ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کا اجلاس، پولیس اصلاحات کے تناظر میں جاری پیشرفت پر غور

ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کا اجلاس، پولیس اصلاحات کے تناظر میں جاری پیشرفت پر غور
ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کا اجلاس، پولیس اصلاحات کے تناظر میں جاری پیشرفت پر غور

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کی لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں پولیس اصلاحات کے تناظر میں جاری پیشرفت پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں بعض ریٹائرڈ پولیس افسران کی جانب سے ڈی ایم جی اور پی اے ایس کیڈر کے افسران پر کی جانے والی تنقید اور میڈیا کو دیے گئے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔

ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کے اجلاس میں غیر ضروری تنقید اور ایک خاص گروپ کو نشانہ بنائے جانے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا گیااور کہا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے پالیسی بنانا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے اوربیورو کریٹس اس میں اپنے تجربے کے ساتھ حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔بیورو کریٹس کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو اعلیٰ سطح پر پرکھا جاتا ہے، اس معاملے میں بیوروکریٹس کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز کی کمیٹی ایک تھنک ٹینک کا کام کرر ہی ہے جو پبلک پالیسی میں ریسرچ کرتی ہے۔

پولیس آرڈر 2002 حکومت کی جانب سے نافذ کیا گیا تھا اور اس میں حکومت ہی وقتاً فوقتاً ترامیم کرتی رہی ہے، کوئی بھی سول سرونٹ اس میں اپنی مرضی کے مطابق نہ تو تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ ہی حکومت انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ کسی بھی کیڈر کے پبلک سرونٹس کو ہر طرح کے حالات میں سول سرونٹس ایکٹ کے تحت ایک پریشر گروپ کے طور پر کام  نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان سے اپنا کام ایمانداری کے ساتھ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض اقدامات پر سابق پولیس افسران نے تنقید کی تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ انگریز دور کی طرح پولیس کو بیوروکریسی کے انڈر کردیا جائے جس کی حاضر سروس پولیس افسران کی جانب سے بھی مخالفت کی گئی تھی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -