الزامات کی سیاست، پاک فوج اور وزیر اعظم

الزامات کی سیاست، پاک فوج اور وزیر اعظم
الزامات کی سیاست، پاک فوج اور وزیر اعظم

  

بالا دست اور مقتدر قوتوں اور اپنے اکابرین کے بارے میں، میں ہمیشہ حسنِ ظن رکھتا ہوں مگر باب العلم حضرت علی ؑ کرم اللہ وجہہ کا ارشاد مبارک ”الحزم سوِئ الّظن“ بھی ہمیشہ حرضِ جاں رہا ہے اور میں اس تجزیے پر بھی کامل یقین رکھتا ہوں کہ حکمران ہمیشہ ایک خاص مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کا ذہنی میلان اور افتادِ طبع بھی رائے عامہ سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ یہ امور و معاملات کو بھی ایک خاص عینک اور زاوئیے سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں گویا خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو دامِ ہمرنگِ زمیں میں لانے کے فن میں بھی یکتائے روز گار ہوتے ہیں۔ انہیں رائے عامہ کو اپنے پیچھے لگانے کا بھی خاص ملکہ حاصل ہوتا ہے لیکن سچی بات ہے کہ عوام اتنے گئے گزرے اور اس قدر کوڑھ مغز بھی ہر گز نہیں ہوتے جو اس طرزِ عمل او ر رویوں پر اپنی آنکھیں اور دل و دماغ کے دریچے یکسر بند کئے بیٹھے ہوں کیونکہ آپ کچھ وقت کیلئے تو کسی کو بھی بیوقوف بنا سکتے ہیں مگر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اچھی بھلی جنتا کو بیوقوف بنائے رکھنا اچھا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ وہ بعض مصلحتوں یا ترغیب و تحریص یا دوسرے لفظوں میں گاجر اور چھڑی دیکھ کر تو شاید لبوں پر تالے ڈال لیں لیکن ہوش و حواس میں رہتے ہوئے حکمرانوں کے روا رکھے جانے والے رویوں پر تعریف و توصیف کے بگل نہیں بجا سکتے او رداد و تحسین کے ڈونگرے نہیں برسا سکتے۔ البتہ حکمران اپنے دل میں یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ ان کے ہر اٹھائے جانے والے اقدام کو سراہا جائے۔ 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے ہاں الزامات اور جوابی الزامات کی لہر کبھی نیچے نہیں آئی بلکہ ہمیشہ اوپر ہی رہی ہے۔ ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملاحظہ کیجئے دو تین روز قبل وزیر اعظم عمران خان کا ایک پرائیویٹ چینل کو دیا جانے والا انٹرویو جو ریکارڈ کا حصہ بھی بن چکا ہے جس میں انہوں نے میاں محمد نواز شریف پر بھارتی مدد حاصل ہونے کا الزام عائد کیا ہے نیز یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف خطر ناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک مرحلے پر تو وہ اس قدر جذباتی ہو گئے کہ توڑ پھوڑ ہوئی تو سب کو جیلوں میں ڈالنے کی بڑھک بھی لگا دی۔ ایسا یقینا وہ کر سکتے ہیں کیونکہ معزز عدالتیں، نیب اور افواج پاکستان سبھی ایک پیج پر ہیں لیکن انہیں یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ واحد وزیر اعظم ہیں جو کسی فوج کی سرپرستی میں نہیں پلے بڑھے۔ لیکن میرا استدلال اس حوالے سے یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک کسی کے لیے بھی کسی نہ کسی سطح پر کسی نہ کسی انداز میں کسی نہ کسی زاویے اور حوالے سے پاک فوج کے ادارے کے تعاون کا حصول اور اس کی تائید کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو صاحب کی زبان فیلڈ مارشل ایوب خان کو ڈیڈی ڈیڈی کہتے نہیں تھکتی تھی۔ میاں محمد نواز شریف کو 80 کے عشرے کے اوائل کے سالوں تک کوئی نہیں جانتا تھا۔

پھر صدر ضیاء الحق کی چشم التفات ان پر پڑ گئی اور صدر ضیاء الحق تو میاں صاحب پر اس قدر مہربان ہوئے کہ وہ اپنے صاحبزادوں کی بجائے اپنی عمر بھی میاں محمد نواز شریف کو لگ جانے کی دعائیں دیتے رہے اور وہ دعا اس درجہ قبول ہوئی کہ ان کی رحلت کے 32 سال بعد بھی میاں صاحب ماشاء اللہ بقیدِ حیات ہیں۔ اسی طرح محترمہ بینظیر بھٹو بھی اپنے بعض تحفظات کے باوجود پاک فوج کے سربراہ کو تمغہئ جمہوریت سے سرفراز کرتے دکھائی دیتی ہیں او ر تو اور چوہدری برادران بھی ہمیشہ اسی ادارے کے سائے تلے پناہ حاصل کر کے سکون محسوس کرتے ہیں اور جنر ل پرویز مشرف کا قریب قریب سارا دور اس حقیقت کا گواہ ہے۔ اس حوالے سے صدر آصف علی زرداری بھی کسی سے پیچھے بھلا کیوں رہتے۔ انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال تک توسیع دے کر ادارے کا قرب حاصل کیا اور اپنی مدت مکمل کی لیکن بعد میں اس ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دے کر باہر یاترا پر چلے گئے اور تب تک واپس نہیں آئے جب تک جنرل راحیل شریف ریٹائر ہو کر گھر نہیں چلے گئے۔ 

بھلا اس دوڑ بلکہ میرا تھن ریس میں عمران خان کیسے پیچھے رہتے انہوں نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دے کر گویا حقِ نمک ادا کر دیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بیس بائیس سال کی ریاضت کے باوجود 2013 کے عام انتخابات میں دو تین نشستوں سے زائد سیٹیں حاصل نہیں کر سکے تھے لیکن یک بہ یک 2018 کے انتخابات میں وہ حکومت بنانے کے قابل ہو گئے لیکن وہ اس تاثر کو زائل کرنے میں یکسر ناکام رہے کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات کی رات جب نتائج آنا شروع ہوئے تو ایک وقت ان کو دو تین گھنٹوں تک کے لئے موخر کیوں کر دیا گیا اور بہانہ کسی تکنیکی خرابی کا سامنے آ گیا۔ غور و فکر اور سوچنے سمجھنے والوں کی نظر میں اس رات انتخابات کے نتائج کا موخر کیا جانا ہی وہ بِس کی گانٹھ ہے جس کی کسک آج تک محسوس کی جا رہی ہے اور جو بد قسمتی سے کھلنے میں بھی نہیں آ رہی لیکن مقام اطمینان ہے کہ پاک فوج کا ادارہ اپنی زبان بنداور ملک میں موجود مطلع سیاست اور منظر نامے پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے اور 12 اکتوبر 1999 کے بعد خود کو سیاسی آلائشوں سے پاک رکھے ہوئے ہے تو اس کی تحسین ہی کی جانی چاہیے نہ کہ اسے اقتدار پر شب خون مارنے کے مواقع اپنے ہاتھوں فراہم کرنے چاہئیں لیکن یہ کام ہماری حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں خوب خوب انجام دیتے دکھائی دے رہی ہیں۔ عمرا ن خان خود اس کھیل کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں جو کھیل بقول وزیر اعظم عمران خان میاں محمد نواز شریف کھیل رہے ہیں۔

بھارت سے مدد کے حصول کا الزام عائد کرنا آسان جبکہ اسے ثابت کرنا اسی طرح مشکل بلکہ نا ممکن ہے جس طرح کا الزام ماضی میں جناب وزیر اعظم پر اپنے برادرِ نسبتی اور ان کی سابق بیوی جمائما خان کے بھائی کی لندن میں انتخابی مہم اور چندے وصول کرنے کے حوالے سے عائد ہوتا رہا تھا۔لہٰذا الزامی اور جوابی الزامی سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملک و قوم کو ریلیف فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے اگر دیوار برلن ٹوٹ سکتی ہے تو مخالفین کو بند گلی کے سر پر موجود دیوار بھی لوہے یا کسی مضبوط دھات سے بنی ہوئی نہیں جسے توڑنا مشکل ہو۔ لہٰذا اپنے مخالفین کو یہاں تک نہ پہنچایا جائے۔ میں اپنے بڑے بھائی بزرگ اور سینئر موسٹ اخبار نویس کے اس تجزیئے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ چوہدری خادم حسین جمعرات کے روز ”روزنامہ پاکستان“میں اپنے شائع ہونے والے کالم کے آخر میں لکھتے ہیں کہ حزب اختلاف بکھری ہوئی ضرور ہے لیکن حزب اقتدار کی طرف سے اسے دیوار کے ساتھ دھکیلنے کا سلسلہ جاری رہا تو یقینا یہ اتحاد بن جائے گا اور تحریک بھی چلے گی اور اگر 11 اکتوبر کو یہ سلسلہ شروع ہوا تو پھر ایک روز بھوکے لوگ بھی اس تحریک کا حصہ ہوں گے۔ پھر کیا ہو گا یہ کوئی بھی نہیں جانتا۔ 

مزید :

رائے -کالم -