تجزیہ کار مظہر عباس نے عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد حکومت کی کشمیر پالیسی پر سوال اٹھا دیا

تجزیہ کار مظہر عباس نے عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد حکومت کی کشمیر پالیسی ...
تجزیہ کار مظہر عباس نے عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد حکومت کی کشمیر پالیسی پر سوال اٹھا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کا ر مظہر عباس نے کہاہے کہ عمران خان کے دورے کے بعد کشمیر کے معاملے پر ہماری کیا حکمت عملی رہی ہے؟ کوئی ایک ملک دکھادیں جس نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہماری حمایت کی ہے۔

جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے عمران خان کے دورے کے بعد ہماری کیا حکمت عملی رہی ہے؟کوئی ایک ملک دکھادیں جس نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہماری حمایت کی ہے سوائے ان تین چار ملکوں کوچھوڑ کر جو پہلے بھی ہماری حمایت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی سے عمران خان کی تقریر کے بعد فالو اپ کیاہے ؟ ہماری غیر سنجیدگی کودیکھ کر دنیا کبھی سنجیدہ نہیں ہوگی ، ہمارا غیر سنجیدہ رویہ ہوتاہے، سنجیدگی صرف تقریر سے نہیں ہوتی ، سنجیدگی کے لئے عمل بھی دکھانا پڑتا ہے ۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ صرف عمران خان کشمیر کی آواز نہیں ہیں ، پورا پاکستان کشمیر کی آواز ہے ، اگر وزیر اعظم پورے پاکستان کوکشمیر کی آواز بناتے تو امریکہ سے آنے کے بعد اپوزیشن کو بلاتے اور ان سے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جو کشمیریوں کے لئے آواز بلند کررہی ہیں تو اس میں عمران خان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ تو مودی کی وجہ سے ہواہے جس نے پانچ اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -