کواڈ اور آکوس کیا بلا ہیں؟ 

کواڈ اور آکوس کیا بلا ہیں؟ 
کواڈ اور آکوس کیا بلا ہیں؟ 

  

گزشتہ دنوں کسی کالم میں، میں نے انگریزی کے دو لفظ استعمال کئے تھے…… کواڈ اور آکوس…… میں عموماً کوشش کرتا ہوں کہ ایسی اصطلاحوں کے ساتھ اورجنل انگلشن اصطلاحیں بھی لکھ دوں تاکہ قارئین کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو۔(قارئین سے میری مراد وہ خواتین و حضرات نہیں جو ان اصطلاحوں سے مجھ سے زیادہ آگہی رکھتے ہیں۔ میں ان دوستوں کی بات کر رہا ہوں جو مختلف وجوہ کی بنا پر بین الاقوامی دفاعی پس منظر اور پیش منظر سے کم کم آگاہ ہیں)۔

مجھے خوشی ہوتی ہے کہ اردو زبان کے قارئین بھی اب ان دفاعی اصطلاحات کی سُن گن رکھنے لگے ہیں۔ چار پانچ احباب نے موبائل پر message بھیجے اور پوچھا کہ ان اصطلاحوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟…… اور جب میں نے چپ سادھ لی تو دوبارہ میسج آئے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے کہ یہ کواڈ اور آکوس وغیرہ کیا بلا ہیں؟…… چنانچہ درج ذیل چند سطور اُن دوستوں کی نذر!

کوآڈ  (Quad) کا لغوی مطلب تو چار ہے۔ لیکن جب حالیہ دفاعی پس منظر میں اس مخفف کو لکھا یا بولا جاتا ہے تو اس کا مطلب وہ چار ممالک ہیں جنہوں نے مل کر ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے۔ ان کے نام امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان ہیں۔ یہ چہارگانہ اتحاد کئی برسوں سے قائم ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اس اتحاد کی غرض و غائت پر بھی کچھ عرصہ پہلے ایک دو کالم لکھے تھے…… یہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور اس میں شریک ممالک بحری حربی مشقوں اور دوسری جنگی کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔”مالابار ایکسرسائز“ وہ بحری مشق ہے جو ہر چند ماہ بعد باری باری ان چار ممالک میں منعقد ہوتی رہتی ہے۔ انڈیا، آسٹریلیا اور امریکہ کی بحریاؤں (Navies)کی پروفیشنل زبان انگلش ہے لیکن جاپان کی بحریہ کے افسروں اور جوانوں (مسلمانوں) کی ٹریننگ ان کی قومی زبان (جاپانی) میں ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ چاروں ممالک کسی کمبٹ ایکسرسائز میں حصہ لیتے ہیں تو ان کی حربی ڈرلیں، SOPs اور طریقہ ہائے حرب و ضرب جب تک ایک نہ ہوں، جب وہ کسی بحری آپریشن میں مل کر حصہ لیں گے تو ان کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہی مشکلات کے حل کے لئے یہ بحری مشقیں (مالا بار) چلائی جاتی ہیں۔

ان چاروں ممالک کی بحری سرحدیں سینکڑوں بحری میلوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ امریکہ تو بحرالکاہل اور بحراوقیانوس کے پانیوں پر حجم کے لحاظ سے سب سے بڑی بحری علاقائی دسترس رکھتا ہے۔ یہی حال دوسرے تین ملکوں (آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا) کا بھی ہے۔ ان کے درمیان یہ معاہدہ بھی موجود ہے کہ یہ ایک دوسرے کے بحری مستقروں کو بوقتِ ضرورت استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ضرورت کس لئے اور کس کے خلاف پیش آ سکتی ہے تو اس سوال کا جواب ایک ہی ہے کہ یہ سب کھڑاگ چین کو روکنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ان چاروں ممالک کی زمینی افواج، چین کے خلاف صف بند ہو سکتی ہیں۔ جاپان کی فوج چین کے شمال سے اور آسٹریلیا کی اس کے جنوب سے۔ انڈیا اور چین کی تو سرحدیں آپس میں ملحق ہیں۔ انڈیا کی گراؤنڈ فورسز، چین کے خلاف ایکشن میں جانے کے لئے ہمہ وقت تیار بیٹھی ہیں۔ بھوٹان اور لداخ میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی اور ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن چین کے خلاف آسٹریلوی، جاپانی اور امریکی ائر فورسز کو بھی لانچ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ رہی بات بحریاؤں کی تو ان کا ذکر میں نے اوپر کر دیا ہے کہ یہ کواڈ (Quad) تنظیم چین کے خلاف، نیول محاذوں پر بھی کارروائی کرنے کی پلاننگ وغیرہ کرنے میں مصروف رہتی ہے۔

جہاں تک دوسری اصطلاح آکوس (Aukus) کا تعلق ہے تو یہ سہ گانہ بحری تنظیم ہے جس میں آسٹریلیا (A) برطانیہ (UK) اور امریکہ (US) شامل ہیں۔ ان تینوں حروف کو ملا دیں تو Aukus کی اصطلاح بن جائے گی۔ یہ آکوس جدید ترین چین مخالف محاذ ہے جو امریکہ نے چین کے خلاف قائم کیا ہے۔ آسٹریلیا اور برطانیہ تو امریکہ کی جیب میں ہیں۔ انڈیا کو اس میں البتہ شامل نہیں کیا گیا۔ انڈیا، آکوس سے اس لئے باہر رکھا گیا ہے کہ انڈیا اس اتحادِ ثلاثہ کے سٹرٹیجک مقصودات کی تکمیل کرنے سے قاصر ہے۔

یہ سٹرٹیجک مفادات و مقصودات بحری قوت سے وابستہ ہیں۔ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو آپ کو چین کی بحری محدودات (Limitations) کا علم ہو جائے گا۔ آکوس کی تشکیل میں سب سے بڑی اور دھماکہ خیز خبر یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ مل کر آسٹریلیا کی بحریہ کے لئے 8عدد جوہری آبدوزیں تیار کریں گے…… جوہری آبدوز کیا ہے اور یہ دوسری روائتی آبدوزوں (ڈیزل الیکٹرک) سے کن معنوں میں مختلف ہے اور ان پر کیا برتری رکھتی ہے، ان معاملات کو اختصار کے ساتھ بھی بیان کرنے کے لئے کئی کالم درکار ہیں۔ یہ اتنا ٹیکنیکل موضوع ہے کہ اس کو سمجھنے کے لئے بھی ایک خاص طرح کا پروفیشنل پس منظر درکار ہے جو ہم پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے چیستان ہے۔

آسٹریلیا نے فرانس سے 12روائتی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کر رکھا تھا جو 28ارب ڈالر مالیت کا تھا لیکن جونہی آکوس معاہدے پر دستخط ہوئے آسٹریلیا نے فرانس سے وہ معاہدہ منسوخ کر دیا۔ فرانس نے بھی جواباً اپنے سفیروں کو واشنگٹن اور کینیڈا سے واپس بلا لیا ہے۔ لیکن سفیر واپس آئیں یا نہ آئیں، ان سے آکوس کے سٹرٹیجک مقصودات (Objectives) کا کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ، آسٹریلیا کو مستقبل قریب و بعید میں چین کی خلاف صف آرا کرنا چاہتا ہے۔ آسٹریلیا کی زمینی سرحدیں چین سے کافی دور ہیں اور فضائی حدود بھی نزدیک نہیں۔ آسٹریلیا کے بالائے آب جنگی بحری جہاز (Surface Ships)چین کی بحریہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر آسٹریلیا کے پاس 8،10 جوہری آبدوزیں آ جائیں تو آسٹریلیا کی بحری مقدورات (Capabilities)میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ جوہری آبدوز کئی ماہ تک زیر آب رہ سکتی ہے۔ اس کی رفتار بمقابلہ ڈیزل الیکٹرک آبدوز کے، زیادہ ہوتی ہے، اس کے اندر پانی کا وافر ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور ڈبہ بند خوراک بھی عملے کے لئے چھ ماہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ زیرِ آب اس کی آواز بھی کم ہوتی ہے اور اس کی رسائی (Reach) بھی زیادہ فاصلوں کو محیط ہوتی ہے۔

اس وقت دنیا کی صرف پانچ بڑی قوتوں کے پاس جوہری آبدوزیں موجود ہیں۔ ان کے نام اور تعداد اس طرح ہے: (1) امریکہ= 68……(2) روس 29=…… (3) چین 12=……(4) برطانیہ 11=……(5)فرانس 8=

انڈیا کے پاس صرف ایک جوہری آبدوز (آری ہانت) موجود ہے اور ایک اور لیز پر لے رکھی ہے (چکرا)…… لیکن جب آسٹریلیا کے پاس 8جوہری آبدوزیں آ جائیں گی تو ان کی رسائی بحرالکاہل اور بحرہند تک ہو جائے گی…… ساؤتھ چائنا سمندر تک زیرِ آب رسائی کے لئے آسٹریلیا کو جو سہولت حاصل ہوگی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کل کلاں فرانس بھی آسٹریلیا کو جوہری آبدوزیں دینے کو تیار ہو جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو خطہ ء بحرالکاہل (Pacific Theatre) اور بحرہند میں چین کے سوا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہوگا جو زیرِ آب جوہری آبدوزوں کے مقابل صف آرا ہو سکے۔ ایسے میں میرا خیال ہے چین شاید پاک بحریہ کو بھی یہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر غور کرے……

ان مختصر کالموں میں کوآڈ اور آکوس کی ٹیکنیکل اور پروفیشنل تفصیلات اور بحری قوت کے سائز کا تذکرہ صرف اتنا ہی کیا جا سکتا تھا جتنا کہ میں نے کر دیا ہے۔ جو قارئین اس سلسلے میں مزید معلومات جاننا چاہیں ان کو دو ہمالے سر کرنے پڑیں گے…… ایک انگریزی میں ملٹری ہسٹری کے مطالعے کی استعداد …… اور دوسرے جوہری آبدوزو ں کے ارتقاء کی تاریخ و تفصیل!

مزید :

رائے -کالم -