ایس این سی؛ توجہ طلب پہلو

ایس این سی؛ توجہ طلب پہلو
ایس این سی؛ توجہ طلب پہلو

  

موجودہ حکومت قومی یکجہتی نصاب (SNC) کو اپنا ایک عظیم کارنامہ بتاتی ہے۔یہ اقدام جہاں کئی لحاظ سے قابل ستائش تھا وہاں ”تعلیمی مافیا“ سے گلوخلاصی کی سبیل بھی ہے کیونکہ صورتحال یہ تھی کہ ملک کے بڑے اور نامی سکولوں اور کالجوں نے مڈل کی سطح تک کتابوں اور کاپیوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار سجایا ہوا تھا۔ہر سکول اپنی الگ کتابیں چھاپتا تھا۔ بعض سکول والدین کو یہ کتابیں اور کاپیاں من مانی قیمت پر خود مہیا کرتے اور بعض سکولوں کی کتابیں اگرچہ دکانوں پر دستیاب تھیں، لیکن وہ بھی ہر دکان پر نہیں بلکہ چند ایک مخصوص دکانوں پر جو ان کی ”بکس فرنچائز“ تھیں۔ہر علاقے میں زیادہ بولی دینے والوں کو ٹھیکا دیا جاتا اور پھر مذکورہ سکول اور دکاندار مل کر میلہ لوٹا کرتے تھے۔پچھلے سال بچوں کی کتابوں والی ایک ایسی ہی دکان پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ نرسری کی کتابوں کا سیٹ پانچ ہزار جبکہ جماعت اوّل کی کتابیں سات ہزار کی ہیں۔سوچا کہ کاپیاں کہیں اور سے لے لیتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں چلے گا کیونکہ اس سیٹ میں کتابوں کے ساتھ ساتھ کاپیاں بھی ہیں اور لینا ہے تو پورا سیٹ ہی ملے گاصرف کتابیں نہیں مل سکتیں۔ ایس این سی کی وجہ سے والدین کو اس مافیا سے نجات ملی ہے۔

ملکی سطح پرمختلف میڈیا سمیت تقریباً ہر فورم پر ایس این سی کے بارے میں کافی کچھ لکھا یا بولا جا چکا ہے، بلکہ اس اہم موضوع پر وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس ایک عدد ٹوئٹر سپیس بھی کر چکے ہیں، جس میں سیر حاصل مباحثہ کیا گیا۔اب تک کے دستیاب مواد پر اگر نظر دوڑائی جائے تو دو طرح کی آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک گروہ مخالفین کا ہے، جس کے زیادہ تر اعتراضات چنین و چناں اور لفظی ہیر پھیر  کا مجموعہ ہیں۔کچھ لوگوں کی مخالفت محض سیاسی بنیادوں پر ہے اور ظاہر ہے ان کی رائے اصول کی کسوٹی پر بیکار ہے۔دوسرے گروہ وہ ہیں،جو سکول مافیا کے ہاتھوں تنگ تھے۔ان کی حمایت کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے کہ انہیں سستی تعلیم ملے گی۔ان حمایت کنندگان میں حکومت کے سیاسی وابستگان بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ خالص تعلیمی مسئلے پر اس حمایت کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

لیکن پاکستان کے تعلیمی نظام کا بنیادی المیہ یہ نہیں ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ نصاب کو ترتیب دیتے ہوئے فلاں فلاں جدید ملک کے نصاب و نظام تعلیم کو سامنے رکھا گیا۔اگر ایساہی ہے کہ تو پھر مڈل لیول تک ہمارے بچوں کے سکول بیگ ان ملکوں کے بچوں سے بھاری اور کتابیں تین گنا زیادہ کیوں ہیں؟حکومت اس بات کو اپنا کارنامہ سمجھتی ہے کہ اس نے اسلامیات اور چند دیگر مضامین کو پہلی جماعت سے ہی ایک الگ مضمون کے طور پر شامل کیا ہے،حالانکہ یہ بچے پر ایک اضافی بوجھ ہے۔دنیا کے کسی بھی نظام تعلیم کا معائنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو وہ بچے کو اپنی قومی زبان میں تعلیم مہیا کرتے ہیں اور دوسرا پہلے پانچ چھ سالوں میں وہ بچے کی بنیاد بناتے ہیں۔ آپ پہلی جماعت کے اس بچے کو الگ مضامین کیسے پڑھا اور لکھا پائیں گے، جس کی ریڈنگ اور رائٹنگ سکلز ابھی تک خام ہیں۔یہ حقیقت ہمارے ماہرین تعلیم سے کیوں چھپی رہتی ہے کہ کم از کم ابتدائی تین یا پانچ سال بچے کو پڑھایا نہیں،بلکہ سکھایا(لکھنا پڑھنا) جاتا ہے۔ جب بچہ لکھنا اور پڑھنا سیکھ جاتا ہے تو اسے تعلیم میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

کوئی بھی مضمون معلومات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب وہ معلومات چند ایک کاغذوں پر لکھ کر ایک جگہ جمع کر لی جاتی ہیں تو کتاب بن جاتی ہے۔ معلومات تو ان پڑھ لوگوں کے پاس بھی ہوتی ہیں، لیکن پھر بھی انہیں خواندہ شمار نہیں کیا جاتا،کیونکہ مسئلہ ان معلومات کو لکھنے یا پڑھنے کا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہئے تھا کہ کم از کم پرائمری کی سطح تک تمام کوشش بچے کی انگریزی اور ادو لغت پر صرف کر کے اس میں ریڈنگ اور رائٹنگ سے متعلقہ مہارتوں کو پالش کیا جاتا۔اس دوران اسے واقفیت عامہ اور اسلامیات وغیرہ کا علم زبانی کلامی منتقل کیا جاتا۔ جب بچہ ان دونوں زبانوں میں لکھنے اور پڑھنے پر عبور حاصل کر لیتا تو اسے کسی بھی مضمون کی کتاب کو پڑھنے یا سوال کا جواب دینے میں مشکل پیش نہ آتی،کیونکہ وہ کتاب یا امتحان یا انگلش میڈیم ہوتا ہے یا اردو اور یوں بچے کو رٹے کی ضرورت نہ رہتی اور ملک میں کنسیٹ بیس امتحان فروغ پاتا۔

اس وقت قسم پاکستان میں دو قسم کے بچے کثیر تعداد میں ہیں۔ایک وہ جو زبانی طور کسی سوال کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن لکھ نہیں سکتے۔ دوسرے وہ جو کتاب پڑھ تو لیتے ہیں لیکن انہیں یہ پتا نہیں چلتا کہ انہوں نے جو سطور پڑھی ہیں ان میں کیا بتایا گیا ہے۔اس طرح دیگر تمام مسائل کا تجزیہ کریں تو بنیادی وجہ لغت ہی ہے۔تعلیم کا انگلش یا اردومیڈیم ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ان زبانوں میں مہارتوں کا فقدان ہے۔کیا وجہ ہے ٹاٹوں والوں سکولوں میں پڑھنے والے مختلف شعبوں میں نام پیدا کر گئے؟بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان پر  ہر مضمون کی الگ کتاب کا بوجھ نہیں لادا جاتا تھا، بلکہ پہلے پانچ چھ سال صرف ان کی ریڈنگ،رائٹنگ اور انڈر سٹینڈنگ کی مہارتیں پالش کی جاتی تھیں۔دنیا تعداد کی بجائے معیار پر یقین رکھتی ہے۔لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ پہلی کلاس کے بچے پر فلاں فلاں مضمون کی الگ الگ کتاب کا بوجھ لاد کر بغلیں بجانے کی اسے تعلیمی میڈیم (زبان) میں ماہر بنائیں تا کہ وہ رٹو طوطا بننے کی بجائے تعلیمی میدان کا شہسوار بنے اوراس میں بندر کی طرح نقالی کی بجائے تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوں۔پھر آپ کو یہ شکوہ نہیں رہے گا کہ بچے کے نمبر دیکھیں تو حیرانی ہوتی ہے، لیکن قابلیت دیکھیں تو مایوسی۔

مزید :

رائے -کالم -