سابق کانسٹیبل کی بحالی کاپنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار

      سابق کانسٹیبل کی بحالی کاپنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس گلزاراحمد،مسٹرجسٹس اعجازالاحسن اورمسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبرنقوی پرمشتمل بنچ نے کریمنل ریکارڈ کے حامل کانسٹیبل سرفراز کو نوکری سے برطرف کرتے ہوئے سرکاری اپیل منظور کرلی، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فاضل بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق کانسٹیبل کی بحالی کاپنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ لاہور سٹریٹ کرائم کا گڑھ بن چکا،پولیس میں کریمینل ریکارڈ والوں کی گنجائش نہیں، پولیس ڈسپلن فورس ہے جس میں صاف شہریت کے اہلکار ہی رہ سکتے ہیں۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں فاضل بنچ نے اپیل کی سماعت کی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو متعلقہ ڈی ایس پی نے عدالت کوبتایا کہ تھانہ لوئر مال کا کانسٹیبل سرفراز اغواء برائے تاوان میں ملوث رہا،کانسٹیبل سرفراز پرنیٹ کیفوں اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزامات ہیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل ملک سرفراز نے عدالت کوبتایا کہ کانسٹیبل سرفراز پرتین فوجداری مقدمات قائم ہوئے،کانسٹیبل سرفراز لمبے عرصے تک نوکری سے غیرحاضر رہا،کانسٹیبل کی طرف سے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ کانسٹیبل پربے بنیاد الزامات ہیں، وہ تینوں مقدمات میں بری ہوا،تھانہ لوئر مال پر ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہا تھا، ایس ایچ او نے زاتی رنجش کے بنیاد پر ملوث کیا اور نوکری سے برخاست کروایا،جس پر فاضل بنچ نے کہاتھانہ لوئر مال میں سب سے زیادہ کرائم رپورٹ ہوتا ہے،سرفراز کے وکیل نے کہا کہ پنجاب سروس ٹربیونل نے نوکری سے غیرحاضری کاعرصہ معاف کردیاتھا،چیف جسٹس نے استفسارکیا اتنے سنگین الزامات پرباضابطہ انکوائری کیوں نہیں کرائی گئی؟فاضل بنچ کے رکن مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیوں نہ معاملے کی انکوائری کرا کرپندرہ یوم میں رپورٹ طلب کرلیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انکوائری کرانے میں حرج نہیں مگرنوکری پربحالی سے متعلق سروس ٹربیونل کے فیصلہ پر عمل درآمد کا حکم جاری کردیاجائے،فاضل بنچ نے یہ استدعا مستردکرتے ہوئے حکومت کی اپیل منظور کرلی۔

کالعدم قرار

مزید :

صفحہ آخر -