و تشفی کے مطابق فیصلہ اور اعلان بھی کر چکے تھے۔ طالبان نے امریکیوں کو یقین دھانیاں بھی کروا دی تھیں۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد سیز فائر کے بارے میں بھی معاملات مجوزہ معاہدے کے مسودے میں لکھے جا چکے تھے انٹرا افغان ڈائیلاگ بارے جگہ کا بھی تعین ہو چکا تھا۔ امریکی مذاکراتی لیڈر زلمے خلیل زاد اتفاق شدہ مسودہ لے کر کابل آئے اور اشرف غنی کو دکھایا کہ ”یہ کچھ ہونے جا رہا ہے“ افغان صدر نے اس مجوزہ معاہدے کے مسودے کی کاپی کا مطالبہ کیا تو انکار کر دیا گیا۔ پھر خلیل زاد امریکہ جانے والے تھے، تاکہ امریکی صدر سے اس معاہدے کی منظوری لے سکیں لیکن وہ کابل سے حیران کن طریقے سے دوبارہ دوھا چلے گئے اور طالبان کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے پھر اچانک امریکی صدر کی مذاکرات ختم کرنے کی ٹویٹ سامنے آگئی۔ دنیا امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی دیکھنے کی منتظر تھی یہ بات طے تھی کہ امریکی ایسے ہی افغانستان سے خوار ہو کر نکلیں گے جیسے اشتراکی اور برطانوی افواج یہاں سے نکلی تھیں امریکی ویت نام میں بھی ایسے ہی خوار ہوئے تھے ویت نامیوں نے امریکیوں کا حلیہ بگاڑا تھ

ا لیکن ایک بات اہم ہے کہ ویت نامیوں کے ساتھ روسی و چینی ممدومعاون تھے لیکن طالبان کے ساتھ تو پاکستان بھی نہیں تھا پا کستا نی کمانڈوقیادت نے تو 9/11 کے بعد امریکی قیادت کے ایک ٹیلی فون پر نہ صرف اس کے سارے مطالبے مان لئے اور اپنی دو دھائیوں سے اختیار کردہ افغان پالیسی بیک جنبش قلم تبدیل کردی بلکہ امریکیوں کے لئے اپنی زمین،ہوا اور فضا بھی کھول دی تاکہ وہ یہاں سے افغانوں پر حملہ آور بھی ہو سکیں۔ طالبان نے اپنی آزادی کی جاری جنگ تن تنہا اپنے دست و بازو سے لڑی انہوں نے تن تنہا امریکیوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان ایک فاتح کے طور پر میدان جنگ میں کھڑے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے کہ ورلڈ سپریم پاور کے نمائندے" اُجڈ، جاہل اور دہشت گرد" طالبان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر مذاکرات کر رہے تھے کچھ لوگ اسے امن مذاکرات کہہ رہے ہیں لیکن دراصل یہ مذاکرات امریکی افواج کے انخلا کو " مذاکراتی چھتری" مہیا کرنے کے لئے کئے جا رہے تھے اور اب بھی ایسا ہونے جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ 2020ء کے امریکی انتخابات میں اپنی قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ امریکی سپاہ کو مذاکرات کے ذریعے بچا کر واپس لے آئے ہیں ایک لا حاصل جنگ ختم کر کے واپس آگئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ سب کچھ اچانک کیا ہوا کہ مذاکرات کو حتمی مرحلے پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جب زلمے خلیل زاد کابل سے دوھا طالبان وفد کو امریکی صدر کے ساتھ خفیہ ملاقات کے لئے کیمپ ڈیوڈ لے جانے کے لئے گئے تھے تو طالبان وفد کے ایسی ملاقات سے انکار نے صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی پید اکی امریکی صدر نے خجالت سے بچنے کے لئے " ڈرامائی اعلان" کر کے صورتحال کی تبدیلی کا بتایا۔ اب اچانک زلمے خلیل زاد اور پھر افغان طالبان کے وفد کی پاکستان آمد بھی ایک ڈرامائی وقو عہ ہے یہ سین مذاکرات کے دوبارہ اجراء کا ابتدائیہ نظر آ رہا ہے امریکہ مجبور ہے کہ مذاکرات کر کے یہاں سے نکل جائے افغان صدارتی الیکشن کے بھی مثبت نتائج نظر نہیں آرہے ہیں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے اپنے طور پر اپنی اپنی جیت کا اعلان کر کے مستقبل کی تصویر کشی کر دی ہے ابھی انتخابات کے نتائج آنے میں 2/3 ہفتے لگیں گے ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولنگ کا تناسب بھی انتہائی پست ہے جیتنے کے لئے امیدوار کو 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں ایسی صورتحال میں انتخابات جاری معاملات میں بگاڑ کی نوید سنا رہے ہیں اس لئے امریکہ نے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے دیکھتے ہیں،آگے کیا ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -