اردو تیسری بڑی زبان،مگر غریب الدیار ہے، مسلم شمیم

اردو تیسری بڑی زبان،مگر غریب الدیار ہے، مسلم شمیم

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ارود دنیا کی تیسری بڑی عالمگیرزبان ہے مگر غریب الدیار ہے، یہ سارے جہاں میں بولی جاتی ہے مگر اسے وہ اہمیت نہیں ملی جس کی یہ مستحق ہے۔ سپریم کورٹ کے 2015 کے فیصلے کے باوجود اس کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا جس کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے ، ان خیالات کا اظہار معروف دانشور ماہر قانون مسلم شمیم نے تحریک نفاذ اردو و صوبائی زبان کی 177ویں شام میں مذاکرہ بعنوان ”نفاذ ارددو کا مقدمہ عوام کی عدالت میں“ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں تحریک نفاذ اردو کے صدر سید نسیم شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم مسلسل مذاکروں ، بیانات ، احتجاج کے ذریعے حکومتی اداروں کو بیدار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ جس قوم کا اپنا قومی بیانیہ نہیں ہوتا وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اردو زبان پورے خطے میں بسنے والے تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لے کرچلی مگر مختلف حکمرانوں نے بیرونی زبانوں کا سہارا لے کر یہاں کے بسنے والوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھی جس کی وجہ سے ایک قومی بیانیہ نہ بن سکا ہمارے دانشوروں کو چاہیے کہ اب وہ قوم کو ایک قومی بیانیہ دیں۔ دانشور نذیر احمد چنا نے کہا کہ سندھ میں محمد ابراہیم جویو، رسول بخش پلیجو اور انہوں نے اردو پر کتب لکھیں مگر افسوس کہ ہمارے ہاں زبانوں کے معاملے کو سیاسی رنگ دیا گیا جس کی وجہ سے صوبائی ، علاقائی زبانیں بھی ترقی نہیں کرسکیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے معروف صحافی انور علی رومی نے بتایا کہ امریکہ میں اردو کی صورتحال بہت بہتر ہے ”پاکستان نیوز“ اردو اخبار اب امریکہ کے 23 شہروں سے شائع ہوتا ہے۔ تحریک کے سرپرست ڈاکٹر مبین اختر نے کہا کہ وہ نفاذ اردو و صوبائی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مذاکرے کی نظامت سلیم احمد ایڈوکیٹ نے کی جبکہ فرحت اﷲ قریشی، عبدالصمد تاجی کے اظہار خیال کے ساتھ معروف شعراءالحاج نعیمی، صدیق راز ایڈوکیٹ ، ڈاکٹر ساجد سلطانہ، شوکت جمال اور خلیل احمد خلیل ایڈوکیٹ نے منظوم اظہار خیال کیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں ارباب علم و دانش نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نفاذ اردو و تمام صوبائی، علاقائی زبانوں کی ترقی و ترویج کےلئے عملی اقدامات کرے۔ 

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -