مقبوضہ کشمیر،کرفیوکو 60روز مکمل، مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان بھر میں مظاہرے، وادی کے 55دیہاتوں میں 27سو اجتماعی قبریں دریافت

مقبوضہ کشمیر،کرفیوکو 60روز مکمل، مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان بھر میں مظاہرے، ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں فوجی محاصرے اور مواصلاتی پابندیوں کو 60روز مکمل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کشمیری عوام کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔بھارتی مظالم کیخلاف مقبوضہ وادی سمیت پاکستانی کشمیریوں کی آواز بن گئے۔ شہر شہر بھارت کیخلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ ننکانہ صاحب، جھنگ، اوچ شریف، خانپور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں۔ان ریلیوں میں مختلف مکتب فکر کے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکا مودی سرکار کیخلاف نعرے لگاتے رہے۔ ڈیرہ بگٹی اور اور پیر کوہ میں سینکڑوں افراد نے کشمیر میں بھارتی ظلم وجبر کیخلاف احتجاج کیا۔ شرکا نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وادی میں مظالم پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔حیدر آباد میں ہندو کمیونٹی نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔ شرکا نے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پرزور مذمت کی۔کشمیری بچوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے بنوں میں طلبہ نے مظاہرہ کیا۔ کشمیری لباس زیب تن کئے بچے کشمیریوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ادھر بھارت کی قابض فوج نے شہریوں کو مسلسل 9ویں نماز جمعہ ادا نہ کر دی۔مطابق نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سخت سکیورٹی کے باوجود احتجاج کیا، اس احتجاج کے باعث بھارتی قابض فوج بے بس ہو کر رہ گئی، یہ احتجاج سرینگر، بڈگام، گندربل، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام، شوپیاں، بانڈی پورہ، بارہمولا، کپواڑہ سمیت دیگر علاقوں میں زبردست احتجاج کیا گیا۔نوجوانوں کی بڑی تعداد احتجاج کے دوران ہند مخالف اور ا?زادی کے حق میں نعرے لگاتی رہی۔ اس دوران قابض فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے متعدد نوجوان زخمی بھی ہوئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی قابض سرکار کی طرف سے مساجد بند رکھی گئیں، بند ہونیوالی مساجد میں سرینگر کی تاریخی جامعہ مسجد، درگاہ حضرت بل، دستگیر صاحب اور چرار شریف کو بند رکھا گیا، مساجد بند ہونے کے باعث شہریوں کو مسلسل 9 ویں نماز جمعہ ادا نہ کر دی گئی۔اْدھر بھارتی قابض پولیس نے مزید چار حریت رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں مذہبی سکالر بھی شامل ہیں۔ نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء نے ایک تقریب کے دوران جس میں بھارتی وزیر جتندرا سنگھ بھی شریک تھے دفعہ370جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیا۔ برطانوی ہفت روزہ دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ بھارتی عدلیہ مقبوضہ کشمیر میں حکومت کے مظالم نظراندازکررہی ہے۔ اخبار نے اپنے مضمون میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے 70لاکھ سے زائد عوام چاہتے ہیں کہ عدلیہ کشمیرمیں حکومتی اقدامات کیخلاف دائر درخواستوں پر فوری فیصلے کرے کیونکہ انہیں 5 اگست سے مشکلات کاسامنا ہے اور وہ مسلسل محاصرے میں ہیں۔ اکانو مسٹ نے لکھاکہ بی جے پی کی سربراہی میں حکومت نے مقبوضہ علاقے کو ایک کھلے حراستی مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔اکانومسٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے کالے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے سیاستدانوں، تاجروں،کارکنوں اور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا تاکہ انہیں احتجاج سے روکا جاسکے جبکہ انہیں کسی الزام کے بغیر نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

مقبوضہ وادی

سرینگر،اسلام آباد،نئی دہلی،لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالت ا نصاف(آئی پی ٹی کے)نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں 55دیہات میں کی جانیوالے کھدائی کے دوران 2700قبریں دریافت ہوئی ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم جاری ہیں اور اندازوں کے مطابق 70ہزار سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ 8000افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی جارحیت کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے بھارتی فورسز اپنی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد بسا اوقات ان کی نعشیں ورثا کے سپرد کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور انہیں تجہیز و تکفین کے بغیر دفنا دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کمیشن نے ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی انسانی حقوق کے محافظوں نے اطلاع دی ہے کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں جہاں کم از کم2900افراد کو دفن کیا گیا ہے۔دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالت انصاف(آئی پی ٹی کے)نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں بانڈی پورہ، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے 55دیہات میں کی جانیوالی کھدائی کے دوران 2700قبریں دریافت ہوئی ہیں اور ان قبروں میں کم از کم2900افراد کی لاشو ں تک رسائی حاصل کرنے سے آگاہ کیا ہے۔ اس این جی او نے ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن نے تنظیم سے اس واقعے کی چھان بین کرنے میں مددگار ہونے، اجتماعی قبروں کی تلاش پر مشتمل رپورٹ، جموں و کشمیر کی ریاستی انتظامیہ کے سابق وزیر اعظم عمر عبداللہ اور ہندوستانی حکومت کے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے۔آئی پی ٹی کے کی بانی آنگنا چیترجی نے کہا ہے کہ شناخت شدہ 2ہزار 700قبروں میں سے 2ہزار 373گمنام، 154قبروں میں 2سو لاشیں، 23قبروں میں 3سے 17لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں اب تک 8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، باندی پورہ اور کپواڑہ سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 7000 سے زائد بے شناخت اور اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ فروری میں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ یافتہ کارکن پرویز امروز کی سربراہی میں تنظیم والدین لاپتہ افراد کے وکلا کو اجتماعی قبروں کے مقامات پر جانے کی ممانعت کر دی گئی۔جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد اور تنظیم برائے والدین لاپتہ افراد کی مشترکہ رپورٹ میں سن 2018 میں رونما ہونے والے حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ روزمرہ کامعمول بن چکا ہے۔

گمنام قبریں

مزید :

صفحہ اول -