27اکتوبر کا معرکہ

27اکتوبر کا معرکہ
27اکتوبر کا معرکہ

  

سب کو پیچھے چھوڑ کر، سب کی تجاویز کو رد کر کے مولانا فضل الرحمن نے تن تنہا27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کر دیا۔آزادی مارچ کے نام پر یہ شبہ اُبھرتا ہے کہ وہ شاید کشمیر کی آزادی کے لئے مارچ کرنے جا رہے ہیں،کیونکہ آج کل اشد ضرورت تو ایسے ہی کسی مارچ کی ہے، جو کشمیریوں کو بھارتی جارحیت کے چنگل سے آزاد کرا سکے…… مگر نہیں صاحب یہ آزادی مارچ مولانا اپنے ہی ملک میں حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔انہوں نے پندرہ لاکھ افراد اسلام آباد میں لانے کا دعویٰ کیا ہے،یعنی اسلام آباد شہر کی آبادی سے بھی زیادہ لوگ وہ اسلام آباد لائیں گے، پھر یہ بھی اعلان فرمایا ہے کہ ہم جانے کے لئے نہیں آئیں،بلکہ وہیں بیٹھ جائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں،کسے پیغام دے رہے ہیں کہ اب بھی بات سُن لو وگرنہ پچھتاؤ گے…… پندرہ لاکھ افراد کو اسلام آباد تک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا اور پھر اسلام آباد میں اُن کے قیام و طعام کا بندوبست کرنا، ایک حیران کن واقعہ ہو گا۔اب ایسے حیران کن واقعہ کے لئے مولانا فضل الرحمن پُرعزم نظر آتے ہیں۔اُن کا مقصد عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہے شاید وہ عمران خان کے ساتھ شخصی ٹکراؤ میں اُلجھ چکے ہیں، کیونکہ انہوں نے بھی انہیں ہر جلسے میں ڈیزل کہہ کر نشانہ بنانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی، حتیٰ کہ امریکہ کے جلسے میں بھی وہ انہیں یاد کرنا نہیں بھولے،مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کسی شخصی جنگ کے لئے ملک کے نظام کو داؤ پر لگایا جا سکتا ہے۔ کیا یہ پتھر کا دور ہے جس میں لاؤ لشکر کے ساتھ چڑھائی کر کے حکمرانِ وقت کو بھگا دیا جائے۔کیا ملک میں آئین و قانون موجود نہیں،کیا جمہوریت اور ادارے کام نہیں کر رہے، پھر مولانا یہ راستہ اختیار کرنے پر بضد کیوں ہیں؟

ہاں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مَیں مذہبی کارڈ استعمال کروں گا۔اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ عمران خان اوپر اوپر سے اسلام کی بات کرتا ہے، اندر سے یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔وہ آسیہ کی رہائی کا حوالہ دیتے ہیں اور قادیانیوں کو نوازنے کا ذکر کرتے ہیں،حالانکہ آسیہ کو تو سپریم کورٹ نے رہا کیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبیؐ ہونے کا ذکر کرتے تو وزیراعظم عمران خان کی زبان نہیں تھکتی،مگر جو مولانا کی بات سنتے ہیں،اُن کے لئے تو سب کچھ مولانا ہی ہیں، وہ ان کی ہر بات پر لبیک کہتے ہیں،انہی لوگوں پر مولانا فضل الرحمن انحصار کر رہے ہیں اور اسی بھروسے پر انہیں یقین ہے کہ وہ پندرہ لاکھ افراد اسلام آباد تک لے جانے میں کامیاب رہیں گے۔سچی بات ہے مولانا فضل الرحمن کے اس اعلان نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔اصل میں وہ بھی دو کشتیوں میں سوار ہیں۔اُن کا دل تو چاہتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو جائے اور نئے انتخابات ہوں،مگر انہیں اِس بات سے ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں مولانا کا یہ ایڈوانچر پورے نظام کی بساط ہی نہ لپیٹ دے۔

پھر وہ اس لیبل سے بھی بچنا چاہتی ہیں کہ انہوں نے سیاسی مقاصد کے لئے مذہبی کارڈ استعمال کیا۔پیپلزپارٹی کا تو ہمیشہ سے یہ تھیسز رہا ہے کہ سیاست اور مذہب کو علیحدہ خانوں میں رکھنا چاہئے۔وہ خود کو ترقی پسند جمہوری سوچ کی مالک جماعت کہتی ہے،اگر مذہب کے ایشو پر کسی تحریک کا وہ حصہ بن جاتی ہے،تو اُس کی سیاست پر داغ لگ جائے گا،جس سے وہ ہر صورت میں بچنا چاہتی ہے۔تاہم اس موقع کو گنوانا بھی نہیں چاہتی جو مولانا فضل الرحمن کی مہم جوئی سے پیدا ہو سکتا ہے اور حکومت یا تو گھٹنے ٹیک سکتی ہے یا پھر اُس کی چھٹی ہو سکتی ہے۔اصل میں یہ دونوں جماعتیں اس کے بعد بھی سوچ رہی ہیں۔اگر مولانا کامیاب ہو جاتے ہیں تو اگلے سیٹ اَپ میں وزارتِ عظمیٰ بھی مانگ سکتے ہیں اور نہ دینے کی صورت میں کسی نئے مارچ کی دھمکی بھی دے سکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن شاید سمجھ رہے ہیں کہ حکومت پھولوں کے ہار لئے جگہ جگہ کھڑی ہوگی اور آزادی مارچ کے شرکاء کا استقبال کرے گی۔میری اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس آزادی مارچ کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے تیاری مکمل کی ہوئی ہے۔جمعیت علمائے اسلام کے سرکردہ رہنماؤں کے نام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو پہنچا دیئے گئے ہیں۔ٹرانسپورٹروں کے لئے پالیسی وضع کر لی گئی ہے۔ اس آزادی مارچ کے لئے کوئی ٹرانسپورٹر بسیں مہیا نہیں کرے گا، ریل گاڑی سے جانے والوں کی بھی سکریننگ کی جائے گی،پرائیویٹ گاڑیوں سے جانے والوں کو بھی اسلام آباد سے بہت پہلے روک لیا جائے گا۔خیبرپختونخوا جو جمعیت علمائے اسلام (ف) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، کے وزیراعلیٰ محمود خان نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ یہاں سے کسی کو اسلام آباد نہیں جانے دیں گے۔اگرچہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اُن کا پلان بی اور سی بھی تیار ہے،تاہم وہ ایک ایسا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں جس کے خدوخال تک واضح نہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب پندرہ لاکھ لوگ ڈی چوک پر موجود ہوں گے، تو کوئی غیبی طاقت ہوا میں تیرتی ہوئی اُس دھرنے میں آئے گی،انہیں خوشخبری سنائے گی اور وہ فتحیاب ہو کر لوٹ آئیں گے۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) اس سارے معاملے میں سلیپنگ پارٹنرز کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، جو صرف منافع میں حصہ دار ہوتا ہے۔وہ مولانا کو چِٹا جواب بھی نہیں دے رہیں اور ساتھ دینے کا واضح اعلان بھی نہیں کر رہیں۔وہ یہ جواء اس شرط پر کھیل رہی ہیں کہ مولانا کا دھرنا کامیاب رہا تو وہ ساتھ دینے کا دعویٰ کر دیں گی،وگرنہ ناکامی کی صورت میں پیچھے سے کھسک جائیں گی۔اگر مولانا کے اس مشن سے کوئی نقصان ہوا، کوئی نظام اُلٹا یا غیر آئینی تبدیلی آئی تو یہ دونوں جماعتیں خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکیں گی،کیونکہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو دو ٹوک جواب نہیں دیا کہ ہم دھرنا نہیں دیں گے اور نہ ہی مذہبی کارڈ کے استعمال کی حمایت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو جو فیصلہ کرنا تھا، کر لیا۔ اب امتحان حکومت کا بھی ہے کہ وہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے تو کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت بلیک میل نہیں ہوں گے،احتساب جاری رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے پاس یہ آپشن نہیں کہ وہ مولانا کو مذاکرات کی دعوت دے سکیں،کیونکہ وہ بلیک میل نہ ہونے کا پہلے ہی کہہ چکے ہیں پھر انہیں معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمن تو صرف یک نکاتی مطالبہ رکھتے ہیں کہ حکومت گھر چلی جائے اور نئے انتخابات ہوں،اس پر کیسے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔سو مولانا فضل الرحمن اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ آزادی مارچ اور دھرنا تو ضرور دیں گے۔ حکومت کی کامیابی یہ ہو گی کہ وہ اپنے حواس برقرار رکھے اور کوئی بڑا انتشار نہ پھیلنے دے۔ ہم نے ملین مارچ کی باتیں بہت سنی ہیں، ایک ہزار کو ایک لاکھ بنا دیا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا جنون بتاتا ہے کہ وہ کشتیاں جلا چکے ہیں، اُن کے پاس واپسی کا راستہ نہیں،انہیں ریاستی طاقت سے روکنا غلطی ہو گی۔حکمت اور دانش مندی سے اس معاملے کو دیکھا گیا تو 27 اکتوبر بغیر کسی نقصان اور تبدیلی کے گذر جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -