بورڈنگ سکول پر بدستور مافیا قابض،طلباء کی احتجاجی ریلی

  بورڈنگ سکول پر بدستور مافیا قابض،طلباء کی احتجاجی ریلی

  

ترنڈہ محمدپناہ(نمائندہ خصوصی)  1907 میں قائم ہونے والے پرائمری سکول جو 1927 میں مڈل سکول اپ گریڈ ہوا بعدازاں سکول بورڈنگ کے طور پر زیر استعمال رہا تھا 2 روز قبل رات کی تاریکی میں لینڈ مافیا کے سرغنہ محمد رمضان بلوچ نے 20 کس مسلح افراد کے ہمراہ سکول کے ایل ایس اور اسکی فیملی کو زدوکوب کر کے غنڈہ گردی سے سکول کی عمارت پر قبضہ جما لیا تھا (بقیہ نمبر35صفحہ6پر)

جس پر سکول پرنسل چوہدری محمد یونس بسرا نے پولیس تھانہ ترنڈہ محمد پناہ پر ملزمان کے خلاف کاروائی اور قبضہ واگزار کرانے کی درخواست دی تھی جس پر 36 گھنٹے گزرنے کے باجود ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ہی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی جا سکی جس کے خلاف سکول سٹاف اور طلباء نے بوائز سکینڈری سکول سے مین بازار سے ہوتے ہوئے تھانہ ترنڈہ محمد پناہ تک پرامن احتجاجی ریلی نکالی ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈ اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لینڈ مافیا کے سرغنہ رمضان بلوچ کے خلاف نعرے اور انتظامیہ سے سکول عمارت کا قبضہ واگزار کرانے کے نعرے درج تھے تھانہ ترنڈہ محمد پناہ پہنچ کر اساتذہ نے کل دی جانے والی درخواست پر کاروائی نہ کرنے پر احتجاج ریکارڈ کروایا اور فی الفور قبضہ واگزار کروانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر ایس ایچ او۔۔ تھانے موجود نہ تھے اس موقع پر سکول اساتذہ ماسٹر منیر احمد، محمد عبداللہ، ریاض احمد، حبیب احمد، محمد فاروق، جام محمد اقبال، محمد اقبال خان، محمد ظفر حمید، علامہ فیاض احمد، در محمد خان سمیت دیگر اساتذہ بھی موجود تھے احتجاجی ریلی سے خطاب میں اساتذہ نے سکول بورڈنگ عمارت پر لینڈ مافیا کے سرغنہ محمد رمضان بلوچ کے قبضہ کو ناجائز اور کھلی غنڈہ گردی قرار دیا انہوں نے ڈی پی او رحیم یار خان اسد سرفراز اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان۔۔ اور اسسٹنٹ کمشنر لیاقت پور کیپٹن سرمد علی بھاگت سے سکول کی عمارت کا قبضہ واگزار کروانے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ محمد رمضان بلوچ نے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا کہ زمین اسکے نام انتقال ہے سکول والوں نے قبضہ کر رکھا تھا جو میں نے واگزار کروایا ہے سکول انتظامیہ کو مسئلہ ہے تو عدالت جائے۔

ریلی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -