ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی ملائیشین نیول چیف اور وزیردفاع سے ملاقات

ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی ملائیشین نیول چیف اور وزیردفاع سے ملاقات

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی ملائشیا کے سرکاری دورے پر ہیں۔اپنے دورے کے دوران نیول چیف نے چیف آف رائل ملائشین نیوی اور ملائشیا کے وزیر دفاع سے ملاقات کی۔ کوالا لمپور میں وزارت دفاع آمد پرچیف آف دی رائل ملائشین نیوی ایڈمرل تان سری محمد رضا بن محمد سینی نے ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر نیول چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ ملائشین ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور، دوطرفہ بحری تعاون اورپاک بحریہ اور ملائشین بحریہ کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو مزیدفروغ دینے کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے پر بات چیت کی گئی۔ امیر البحر نے پاک بحریہ کے ریجنل میری ٹائم سیکورٹی پیٹرول (RMSP)  اورخطے میں میری ٹائم سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے پاک بحریہ کے عزم اور کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ رواں سال کراچی میں پاک بحریہ کی میزبانی میں منعقد کی گئی کثیر ملکی میری ٹائم مشق امن 19- میں ملائشین بحریہ کی شرکت پر امیر البحر نے ایڈمرل تان سری محمد کا شکریہ ادا کیا۔ ملائشین نیول چیف نے دونوں بحری افواج  کے مابین مضبوط دو طرفہ بحری تعاون کی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ خطے میں میری ٹائم سیکورٹی کی معاونت اور امن19- مشق کے کامیاب انعقاد پر پاک بحریہ کی کاوشیں اور عزم قابل تعریف ہیں۔ دونوں شخصیات نے دوطرفہ دوروں، بحری مشقوں اورمشترکہ تربیتی پروگرامز کے ذریعے باہمی تعاون میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ چیف آف دی نیول اسٹاف کو رائل ملائشین نیوی کے کردار اورذمہ داریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ بعد ازاں ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے ملائشئن وزیردفاع محمد سابو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ محمد سابو نے خطے میں امن و استحکا م برقرار رکھنے کے لئے مختلف اقدامات اٹھانے پر پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ دونوں شخصیات نے عسکری تعاون کے شعبے میں دو طرفہ تعاون میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔ اپنے دورے کے دوسرے حصہ میں سربراہ پاک بحریہ رائل ملائشین نیوی کے دیگر یونٹس اور فیلڈ کمانڈ ز کا دورہ کریں گے۔ چیف آف دی نیول اسٹاف کے اس دورہ سے دونوں ممالک میں بالعموم اوربحری افواج کے مابین بالخصوص دو طرفہ تعاون میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -