مولان نے مذہبی کارڈ استعمال کیا تو مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے: بلاول بھٹو

مولان نے مذہبی کارڈ استعمال کیا تو مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے: بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انشااللہ ہماری دعائیں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہیں، حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں، تمام جمہوری پارٹیوں کو اب مل کر عملی جدوجہد کرنا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں آصف علی زرداری سے بلاول بھٹو نے ملاقات میں اہم امور پر مشاورت کی۔آصف علی زرداری اور فریال تالپور سے آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما وں نے ملاقاتیں کیں۔بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر، شیری رحمان ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر بلاول نے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، اس دوران اہم امور پر مشاورت بھی ہوئی۔احتساب عدالت سے واپسی کے موقع پر صحافی نے سوال کیا مولانا فضل الرحمان نے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کردیا ہے،اس پر آپ کا کیا کہنا ہے، آصف علی زرداری نے جواب دیا، انشااللہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں جبکہ حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں، تمام جمہوری پارٹیوں کو اب مل کر عملی جدوجہد کرنا ہو گی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولاناکے مارچ میں مذہبی کارڈ استعمال ہوا تو وہ مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے، مذہبی کارڈ استعمال نہ ہوا تو پیپلز پارٹی دھرنے کے علاوہ ہر سطح پر مولانا کا ساتھ دے گی اور اگر کسی وقت شک ہوا کہ مولانا کسی قوت کے اشارے پر ہیں تو اپنی حمایت واپس لے لیں گے، ہم ہر جمہوری معاملے میں مولانا کا ساتھ دیں گے ہمارا اختلاف دھرنے پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت میں کاروباری لوگ اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ مسائل کے حل کیلئے آرمی چیف کے پاس چلے گئے ہیں تاہم آئین اور قانون کے مطابق جس ادارے کی جو حدود بنتی ہے اس میں رہ کر اپنا کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمینٹ کو غیر فعال کر دیا لیکن پیپلز پارٹی اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اورہم کسی بھی صورت میں جمہوریت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت انتقام کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین یہاں تک کہ خواتین کو بھی جیل میں ڈال دیا، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر لاکھوں لوگ بیروزگار کر دیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، گھر بنانے کا وعدہ کر کے لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی کتنی مدد کر سکتے ہیں، اس حوالے سے مشاورت کیلئے پیپلزپارٹی نے اجلاس بلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہے دھاندلی زدہ حکومت گھر جائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری نے اپنے اصولوں اور نظرئیے پر سمجھوتہ نہیں کیا، ایک سال بعد بھی صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہوسکا، ثبوت ہے نہ کوئی کیس، صرف ڈیڑھ ارب کا الزام ہے، حکومت کے پاس آصف زرداری کیخلاف کوئی ثبوت نہیں، آصف زرداری پہلے بھی بغیر قصور 11 سال جیل میں رہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا ہم پر بھی کارکنوں کا دباؤ ہے، عوام تنگ آچکے ہیں،معاشی چیلنجز کا مقابلہ پیپلزپارٹی ہی کرسکتی ہے، حکمران پارلیمینٹ فعال نہیں کریں گے تو ہم بھی سڑکوں پر ہوں گے، اپوزیشن کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، قانون کی بالادستی کی بات کرنیوالے نے بنا کسی جرم لوگوں کو جیل میں ڈالا، پیپلزپارٹی دباؤ کے باوجود18ویں ترمیم پر سمجھوتہ کیلئے تیار نہیں، عوام کی معاشی مشکلات کی بات کریں گے، کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

آصف زرداری/بلاول

مزید :

صفحہ اول -