ایمرجنسی کال 15 نیٹ ورک مذاق بننے لگا!

 ایمرجنسی کال 15 نیٹ ورک مذاق بننے لگا!

  

یوں لگتا ہے جیسے اکثر پولیس والوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرنا، اگر دیکھا جائے تو ہر کام میں ایک جدت آچکی ہے، محکمہ پولیس کے اہلکار کسی بھی مقدمے میں تفتیش کے نام پر بھرپور کمائی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسے کام ہیں جس میں یہ پیسے اکٹھے کرنے کا ڈھنگ تلاش کر لیتے ہیں بلکہ عوام کو دھوکا ہی دینا اور اس سے نوٹ کمانا ہی پولیس کا شیوا بن چکا ہے اور دوسری طرف عدالتوں میں انصاف کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا ہے بنا جھوٹ کے آپ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔ ذرا غور کریں، پولیس کے ماٹو میں شامل ہے کہ ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“لیکن محکمہ پولیس کے موجودہ اہلکاروں نے اس مقصد کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ گورنمنٹ نے عوام کی سہولت کے لیے ایمرجنسی 15 نمبر پر کال کرکے پولیس کی مدد حاصل کرنے کے لئے ایک نیٹ ورک ترتیب دیا ہوا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ عوام میں ہونے والی ظلم و زیادتی اور ناانصافی و دیگر وہ کام جس میں پولیس کی مدد درکار ہے ہر شہری 15 پر کال کرکے پولیس کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایمرجنسی 15 کا سلسلہ اس سے پہلے بھی شروع کیا گیا تھا،مگر یہ اس وقت محض اس وجہ سے ختم ہو کر رہ گیا تھا کہ بہت سارے شہریوں نے اسے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پولیس کی مدد حاصل کرنے کے لئے اسے ایک مذاق بنا لیا تھا۔ سو پولیس اہلکار بھی پہلی بار اس مذاق کا شکار ہوگئے تھے جنہوں نے اس نیٹ ورک پر یقین کرنا ہی چھوڑ دیا تھا اور پھر آہستہ آہستہ عوام نے بھی اس نمبر پر کال کرنا چھوڑ دی تھی جبکہ کچھ عرصہ سے پھر سے پولیس کے افسران نے اس نیٹ ورک کو از سر نو ایک نئے انداز سے ترتیب دیا ہے جس پر ایک بار پھر عوام اور پولیس نے یقین کر کے اس پر عمل شروع کر دیا ہے لیکن اس عمل کو پولیس نے ابھی تک یہی سمجھ رکھا ہے کہ کہیں عوام پہلے سے پھر مذاق نہ کرنا شروع کر دیں،لہٰذا اب اس کا نتیجہ کچھ اس طرح سے برآمد ہو رہا ہے کہ پولیس والوں نے اس ذمہ داری قبول کرنے کے لئے سچے دل سے ایک دن بھی کام نہیں کیا بلکہ اب ہو یہ رہا ہے کہ اگر کوئی شریف آدمی کال کرتا ہے تو اسے بوگس قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ وہ سچی کال کرکے پولیس کی مدد حاصل کرنا چاہتا ہے کال کرنے والا آدمی بھی دماغی طور پر بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ پولیس صرف ہٹ دھرمی اور غفلت کی وجہ سے چاہتی ہے کہ گھر بیٹھے کچھ مل جائے اور کمانے کا طریقہ انہوں نے ہردور میں الٹا ڈھونڈ رکھا ہوتا ہے۔ اب ہر روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں شخص نے 15پر کال کی، پولیس کے اہلکاروں نے اس مظلوم شخص کی مدد کرنے کی بجائے اس کی کال کو بوگس قرار دے کر اسی کے خلاف ایف آئی آر درج کردیں۔

ایسے بے شمار واقعات میں شہریوں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ ہوجاتا ہے چوری ہو یا ڈکیتی ہو یا قتل یا لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو تو اکثر شریف آدمی 15  پر کال کرنے کی زحمت نہیں کرتا، اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو اسے پولیس پکڑ لیتی ہے، الٹا اسی کے خلاف ایف آئی آر کرکے دیہاڑی لگائی جاتی ہے، اس 15پر کال کرکے اس نیٹ ورک کو مذاق کی بجائے حقیقت میں بدل کر ان بیچارے شہریوں کے مسائل کو حل کرنا چاہیے، افسران کو اس طرف فوری توجہ دینی چاہیے۔

٭٭٭

 پولیس امداد کے طالب شہریوں کی کال بوگس قرار

 دے کر گرفتار،ایف آئی آر درج کرنا افسوسناک ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -