ترکی میں ساڑھے 5 ہزار سال پرانی لاش برآمد، دیکھ کر سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

ترکی میں ساڑھے 5 ہزار سال پرانی لاش برآمد، دیکھ کر سائنسدان بھی دنگ رہ گئے
ترکی میں ساڑھے 5 ہزار سال پرانی لاش برآمد، دیکھ کر سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں گزشتہ دنوں 5700سال پرانی ایک انسان کی باقیات دریافت ہوئیں ہیں جنہیں دیکھ کر ماہرین آثارقدیمہ بھی ہکا بکا رہ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ حیران کن دریافت مشرقی ترکی کے قدیم ترین شہر مالتیا (Malatya) کے تاریخی مقام ’ارسلان طیب ماﺅنڈ‘ سے ہوئی ہے۔ یہ دراصل ایک 6سالہ بچے کی باقیات ہیں جو تانبے کے دور میں زندہ تھا اور لگ بھگ 4ہزار سال قبل مسیح میں اس کی موت واقع ہوئی۔

سائنسدان تاحال اس بچے کی موت کی وجہ کا پتا نہیں چلا سکے تاہم جس ’پوز‘میں اس کی باقیات پڑی ملیں، اس سے ماہرین آثار قدیمہ اور سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ممکنہ طور پر اس بچے کی موت کسی بیماری یا زخمی ہونے کی صورت میں ہوئی ہے کیونکہ اس کی باقیات میں یہ بچہ ایک کروٹ لیٹا ہوتا ہے اور اس نے اپنے گھٹنے سمیٹ کر سینے کی طرف کیے ہوتے ہیں، جیسا کہ عموماً شدید تکلیف کی حالت میں آج کے انسان بھی کرتے ہیں۔

جس جگہ سے بچے کی باقیات دریافت ہوئی ہیں وہ اپنی کئی ہزار سالہ تاریخ کے باعث یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ اس جگہ کھدائی کرنے والی ٹیم کی سربراہ اور یونیورسٹی آف روم کی پروفیسر ڈاکٹر مارسیلی فراجپینی کا کہنا تھا کہ ” ہمیں بچے کی باقیات کے سینے اور بازوﺅں کے پاس سے موتی بھی ملے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ کسی امیر گھر کا تھا۔ یہ باقیات تجزئیے کے لیے لیبارٹری بھیجی جائیں گے تاکہ اس کے متعلق معلومات حاصل ہو سکیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -