ڈالر فوبیا اور بے لگام مہنگائی 

ڈالر فوبیا اور بے لگام مہنگائی 
ڈالر فوبیا اور بے لگام مہنگائی 

  

کل شیدے ریڑھی والے سے سبزی لی تو محسوس ہوا ریٹ کچھ بڑھ گیا ہے۔ اس نے آلو دو دن پہلے کی نسبت 20 روپے کلو مہنگے دیئے میں نے کہا شیدے یہ کیا، آلو کی تو نئی فصل بھی آ گئی ہے، پھر یہ مہنگا کیوں؟ کہنے لگا بابو جی کم از کم آپ تو یہ بات نہ کریں سب جانتے ہیں، اخباروں میں لکھتے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتہ ڈالر کا ریٹ کہاں پہنچ گیا ہے۔ ڈالر مہنگا ہوگا تو سبزی کیسے مہنگی نہیں ہو گی، اب اس کی اس منطق کا میں کیا جواب دیتا، دو دن پہلے ایک ایسا ہی تجربہ موچی رفیق کے پاس جا کے بھی ہوا تھا۔ جوتے کے چند ٹانکے کھل گئے تھے، میں اس کے پاس گیا اور جوتا اتار کے اسے دیا، بمشکل پانچ منٹ میں اس نے جوتا سی دیا۔ میں نے پیسے پوچھے تو اس نے پچاس روپے مانگے میں حیران رہ گیا، چند ٹانکوں کے پچاس روپے، میں نے کہا رفیق بھائی یہ تو تم بہت زیادہ مانگ رہے ہو۔ کہنے لگا، باؤ جی اے وی تے دیکھو ڈالر کتھے چڑھ گیا اے۔ میں نے کہا ڈالر مہنگا ہونے سے ٹانکے کیسے مہنگے ہو گئے۔ کہنے لگا، بابو جی آپ نے ٹی وی پر خبریں نہیں سنیں کہ ڈالر مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جائے گی، میں مہنگی چیزیں کیسے لوں گا اگر میں نے مزدوری نہ بڑھائی۔ میں نے ہار مانی اور اسے پچاس روپے دے کر چلا آیا۔ البتہ یہ سوچتا رہ گیا ایسے لوگ تو مہنگائی اور ڈالر کو بہانہ بنا کر اپنی مزدوری بڑھا دیتے ہیں، تنخواہ دار طبقہ کہاں جائے، جس کی آمدنی نہیں بڑھتی۔

تو صاحبو یہ ہے وہ نفسیات جو ڈالر فوبیا کی وجہ سے پوری قوم کی بن گئی ہے یہ کوئی نہیں سوچتا ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ کم آمدنی والے بھلا مہنگی چیزیں کیسے خرید سکتے ہیں ڈالر بڑھنے سے ملک میں پیدا ہونے والی اشیاء ضروریات کو کیسے مہنگا کیا جا سکتا ہے۔ پھر تو یہ سب چیزیں لوگوں کی قوت خرید سے نکل جائیں گی کیا امریکہ سے لوگ خریداری کے لئے پاکستان آئیں گے کیا روپے کی جگہ ہر شخص کو ڈالروں میں تنخواہ یا معاوضہ دیا جائے گا۔ ڈالر کا ریٹ بڑھتے ہی یہ خبر دی جاتی ہے اب مہنگائی کا سونامی آئے گا۔ جس نے سونامی نہیں بھی لانا ہوتا وہ سونامی لے آتا ہے جیسے موچی نے دس روپے کی بجائے پچاس روپے مانگ لئے اس صورت حال میں انسان کے پاس آخر میں خود کشی کا راستہ ہی بچتا ہے کیونکہ اشیائے ضروریہ تو اس کی پہنچ سے دور جا چکی ہوتی ہیں جس نے کبھی ڈالر کی شکل تک نہیں دیکھی وہ بھی ”ڈالر ڈالر کردی نی میں آپے ڈالر ہوئی“ کے جنون میں مبتلا ہو چکا ہے۔ رہی سہی کسر ڈالر کی مہنگائی کا نام لے کر پٹرول مہنگا کر کے نکال دی جاتی ہے۔ جس کے بعد ہر طرف چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں محدود آمدنی والوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا پہلے سے کم ہو جاتی ہے۔ چند روز پہلے وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک انٹرویو میں یہ خبر دی تھی کہ ڈالر کی سمگلنگ روکنے کے لئے سخت اقدامات کی بدولت اس کی قیمت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کی یہ کوشش کارگر ہوتی نظر نہیں آئی ڈالر نئے دن کے ساتھ اونچی اڑان بھر رہا ہے۔

ڈالر فوبیا جب کسی معاشرے پر چھا جائے تو پھر باقی سارے کام ٹھپ ہو جاتے ہیں ایک طرف وہ لوگ متحرک ہو جاتے ہیں، جنہوں نے ڈالر کا کاروبار کر کے روزانہ کروڑوں روپے کمانے ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ جو ڈالر مہنگا ہونے کا نام لے کر پاکستان میں تیار ہونے والی اشیاء بھی مہنگی کر دیتے ہیں حکومت لاکھ کہے اس نے آئی ایم ایف سے معاہدے میں روپے کی قیمت گھٹانے کی شرط نہیں مانی مگر حقیقت یہ ہے سارا کیا دھرا یہاں بھی اسی معاہدے کا ہے، جس کی وجہ سے حکومت غیر اعلانیہ طور پر روپے کی قدر میں کمی لا رہی ہے اور ڈالر 174 روپے پر چلا گیا ہے آئی ایم ایف کی تاریخ بتاتی ہے وہ پہلا کلہاڑا ملک کی کرنسی پر چلاتا ہے، اس طرح اس کا دیا ہوا قرضہ محفوظ بھی ہو جاتا ہے اور دوگنا بھی۔

پہلے ایک زمانے میں ڈالر کی قیمت حکومت اور اسٹیٹ بنک مقرر کرتے تھے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسے بھی ختم کر دیا گیا اور کھلی مارکیٹ پر چھوڑ دیا گیا وہ جس بھاؤ ڈالر بیچے اور خریدے۔ اس سے ایک مافیا سرگرم ہو گیا، کرنسی کو بھی اسٹاک ایکسچینج کی ایک پروڈکٹ بنا دیا گیا، اس سے زیادہ بھیانک صورت حال کوئی ہو نہیں سکتی جس طرح پاکستانی اسٹاک ایکسچینج کو چند بڑے بروکر اٹھا اور گرا دیتے ہیں اسی طرح ناجائز منافع خور جب چاہیں ڈالر کو اوپر لے جائیں اور اربوں روپے کما لیں کیا یہ نظام پاکستان جیسے ملک میں چل سکتا ہے، جہاں ہر چیز بے لگام ہے، کیا ستر برسوں تک ہم نے سٹیٹ بنک کے ذریعے ڈالر پر جو کنٹرول رکھا وہ غلط تھا، کیا ہمارے روپے میں اتنا دم خم ہے کہ کبھی اوپر بھی جا سکے جب اس نے گرنا ہی ہے تو کون چاہے گا ڈالر نہ خریدے اور نقصان سے نہ بچے۔

یہ حکومت اگر ڈالر کی اڑان کو ہی روک دیتی تو بہت بڑی کامیابی ہوتی۔ کسی نے سچ کہا ہے جب حکومت ناکام ہوتی ہے تو ہر شعبے میں ناکام ہوتی چلی جاتی ہے وزیر اعظم عمران خان معیشت کو ٹھیک کرنے کا دعویٰ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ لیکن پہلے دن سے جس ڈگر پر معیشت چلی اس کے بعد تو ٹھیک ہونے کے آثار بھی دور دور تک نظر نہیں آئے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر سبسڈی ختم کرنے والے ایلیٹ کلاس کی ایک سبسڈی بھی ختم نہیں کر سکے۔ بڑے افسروں کی مراعات دیکھیں تو لگتا ہے وہ برطانیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ارکانِ اسمبلی اور وزراء کو دیکھیں تو لگتا ہے ان کی تو پوری زندگی ہی سبسڈی پر چل رہی ہے۔ پاکستان میں سبسڈی دیئے بغیر کم از کم غریب اور نچلے طبقے کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا لیکن یہ آئی ایم ایف کا مسئلہ نہیں غریب پاکستان میں زندہ رہتے ہیں یا خودکشیاں کرتے ہیں اس نے تو سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنڈے کو نافذ کرانا ہے۔

یہ ڈالر کی اڑان اور مشکل وقت کی گردان آخر کب تک چلے گی کوئی ہمت کوئی آثار تو نظر آئیں کہ جن سے لگے مشکل دن ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں پہلے ہی مافیاز بہت تھے، اب ایک ڈالر مافیا بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ منظر ہو کہ احتساب کا ڈھنڈورا پیٹنے والی حکومت تین برسوں میں ملک لوٹنے والوں سے ایک روپیہ بھی نہ نکلوا سکی ہو اور احتساب بیورو سارا کھیل ریفرنسوں، انکوائریوں اور گرفتاریوں کے گرد جاری رکھے ہوئے ہو اور دوسری طرف مہنگائی کرنے والے کسی حکومتی گرفت سے بے نیاز ہو کر اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہوں، وہاں عام آدمی کو کہاں سے ریلیف مل سکتا ہے۔ حکومت مان نہیں رہی کہ وہ ناکام ہو چکی ہے، وگرنہ ناکامی کے سارے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -