بس چلانے والا وہ پاکستانی جو اربوں ڈالر کا مالک بن گیا

بس چلانے والا وہ پاکستانی جو اربوں ڈالر کا مالک بن گیا
بس چلانے والا وہ پاکستانی جو اربوں ڈالر کا مالک بن گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور ایسی بے مثال کامیابیاں سمیٹیں کہ دنیا کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ سر انور پرویز نامی پاکستانی نژاد برطانوی ارب پتی شخص کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ ڈیلی ڈان کے مطابق سرانور پرویز راولپنڈی کے رہائشی تھے۔ وہ 1950ءکی دہائی میں روزگار کے لیے برطانیہ گئے اور وہاں بس کنڈکٹرکی نوکری کر لی اور کچھ عرصے بعد بس ڈرائیور بن گئے۔ سر انور پرویز کڑی محنت کرتے اور بچت کرتے رہے تاکہ اپنے خاندان والوں کو برطانیہ اپنے پاس بلوا سکیں۔ 1960ءکی دہائی تک وہ اپنے پورے خاندان کو برطانیہ اپنے پاس لا چکے تھے۔ جب خاندان کے تمام لوگ برطانیہ پہنچ گئے اور سب نے کمانا شروع کر دیا تو کافی بچت ہونے لگی اور 1963ءمیں اتنی رقم جمع ہو گئی کہ سرانور پرویز نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

سرانور پرویز نے ارلز کورٹ میں ایک ریٹیل سٹور کھولا، جس میں خاص طور پر مسالہ اور حلال گوشت فروخت کیا جاتا تھا۔ 1970ءکی دہائی میں انہوں نےایک کمپنی بنا لی اور کئی جنرل فوڈ سٹورز کھولے۔ 1976 میں اس کمپنی نے ہول سیل کا کام شروع کر دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کمپنی نے اپنے پہلے کیش اینڈ کیری ویئرہاﺅس کا افتتاح کیا۔ آج وہ ’بیسٹ وے گروپ‘ کے مالک ہیں اور ان کے اثاثے اربوں ڈالرز میں ہیں۔ ان کا نام امیر ترین ایشیائی افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ان کا گروپ اب ہول سیل سے بڑھ کر سیمنٹ، فارمیسی اور بینکنگ سیکٹرز میں بھی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

سر انور پرویز نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”جب میں پاکستان سے آیا تو خالی ہاتھ تھا۔ پاکستان میں جب میں نے میٹرک کیا تو میرے والدین کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ وہ مجھے کالج بھیج سکتے۔ چنانچہ میں نے میٹرک کے بعد وہیں 96روپے مہینہ تنخواہ پر ٹیلیفون آپریٹر کی نوکری کر لی۔ اس وقت ملیریا کی وباءبہت عام ہوا کرتی تھی اور گھر کا کوئی نہ کوئی فرد اس وباءکا شکار رہتا اور میری تنخواہ کا زیادہ تر حصہ ملیریا کی دوائیوں پر خرچ ہوتا تھا۔ وہاں کچھ ایسے حالات تھے کہ اگر میں پاکستان میں ہی رہتا تو اب تک مر چکا ہوتا۔“ 1999ءمیں ملکہ برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب اور خصوصی اعزاز پانے والے سر انور پرویز کا کہنا تھا کہ ”برطانیہ میں آنے کے بعد جو ابتدائی سال میں نے گزارے وہ آج بھی میری زندگی کا بہترین حصہ ہیں اور میں اس وقت کو بہت یاد کرتا ہوں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -برطانیہ -