”پنڈورا پیپرز“ کے ملزمان

”پنڈورا پیپرز“ کے ملزمان

  

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ”پنڈورا پیپرز“ میں جن پاکستانیوں کے نام آئے ہیں، ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ  اشرافیہ کی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی ہوئی دولت کو ایکسپوز کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی دو عشروں کو محیط جدوجہد اسی نکتے کے گرد گھومتی ہے کہ کرپشن غربت کا سبب بنتی ہے۔  پنڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں، اگر ان میں سے کسی کے خلاف بھی کرپشن ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ماحولیاتی آلودگی کی طرح اس آلودگی کے خلاف بھی آواز اٹھائے۔ یاد رہے پاناما لیکس سے بڑے پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زیادہ ان پاکستانیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جو بیرون ملک دولت (یااثاثوں) کے مالک ہیں۔ ان میں وفاقی وزراء، سیاستدان، سابق فوجی افسر اور بزنس مین بھی شامل ہیں۔90ممالک کی 330 بااثر شخصیات کے نام اس فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اثاثہ جات حاصل کر رکھے ہیں۔ پاناما لیکس کو منظر عام پر لانے والی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم آئی سی آئی جے (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس) ہی نے تازہ ترین  پنڈورا باکس بھی کھولا ہے، بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیقات دو سال میں مکمل کی گئیں، جن میں 117ممالک کے 150 میڈیا اداروں کے 600صحافیوں نے معاونت کی۔ تازہ لیکس ایک کروڑ 19لاکھ فائلوں پر مشتمل ہیں، ان میں 200سے زائد ملکوں کی انیس ہزار آف شور کمپنیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔اس سے پہلے پاناما پیپرز نے بھی تہلکہ مچایا تھا، وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ان کے نام سامنے آئے تو پاکستان میں ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وزیراعظم نوازشریف کے مخالفین نے آسمان سر پر اٹھا لیا، سپریم کورٹ میں درخواستیں داغی گئیں اور بالآخر وزیراعظم نوازشریف کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کے بیٹوں کے کاروباری معاملات کو ان سے جوڑ دیا گیا اور اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا کہ نوازشریف کے والد میاں محمد شریف پاکستان کے ایک انتہائی ممتاز صنعتکار تھے، ان سے براہِ راست وسائل ان کے پوتوں کو منتقل کئے جا سکتے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے بھی اپنے آپ کو لہروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلاکہ نوازشریف اقتدار کے خاتمے کے بعد ان چار سو افراد کی یاد کسی کو نہیں آئی جن کے نام پاناما پیپرز میں لئے گئے تھے، سیاسی اور حکومتی محاذ پر بھی خاموشی چھا گئی  اور عدالتی محاذ پر بھی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

”پنڈورا پیپرز“ سے بھی اس حوالے سے بڑی امیدیں لگائی گئی تھیں، دنیا بھر میں تو جو کچھ ہو اور مختلف ممالک اپنے ان حکمرانوں اور ذمہ داروں کے ساتھ جو بھی کریں، پاکستان میں توقع قائم کی جا رہی تھی کہ ایک بار پھر برج الٹے جائیں گے۔ دھماچوکڑی مچے گی اور زیر سے زبر ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے گھر کے پتے (2زمان پارک لاہور) پر ”آف شور کمپنی“ کی رجسٹریشن بھی ڈھونڈ لی گئی تھی لیکن وزیراعظم کے معاونین نے فوراً جانچ پڑتال کی اور ان صاحب کا پتہ چلا لیا جو مذکورہ آف شور کمپنیوں کے مالک تھے اور جن کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مکانوں کی الٹی نمبر شماری میں ان کا پتہ 2زمان پارک ہو گیا تھا، جبکہ سیدھی نمبرشماری میں یہ عمران خان صاحب کے گھر کا نمبر تھا۔ حکومتی معاونین نے یہ سب اطلاعات ایک دن پہلے لیک کر دیں۔ میڈیا پر یہ سب قبل از وقت  ہی زیر بحث آگیا تو پھر اس کا تحیر اور سسپنس ختم ہو گیا۔ وزیراعظم بچ نکلے تو باقی کام پھسپھسا ہو کر رہ گیا۔ جن وزرائے کرام کے نام آئے وہ بھی لنگر لنگوٹ کس کر سامنے آ گئے، ان کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ ان کے ٹیکس گوشواروں میں ہر چیز ڈیکلئر ہو چکی ہے، اس میں سے کچھ بھی خفیہ نہیں ہے۔

قانونی ماہرین بھی میدان میں اترے اور بتایا کہ کسی آف شور کمپنی کا قیام غیر قانونی نہیں  ہے، اس کے ذریعے اثاثے بنانے یا خریدنے کا معاملہ بھی جرم نہیں ہے، اگر یہ سب کچھ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا جا چکا ہے تو پھر متعلقہ شخص کا بال بیکا نہیں ہو سکے گا۔ اس پس منظر میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی یہ آواز دب سی گئی جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وزراء فوراً اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں جن کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں۔ پی ٹی وی نے مریم نواز شریف کے بیٹے جنید صفدر کے نام بھی پانچ آف شور کمپنیاں نکال دیں، جن کی تصدیق نہیں ہو سکی، اسے ”فیک نیوز“قرار دیا گیا، اس  پر بغلیں بجانے والے حکومتی عہدہ داروں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ مریم نواز نے پی ٹی وی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے، لیکن پاکستان کے نظامِ عدل کی رفتار کو سامنے رکھیں تو یہ دھمکی کسی کو گھبراہٹ میں مبتلا نہیں کرتی۔جن لوگوں نے اپنی دولت چھپائی ہے اور اسے بیرون ملک منتقل کرکے وہاں جائیدادیں حاصل کی ہیں ان کا سراغ لگا کر، ان کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کو اپنا وعدہ ضرور پورا کرنا چاہیے، اس حوالے سے کوئی دو آرا ہو نہیں سکتیں، سیاسی حیلہ جوئی اور الزام تراشی سے قطع نظر کرنے کا کام یہی ہے کہ جو کرے وہ بھرے البتہ قانون کے پابند شہریوں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔

مزید :

رائے -اداریہ -