جے یو آئی(ف) نے حکومت کومشروط مذاکرات کی پیشکش کردی

  جے یو آئی(ف) نے حکومت کومشروط مذاکرات کی پیشکش کردی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ نے حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کردی اور کہا ہے اگر حکومت ختم کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں تو ہی بات ہوسکتی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ ڈی چوک میں دھرنے کے بعد کیا کرنا ہے، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا آپشن بھی زیر غور ہے، ہم کٹھ پتلی حکومت سے بات نہیں کریں گے اور جس کے پاس اختیارات نہیں اس کیساتھ بات کرنے کاکیا فائدہ ، تحریک انصاف سے صرف اسی شرط پر بات ہو سکتی ہے کہ حکومت تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے، ہمارے کارکن اپنا خرچ ساتھ لائیں گے، وہ ممی ڈیڈی یا برگر نہیں بلکہ دال کھا کر بھی زندہ رہ لیں گے۔ دھرنا کتنے دن کا ہوگا یہ طے کرنا باقی ہے تاہم حکومت گرائے بغیر ہم ڈی چوک سے نہیں اٹھیں گے۔دوسری طرف سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف)مولانا فضل الرحمان آج دن11 بجے پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور وزیرخارجہ کی آزادی مارچ ملتوی کرنے اور وزیراعلی خیبرپختونخوا کی دھمکیوں کا جواب دیں گے۔قبل اذیں جمعیت علمائے اسلام (ف)نے آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی حکومتی اپیل مسترد کردی۔جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ستائیس اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا وزیر خارجہ کو ستائیس اکتوبر کی تاریخ پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ شیخ رشید ہر دور میں پارٹیاں بدلتے ہیں ان کی بات پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے،اسلام آباد میں فقید المثال دھرنا ہوگا اور جو جماعتیں ہمارا ساتھ نہیں دیں گی عوامی نفرت کا رخ ان کی طرف ہوجائے گا۔

آزادی مارچ

جے یوآئی پیشکش

مزید :

صفحہ اول -