عالمی سازشیں اور چور، ڈاکو، لٹیروں کی تکرار !

عالمی سازشیں اور چور، ڈاکو، لٹیروں کی تکرار !
عالمی سازشیں اور چور، ڈاکو، لٹیروں کی تکرار !

  

پاکستان  ابھی اندرونی مسائل سے نمٹ رہا تھا کہ ایسے میں عالمی سازشوں نے بھی اسے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا، نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے جس پراسرار انداز میں اپنا دورہ پاکستان عین اس وقت ملتوی کر دیا جب پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں گراونڈز میں اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے کو تیار تھیں، اس دورہ کو ملتوی کرنے کے کا جو بہانہ بنایا گیا،اس پر  پاکستان یا دیگر ممالک تو ایک طرف خود نیوزی لینڈ کے عوام بھی یقین کرنے کو تیار نہیں اور پھر انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنا دورہ پاکستان  بھی ملتوی کر دیا، ایک ایسے وقت میں جب ملک کی فضا عالمی سازشوں کی گمبھیر گھٹاوں کی زد میں ہے،

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ ملتوی کرنے سے حکومتی زعماء نے معاملات کو سلجھانے کے لئے جو غیر سنجیدہ بیانات دیئے، اس کا یہ نتیجہ  نکلا کہ امریکی سینیٹر جم ریش نے اپنے 20 ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بل سینیٹ میں پیش کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کا ساتھ دینے والوں اور افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرنے میں طالبان کی مدد کرنے والے ممالک اور غیر ریاستی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پاکستان سمیت طالبان کو مدد دینے والی ریاستوں اور غیر ریاستی افراد کی نشاندہی کی جائے۔ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن ممالک نے طالبان کو سفارتی اور معاشی مدد فراہم کی، ان کو بھی سامنے لایا جائے۔ واضح ہو کہ امریکی  وزیر دفاع پاکستان پر یہ الزام بھی لگا چکے ہیں کہ پاکستان کئی مواقع پر ہمارے مخالفین کی  بھی مدد کرتا رہا ہے۔اس لئے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پاکستان اس وقت تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے جب تک طالبان حکومت امریکہ سمیت یورپی ممالک کے تحفظات دور نہیں کرتی اور افغانستان میں تمام گروپوں کی نمائندہ حکومت تشکیل نہیں دی جاتی۔

 افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ تو بظاہر ختم ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ نے جو نقصان اٹھایا اسے پورا کرنے کے لئے امریکہ کو طویل عرصہ لگے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ افغان جنگ میں امریکہ کا جو نقصان ہونا تھا، وہ تو ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نقصان بھی کم نہیں ہوا، اس جنگ میں پاکستانی فورسز اور عوام نے جتنا نقصان برداشت کیا، اتنا شائد دنیا میں کسی کا نہیں ہوا۔  دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے،  اس سے کئی گنا زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے اور ان گنت معذور بھی ہوئے۔

شہداء اور معذور ہونے والوں میں سیکیورٹی فورسز کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے،  لاکھوں خاندان جو  متاثر ہوئے اور کھربوں ڈالر کی املاک کا بھی نقصان ہوا اور ملک بھر آئے روز دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکے معمول بن گئے، جس کے نتیجے میں ملک معاشی بد حالی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ہوش ربا مہنگائی کا  بھی شکار ہو گیا، اشیائے صرف کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں اور لاقانونیت کے عفریت نے بھی یہاں اپنے پنجے مضبوط کر لئے ہیں، ان قربانیوں کے بعد پاکستان کو صلے میں کیا ملا۔ عالمی طاقتوں کا عدم اعتماد، اقتصادی پابندیاں، ایف اے ٹی ایف اور اس قسم کی دوسرے مسائل اور اب امریکہ کی طرف سے تعلقات میں ازسر نو نظر ثانی کا عندیہ۔ بقول اقبال:

پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں 

ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں 

 امریکہ  افغانستان سے گیا ہے، اس خطے سے نہیں، وہ افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ پاکستان سے لینے کے درپے ہے، ایسے میں وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی طرف سے دی گئی  تمام قربانیوں کو فراموش کر چکا ہے۔ امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام آج بھی اس جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے معمول بنے ہوئے ہیں اور ابھی نہ جانے کتنا عرصے تک پاکستانی افغان جنگ کے اثرات بگھتے رہیں گے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ افغان جنگ میں عالمی برادری پاکستان کی بے لوث قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے الٹا اسے ہی خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

 امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ وہ پاکستان ہی تھا جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کا قدم قدم پر ساتھ دیا اور دوحہ معاہدہ بھی امریکی شرائط کے مطابق ہی عمل میں آیا ہے، آج جس طرح کے شواہد دکھائی  دے رہے ہیں کہ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگائی جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، انہیں روکنا تو ممکن نہیں ہے،لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی شائد  یہ بھول چکے ہیں کہ طالبان کے خلاف ایک ایسے وقت  میں عالمی محاذ کھڑا کرنا،جبکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے طالبان کو عالمی برادری کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے،یہ کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ یہی غلطی 2001ء  میں افغانستان پر حملے کے وقت بھی کی گئی تھی، پھر اس غلطی کو سدھارنے کے لیے  امریکہ کو  20 سال کا عرصہ لگا، عزیمت بھی اٹھائی اور نقصان بھی برداشت کیا، لیکن سبق کوئی حاصل نہیں کیا،حالانکہ اس وقت افغانستان میں امن کی مکمل بحالی اولین ترجیح ہونی چاہئے اگر افغانستان بدامنی کا شکار رہا تو اس کا خمیازہ امریکہ اور یورپ کو ہی نہیں پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔پرسکون افغانستان ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔ عالمی برادری کو ٹھنڈے دماغ سے ان مسائل پر غور کرنا چاہئے،کیونکہ معاملات غصے یا انتقام سے نہیں  بصیرت ، حکمت عملی اور دوراندیشی سے حل کئے جاتے ہیں۔

 نیز یہ کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان سے باعزت انخلا میں پاکستان نے ہی بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس کی بھارت کو بہت تکلیف ہے۔ بھارت اپنے مذموم پراپیگنڈے  کے ذریعے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے،  اس طرح وہ اپنے ان مکروہ عزائم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے جو وہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کو بھی چاہئے کہ آنے والے خطرے کو بھانپتے ہوئے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے، ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیچ پر ہونا چاہئے،حکومتی زعماء کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ  حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے تند و تیز بیانات اور لفظوں کی تلخی کو شیریں بنائیں اگر ملک کے اندرونی مسائل خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں تو پھر یقین رکھیں عالمی سازشیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں بشرطیکہ حکومت، اپوزیشن اور عوام مل کر ان کا مقابلہ کریں، اس مقصد کے حصول کے چور، ڈاکو اور لٹیروں کی تکرار کو ختم کرنا ہو گا، یاد رہے زندہ قومیں مسائل سے گھبراتی نہیں، بلکہ خندہ پیشانی سے ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -