مانانوالہ میں چھ سالہ طالبہ بے دردی سے قتل!

مانانوالہ میں چھ سالہ طالبہ بے دردی سے قتل!

  

کمسن بچوں سے بداخلاقی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے

 مقامی دکاندار چیز دینے کے بہانے سکول سے واپس آنے والی معاویہ کو اپنے گھر لے گیا

 جس طرح وحشت خوف کو جنم دینے اور دہشت انسان کو لرزہ دینے کا نام ہے اسی طرح سفاکی اورجبر و استبداد بھی غیر انسانی فعل ہیں جن کی کسی مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں مگر ایک جرم ایسا بھی ہے جس کے سامنے ظلم و جبر اور سفاکیت جیسے الفاظ بھی بہت چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور یہ جرم زمانہ جاہلیت میں بعض کفارقبائل کی طرف سے اپنی بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردینے سے عبارت ہے جس کے بارے میں آج بھی یہ سوچ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کفار کے سینے میں دل کی جگہ کونساپتھر ہوگا کہ معصوم کلیوں کو زندہ درگور کرتے وقت انکے ہاتھ نہ کانپتے تھے، ظہور اسلام ہوا تو نبی رحمت ﷺ نے کفار کو انسانی جان کی قدر و منزلت سے آگاہ کیااور پھر وہ وقت بھی چشم عالم نے دیکھا کہ اپنی نومولود بچیوں کو کل تک اپنے ہاتھوں زندہ دفن کردینے والے ہی انکے نہ صرف محافظ بن گئے بلکہ خواتین کی تکریم کی ایسی مثالیں رقم کیں جو قیامت تک کے انسانوں کیلئے مشعل راہ رہیں گی، اسلام کی روشنی نے انکے قلوب و اذہان کو تو منور کردیا مگر معصوم بچیوں پر جبر کی داستانیں بند نہ ہوئیں اور آج بھی ہمارے ہاں رونما ہونے والے ایسے واقعات دل دہلادیتے ہیں کہ جن کا احوال سن کر انسان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا جس کی ایک واضح مثال تھانہ مانانوالہ کے علاقہ قلعہ شب دیو سنگھ میں پیش آنیوالے ظلم و جبر کی وہ داستان ہے جس نے سفاکیت کی ساری حدیں پھلانگ ڈالیں،یہ قیامت مانانوالہ کی نواحی آبادی قلعہ شب دیو سنگھ کے رہائشی محنت کش محمد نوید پر ٹوٹی جسے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹیوں سے نواز رکھا ہے، خود تو وہ ناخواندہ ہونے کے باعث اپنے اور بیوی بچوں کی گزر بسر کیلئے انتھک مشقت کرنے پر مجبور ہے مگر اس نے اپنی بیٹیوں کو جاہلیت سے بچانے کیلئے تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا اور اپنی اس سوچ اور شوق کو پروان چڑھانے کے تحت اس نے اپنی بیٹی ھاویہ کو تعلیم دلوانے کی غرض سے قلعہ شب دیو سنگھ میں قائم گورنمنٹ گرلزپرائمری سکول میں داخل کروایا اور بچی کو بھی اللہ تعالیٰ نے استقامت دی جو نہ صرف شوق سے سکول جاتی بلکہ ساتھی طالبات میں سے بھی خاصی لائق تھی جویقینا ماں باپ کیلئے باعث فخر بات تھی،نرسری کلاس کی اس چھ سالہ طالبہ ھادیہ اور اسکے والدین کو کیا علم تھا کہ 18ستمبر کا دن ان پر کونسی قیامت توڑنے والا ہے، ماں نے معمول کے مطابق اسے گھر سے سکول کیلئے روانہ کیا مگرسکول سے فارغ ہو کر جب وہ اپنی ساتھی طالبات کے ہمراہ گھر لوٹی تواپنی معصوم سہیلیوں کے ہمراہ وہ راستے میں پڑنے والی کریانہ کی دکان پر رک گئیں جہاں دکاندار نے دیگر بچیوں کو تو ان سے پیسے لیکرکھانے کی شے دیدی مگر ھادیہ کو روکے رکھا اور جب بیٹی کے گھر نہ پہنچنے پر ماں کو تشویش لاحق ہوئی تو اس نے بیٹی کی جماعت میں پڑھنے والی دیگر بچیوں کے گھر جاکر ھادیہ کے متعلق استفسار کیا جنہوں نے بتایا کہ وہ ہم سکول سے آتے وقت مذکورہ کریانہ کی دکان پر رکیں تھیں جہاں سے ہم نے اپنی اپنی کی شے لی اور آگئیں مگر ھادیہ کھانے کی شے کے انتظار میں رکی رہی، ماں نے کریانہ کی دکان کی گلی سمیت بیٹی کو ہر جگہ تلاش کیا مگر اسکی تمام کوشش بے سود ثابت ہوئی اور جب محنت کش نوید گھر لوٹا تو بیوی نے بچی کے گم ہونے کا بتایا اور دونوں فوراً دوبارہ بیٹی کی تلاش میں لگ گئے کہیں کوئی سراغ نہ ملنے پر وہ تھانہ مانانوالہ پہنچے اور اپنی چھ سالہ معصوم بیٹی کی گمشدگی کی رپٹ درج کروائی، مانانوالہ پولیس نے نہ صرف پریشان حال ان والدین کو دلاسا دیا بلکہ ایس ایچ او نے ایک ٹیم تشکیل دے کر بچی کی تلاش کیلئے روانہ کردی اس پولیس ٹیم نے سکول سے گھر تک آنے والے راستے کا مکمل جائزہ لیا اور مذکورہ کریانہ سٹور کے مالک محمد احمد رضا سے بھی ھادیہ کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور شک گزرنے پر اسے گرفتار کرلیا جسے تھانے لیجا کر روائتی تفتیش کی گئی تو اس40 سالہ سفاک درندے نے ہولناک انکشاف کیا کہ وہ ھادیہ کو شے دینے کا لالچ دیکر دکان سے ملحقہ کمرے میں لے گیا جہاں اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسکی حالت خراب ہونے پر پکڑے جانے کے خوف سے خون میں لت پت اس چھ سالہ معصوم کا گلہ دبادیا اور اسے جان سے مار کر نعش قلعہ شب دیو سنگھ سے 25کلو میٹر دور گاؤں چندر کوٹ کے قریب واقع آبادی چک وٹواں کے کھیتوں میں پھینک دی پولیس بغیر وقت ضائع کئے فوری اس درندہ صفت سفاک ملزم کے ہمراہ موقع پرپہنچی تو مذکورہ مقام پر ھادیہ کی نعش پڑی تھی جسے پوسٹ مارٹم کے ہاؤس منتقل کیا گیا اور ملزم کو تھانہ کی حوالات میں بند کردیا ابتدائی رپورٹ میں ھادیہ کو زبردستی بداخلاقی کا نشانہ بنانے اور گلہ دبا کر جان سے ماردینے کی تصدیق ہوگئی جبکہ ڈی این اے رپورٹ کیلئے نمونے بھی لیبارٹری کو بھجوادیئے گئے۔

دوسری طرف اس ہولناکی و سفاکی پر مبنی واردات کی اطلاع پا کرھادیہ کے والدین بھی پوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچ گئے جہاں معصوم بیٹی کی نعش دیگر دیکھ کر والدین پر غشی کے دورے پڑنے لگے جبکہ موقع پر موجود ہر شخص سکتہ کے عالم میں تھا اور دیکھنے والوں کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے،عزیز و اقرباء اور اہل علاقہ نے محنت کش محمد نوید اور اسکی بیوی کو سنبھالا اور بچی کی نعش لیکر گاؤں لوٹ آئے جہاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں اسکی تدفین کردی گئی جبکہ تھانہ مانانوالہ پولیس نے گرفتاردرندہ صفت ملزم 40سالہ محمد احمد رضا کے خلاف بداخلاقی اور قتل سمیت دیگر دفعات پر مبنی مقدمہ درج کرلیا اور تمام ثبوت محفوظ اور اسکے اقبالی بیان سمیت واردار ت کا تمام احوال بھی قلمبند کرلیا، اس مجرم کا عبرتباک یقینا ہر درد دل رکھنے والے انسان کا مطالبہ ہے مگر یہ واردات انسان کے روپ میں بھیڑیو ں کے چھپے ہونے کا کھلاثبوت ہے جو معصوم بچیوں کو بھی اپنی حوانیت او ر درندگی کا نشانہ بنانے کے درپے ہوتے ہیں یہ کسی رعایت کے ہرگز مستحق نہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -