کپاس کی پیداوار ہدف میں سرکاری سطح پر غیر معمولی کمی کا فیصلہ 

    کپاس کی پیداوار ہدف میں سرکاری سطح پر غیر معمولی کمی کا فیصلہ 

  

کراچی (این این آئی)پاکستان میں کپاس کے مجموعی ملکی پیداوری ہدف میں سرکاری سطح پر غیر معمولی کمی کا فیصلہ،کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) نے کاٹن ایئر2019-20کے لئے کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ34لاکھ60ہزار بیلز سے کم کر کے نیا پیداواری ہدف صرف ایک کروڑ دو لاکھ بیلز مختص کر دیا،ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے 30سے 35لاکھ بیلز درآمد کرنا پڑ سکتی ہیں۔کاٹن انڈسٹری میں غیر معمولی تشویش کی لہر۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ فیڈرل کاٹن کمیٹی نے  ابتدائی طور پر کاٹن ایئر2019-20 کے لئے کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ34لاکھ60ہزار بیلز مختص کیا تھا جن میں سے پنجاب سے 86لاکھ بیلز،سندھ سے46لاکھ بیلز بلوچستان سے دو لاکھ بیلز جبکہ کہ کے پی کے سے 20ہزار بیلز کا پیداوری ہف مختص کیا گیا تھا لیکن گزشتہ روز سی سی اے سی نے اپنے پہلے اجلاس میں نیا پیداواری ہدف صرف ایک کروڑ دو لاکھ بیلز مختص کیا ہے  جس میں سے پنجاب سے 62لاکھ،سندھ سے 39لاکھ اور بلوچستان سے ایک لاکھ بیلز کا پیداواری ہدف مختص کیا گیا ہے،کاٹن انڈسٹری میں سی سی اے سی کی جانب سے نئے پیداواری ہدف کے باعث سخت تشویش دیکھی جا رہی ہے  اور کہا جا رہا ہے پچھلے کئی سالوں سے حکومتی ادارے زمینی حقائق کی بجائے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے کافی سالوں سے آج تک یہ پیداوری ہدف ہمیشہ کاغذی ثابت ہوئے ہیں جس سے کاٹن اسٹیک ہولڈرز کو اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں ہمیشہ سے مسائل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کپاس سمیت تمام فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں ہر سال غیر معمولی کمی واقع ہو رہی ہے جس کی اہم ترین وجہ محکمہ موسمیات کی جانب سے بر وقت اور درست موسمیاتی پیش گوئیاں نہ ہونا ہے حکومت کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر محکمہ موسمیات کو اپ گریڈ کرے تاکہ بر وقت اور درست موسمیاتی پیش گوئیوں کے باعث کسان بر وقت فیصلے کر سکیں اور پاکستان کی زرعی معیشیت بھی مضبوط ہو سکے۔

مزید :

کامرس -