پنڈورالیکس: تحقیقات کے لئے سیل قائم، سرپلس پیسہ غریبوں پر لگانے کی سوچ غلط تھی: عمران خان

پنڈورالیکس: تحقیقات کے لئے سیل قائم، سرپلس پیسہ غریبوں پر لگانے کی سوچ غلط ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پنڈورا پیپرز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تحقیقات کیلئے 3 رکنی سیل قائم کر دیا۔  وزیراعظم معائنہ کمیشن کے تحت 3 رکنی سیل قائم کیا گیا ہے۔ سیل پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کرے گا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور نیب کے نمائندے سیل کا حصہ ہوں گے۔وزارت قانون سیل کے تمام قانونی امور دیکھے گی۔ سیل پنڈورا پیپرز میں آنے والے تمام پاکستانیوں کے ناموں کے اثاثوں کی چھان بین کرے گا، سیل دیکھے گا آیا ان افراد نے ٹیکس دیا یا چوری کی۔سیل دیکھے گا کہ ان افراد کی آمدن کے ذرائع جائز تھے، جبکہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ ان افراد نے اثاثے ڈکلیئر کیے یا نہیں، اس بات کی بھی جائزہ لیا جائے گا کہ منی لانڈرنگ ہوئی یا نہیں۔ وفاقی وزراء، اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کو ابتدائی رپورٹ پیش کی۔وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں سے مکمل تحقیقات کی جائے۔ قومی دولت ملک سے باہر لے جانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے۔دوسری طرف وزیراطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے۔ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائینگے۔    پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائینگے دریں اثنا وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ  پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائینگے۔سماجی رابطوں کی  سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹس میں انہوں نے کہا  سیل تحقیقاتی رپورٹ میں یہ تعین کریگا اگر  پبلک آفس ہولڈر کا آف شور اثاثہ  گوشواروں میں ڈکلیئرڈ نہیں ہے تو کرپشن کا کیس  نیب کو ریفر کیا جائے گا۔ منی لانڈرنگ کی صورت میں معاملہ  ایف آئی اے اور جو پبلک آفس ہولڈر نہیں ہے تو ٹیکس چوری کا کیس ایف بی آر کے پاس جائے گا۔اس سے قبل اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،سیل  وزیراعظم معائنہ کمیشن کے تحت قائم  کیا جائیگا  جو پینڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلب اورآف شور کمپنیوں کے سرمائے کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کرے گا۔ تحقیقات کے بعد معائنہ کمیشن کا سیل حقائق قوم کے سامنے رکھے گاپیر کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوئی۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور پینڈورا لیکس کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزرا اور اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی نے وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش کی اور پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانی افراد سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں  پینڈورا پیرز میں شامل پاکستان شہریوں کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا جب کہ کامیاب پاکستان پروگرام اور مہنگائی کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پینڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم معائنہ کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطح کا سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پینڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلب کرے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے مزید کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کا نام پنڈورا لیکس میں شامل ہے، اور کئی ایک پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، وزارت اطلاعات اس ضمن میں شفاف تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے اور پیمرا کو جواب طلبی کیلئے کہا جا رہا ہے۔

عمران خان    

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)  وزیراعظم عمران خان نے  کہا  ہے کہ جہاں امیروں کے جزیرے اور غریبوں کا سمندر ہو وہ ملک کامیاب نہیں ہوسکتا، ماضی میں غلط معاشی پالیسیاں اختیار کی گئیں، ہم سمجھتے تھے پیسہ آ جائے پھر ہم ملک کو فلاحی ریاست بنائیں، پہلے ملک میں پیسہ آ جائے پھر اسے فلاحی ریاست بنانے کا فیصلہ غلط تھا، ریاست مدینہ کا ماڈل ہمارے لئے مشعل راہ ہے، مدینہ میں پہلے فلاحی ریاست قائم ہوئی پھر خوشحالی آئی، کامیاب پاکستان پروگرام 74 سال پہلے شروع کرنا چاہیئے تھا، کامیاب پاکستان پروگرام ملکی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا، چین نے نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا، پہلی بار ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا، یکساں نظام تعلیم کیخلاف آج کتنی آوازیں اٹھ رہی ہیں، یکساں نظام تعلیم کیلئے کبھی کسی نے کوشش نہیں کی، ملکی نظام ایسا تھا صرف اوپر والا طبقہ ہی مراعات حاصل کرسکتا تھا، معاشر   ے میں  عدم مساوات کسی بھی ریاست کے زوال کی علامت ہے۔ پیر کو کامیاب پاکستان پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست دنیا کی کامیاب ریاست تھی، یہ تاریخ کا حصہ ہے، ہم حضوراکرمﷺ کی سنت پر عمل کریں تو ہماری زندگی سنور جائے گی، ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل کریں تو ہماری ریاست ترقی کرے گی، مدینہ کی ریاست پہلے فلاحی بنی پھر وہاں خوشحالی آئی، ہم سمجھتے تھے کہ پیسہ آ جائے گا پھر ہم ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے، پہلے ملک میں پیسہ آ جائے پھر اسے فلاحی ریاست بنانے کا فیصلہ غلط تھا، ماضی میں غلط معاشی پالیسیاں بنائیں گئیں،ہم نے 74سال پہلے بڑی غلطی کی، جس قوم میں انسانیت اور انصاف ہو گااس پر اللہ کی رحمت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین کا موازنہ کریں دونوں کے ابتدائی اشاریے ایک تھے، آج بھارت میں غربت ہی غربت ہے اور چین ترقی کر گیا،چین نے ریاست مدینہ کا ماڈل اپنایا، نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا، انہوں نے وہ کر دکھایاجو دنیا میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم فلاحی ریاست بنے لیکن ماضی میں اس پر عمل ہی نہیں کیا گیا،یہاں ایک ایلیٹ سسٹم بن گیا ہے، تعلیم میں بھی طبقات بنے،چھوٹے سے طبقے کو انگلش میڈیم باقی کو اردو میڈیم تعلیم دی جاتی، نچلا طبقہ اوپر ہی نہیں آ سکا،کسی نے ایک کورس سلیبس لانے پر توجہ ہی نہیں دی،اس طرح امیروں کے بچوں کو نوکریاں ملتیں اور غریب دھکے کھاتا، ہم نے ایک کورس سلیبس بنایا سب نے اس کی مخالفت کی،لوگ آج بھی نا انصافی کے طبقات تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام 74سال پہلے ہی شروع ہو جانا چاہیے تھا،ہمارے ملک کا  نظام ایلیٹ سسٹم بن چکا ہے جہاں گھر،قرضے، تعلیم، صحت اور انصاف پیسے والے کیلئے ہے،ایسا معاشرہ کبھی اوپر نہیں جا سکتاہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی، ایسے ہم ترقی نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1700میں ہندوستان کا جی ڈی پی پوری دنیا میں 24فیصد تھایہ کیسے پیچھے رہ گیا،اس وقت مغل دنیا کے سپر پاور تھے، جہاں امیروں کا جزیرہ ہو اور غریبوں کا سمندروہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہو گا،غریب آدمی کی زندگی بہتر کرنے والے معاشرے پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے،اس منصوبے میں مشکلات آئیں گی لیکن ہماری کوشش جاری رہے گی، مہنگائی کی وجہ سے عوام تکلیف میں ہے، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے، چند دنوں میں دنیا میں تیل کی قیمت 100فیصد بڑھی ہے، جو ممالک پٹرول امپورٹ کرتے ہیں ان میں پاکستان سب سے سستا پٹرول فراہم کر رہا ہے، دنیا میں 37فیصد گندم مہنگی ہوئی ہم نے 12فیصد بڑھائی،قرضوں کے باوجود عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا،ہم نے لیوی ٹیکس صرف عوام کیلئے کم کیا،لوگوں کو خوف ہے کہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ نچلے طبقے کیلئے ڈائریکٹ سبسڈی پروگرام لا رہے ہیں آنے والے دنوں میں مہنگائی کم ہو گی اور ملک ترقی کرے گا۔برطانیہ کے ممبرانِ پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی پر توجہ دی جائے، حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے،فلاحی ریاست اور قانون کی بالادستی ریاستِ مدنیہ کے سنہری اصول تھے،حکومت ملک میں  انصاف و قانون کی بالادستی مکمل طور پر قائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے،،  وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے  برطانوی ممبران پارلیمنٹ  میں  لارڈ واجد خان، ناز شاہ اور محمد یاسین شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو اسلام و فوبیا پر آواز بلند کرنے اور ریاستِ مدینہ کی طرز پر پہلی دفعہ معاشی و سماجی  طور پر پس ماندہ طبقات کیلئے سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت کے اقدامات اٹھانے پر خراجِ تحسین پیش کیا، آزاد کشمیر میں نو منتخب حکومت کے عوامی فلاح کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی،ملاقات میں موجودہ حکومت کے مختلف اقدامات،  عوام دوست پالیسیوں  اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت  کی گئی،  اس موقع پر  وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نظام حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے،فلاحی ریاست اور قانون کی بالادستی ریاستِ مدنیہ کے سنہری اصول تھے،حکومت ملک میں  انصاف و قانون کی بالادستی مکمل طور پر قائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشرے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی پر توجہ دی جائے۔

پروگرام افتتاح

مزید :

صفحہ اول -