لیڈی ڈاکٹر کا دوران ڈکیتی قتل، لمحہ فکریہ!

لیڈی ڈاکٹر کا دوران ڈکیتی قتل، لمحہ فکریہ!

  

مقتولہ نے حال ہی میں سی ایم ایچ میڈیکل کالج سے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کی تھی

آئے روز ہونے والے سنگین واقعات پر شہری عدم تحفظ کا شکار

عوام کی جان و مال کا تحفط حکومت اور پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور کسی بھی معاشرے ملک یا علاقے میں امن و امان کی فضاء کو بحال رکھنے اور جرائم کی سرکوبی پولیس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ پنجاب میں پولیس کی گرفت ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آج بھی کمزور دکھائی دیتی ہے، سوائے ان چند اضلاع کے جہاں سینئر پولیس افسران تعینات ہیں۔ یہ صورت حال پولیس کی کارگردگی پر سوالیہ نشان تھا اور ہے، حکومت ہو یا اپوزیشن سب کی ہی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ملک میں گڈگورننس قائم کی جائے، امن و امان کی صورتحال بہتر سے بہتر بنائی جائے تاکہ عوام سکون کی نیند سو سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بگڑتی جا رہی ہے،صوبائی دارلحکومت لاک ڈاؤن کے دوران بھی اسٹریٹ کرائم کی آماجگاہ بنا رہا،شہربھر میں روز بروز امن و امان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔لاہورشہر جو کبھی سابق سی سی پی او”بی اے ناصر“کے دور میں امن و امان کا گہوارہ ہوا کرتا تھا آج بدامنی، لاقانونیت، لوٹ مار، چوری، ڈکیتی، چھینا چھپٹی بالخصوص ڈکیتی کے دوران قتل اور جرائم کی وارداتوں کی لپیٹ میں ہے۔ان بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث شہری شدید خوف میں مبتلا ہیں۔

28ستمبر2021کو بھی لاہور کے پوش علاقہ ڈیفنس میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں موٹر سائیکل سوار 2ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران ایک لیڈی ڈاکٹر کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، 25 سالہ لیڈی ڈاکٹر خولہ احمد اپنی سہیلی رجا سے ملنے اس کے گھر گئی تھی، گھر کی دہلیز پر موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر واردات کی کوشش کی، مزاحمت کرنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے خولہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔مقتولہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے حال ہی میں سی ایم ایچ میڈیکل کالج سے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کی تھی،رجا جسے وہ ملنے گئی میڈیکل میں اس کی کلاس فیلو تھی مقتولہ کے والد ڈاکٹر بشارت کی جانب سے تھانہ ڈیفنس Aمیں درج کروائی جانے والی ایف آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ فیز ون کے رہائشی ہیں یہ کہ اس کی بیٹی خولہ احمد خان دختر ڈاکٹر بشارت احمد خان 28ستمبرکو گھر سے تقریباًپونے چار بجے بسواری ہنڈا گاڑی پر نکلی جس کے پاس آئی فون ایکس بھی تھا جو کہ اپنی سہیلی رجاکو ملنے کے لیے فیز تھری جارہی تھی اس کے گھر کے باہر گیٹ کے آگے دونامعلوم ڈاکوجو کہ موٹر سائیکل سوار تھے اس کو ڈرایا موبائل فون اور پیسوں کا مطالبہ کیا رجا نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان نامعلوم ڈاکوؤں کو خولہ پر فائرنگ کرتے دیکھا جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئی ڈاکو موبائل فون اور پر س چھین کر فرار ہو گئے جس میں اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ تھے جو کہ لے کر فرار ہو گئے۔مقتولہ کے والد ڈاکٹر بشارت نے کہا ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی ڈاکٹر ہیں اور انھیں اپنی بیٹی کو بھی ڈاکٹر بنانے کا بہت شوق تھا اب جبکہ اس نے ڈاکٹر کی ڈگری بھی حاصل کر لی تھی اب وہ اس کی شادی کا سوچ رہے تھے کہ دن دیہاڑے ڈاکوؤں نے اس پر گولی چلاکر اس کی قمر توڑ دی ہے ان بے رحم ڈاکوؤں نے شہر کا امن تباہ کر کے رکھ دیا ہے ڈیفنس جیسے پوش علاقے میں دن دیہاڑے ڈاکوؤں کا دندناتے پھرنا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ڈاکو لوٹ مار کر کے سب کچھ لے جاتے مگر اس کی بیٹی کی جان لے کر انھوں نے لا قانونیت کا مظاہرہ کیا ہے۔جس دن سے ان کی بیٹی قتل ہوئی ہے دونوں میاں بیوی سخت صدمے میں ہیں۔

ڈاکٹر بشارت نے مزید کہا شہر میں ڈکیتی قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے واقعات سے روز اخبارات بھرے پڑے ہیں لاہور میں لوٹ مار کا یہ سلسلہ ہے دیہاتوں میں تو ڈ اکو ناکہ لگا کر لوٹ مار کرتے ہو نگے۔ لیڈی ڈاکٹر خولہ کی سہیلی رجاء کا بیان سامنے آیا ہے جس سے وہ ملنے گئی تھی اور رجاء اس قتل کی عینی شاہد بھی ہے۔سہیلی رجاء نے پولیس کو بیان میں بتایا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر خولہ نے جیسے ہی رجاء کے گھر کے باہر کار پارک کی، 2 موٹر سائیکل سوار ڈاکو آگئے۔رجاء کے مطابق دونوں ڈاکوؤں نے پستول مقتولہ کی گردن پر تان لی، لیڈی ڈاکٹر کی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائر کر کے لیڈی ڈاکٹر کو قتل کر دیا۔سہیلی رجاء نے پولیس کو بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ ڈاکو ڈاکٹر خولہ کا پرس اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے۔ اس افسوس ناک وقوعہ کے حوالے سے لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگرنے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کی اطلاع ملتے ہی انھوں نے فوراً ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال،ایس ایس پی انوسٹی گیشن منصور امان اور ایس ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور اس ڈکیتی قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا جس پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے موقع پر پہنچ کر انھیں یقین دھانی کروائی کہ وہ ملزمان کے تعاقب میں ہیں اور انھیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں نے ایس ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ اور مقامی ڈی ایس پی سی آئی اے رانا زاہد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جنہوں نے 24گھنٹے کے اندر پیشہ وارامہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کو ٹریس کر لیا۔ 

ایس ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ نے اس مقدمے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا ہے جبکہ اس مقدمے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے والے ڈی ایس پی رانا ذاہد نے بتایا ہے کہ ملزم بلال کے بارے میں انھیں پہلے سے معلوم تھا کہ وہ پوش علاقے بالخصوص ڈیفنس ایریا میں خواتین سے پرس چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہے انھوں نے اس کا ایڈریس نکلوایا جو کہ لال پل غازی آباد کا نکلا پھر وہ ریکی کرتے ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں دونوں ملزم بھائیوں بلال اور ایاز کے اکھٹے ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی انھوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس جگہ پر فیلڈنگ لگادی اور دونوں ملزمان کے اکھٹے ہونے پر انھیں قابو کر لیا گیا دونوں سے تفتیش کی گئی تو ایاز نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر موجود رہا بلال نے لوٹ مار کے دوران گولی چلائی جس سے لیڈی ڈاکٹر کی گردن میں گولی لگنے سے وہ موت کے منہ میں چلی گئی،ڈی ایس پی نے مزید بتایا واردات میں دونوں حقیقی بھائی ایاز اور بلاول ملوث ہیں دونوں نے واردات کے دوران قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے،ملزمان ریکارڈ یافتہ ہیں اور اس سے قبل بھی کئی بار جیل جاچکے ہیں۔

 اگرچہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا صوبوں کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق کو بھی صوبوں کو نہ صرف مالی وسائل مہیا کرنے چاہئیں بلکہ اس حوالے سے صوبوں کی ہر ممکن امداد و تعاون بھی کرنا چاہئے تاکہ عوام چین و آرام سے زندگی بسر کر سکیں۔ حکومت کسی کی بھی اور کوئی بھی ہو عوام کو جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہی نہیں اس پر فرض بھی ہے۔ اس وقت ڈکیتی کے دوران قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ایک خوف ہے جو طاری ہو گیا ہے کہ گھر سے نکلنے والا شخص صحیح سلامت واپس بھی آئے گا یا نہیں؟ اگر یہ کہا جائے کہ اس صورتحال میں لوگ گھروں کے اندر بھی اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتے تو یہ مبالغہ نہیں ہو گا۔ یہ بات اپنی جگہ ہر صورت درست ہے کہ جب تک عوام میں احساس تحفظ نہیں ہو گا اس وقت تک تعمیر و ترقی کے عمل کو موثر نہیں بنایا جا سکتا۔ جس ملک و شہر میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہو گی وہاں بیرونی ہی نہیں مقامی طور پر بھی سرمایہ کاری معطل ہو کر رہ جاتی ہے اس لئے ملکی معیشت کا پیسہ چالو رکھنے کے لئے بھی امن و امان قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے اور ایسا کرنے کے لئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پالیسی مرتب کرنی ہو گی۔

٭٭٭

 ڈیفنس جیسے پوش، محفوظ ترین علاقے میں 

مزید :

ایڈیشن 1 -