مولوی عبد الکبیر افغانستان کے نائب وزیراعظم سیاسی امور مقرر، کابل دھماکے میں ملوث داعش کاسیل تباہ، 11ارکان گرفتار کر لے: طالبان 

مولوی عبد الکبیر افغانستان کے نائب وزیراعظم سیاسی امور مقرر، کابل دھماکے ...

  

         کابل،برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) طالبان نے مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا نائب وزیراعظم مقرر کردیا جبکہ صوبوں میں بھی اہم تعیناتیاں کی ہیں۔طالبان کے تر جما ن اور نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی منظوری کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا نئے وزرا کیساتھ ساتھ صوبوں میں بھی مختلف شعبوں میں تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا نائب وزیر اعظم برائے سیاسی امور مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ملا عبدالحمید اخوند وزیر برائے شہدا و معذورین ہونگے جبکہ ان کے نائب ملا عبدالرزاق اخوند ہونگے۔مولوی سخاء اللہ نائب وزیر تعلیم ہو نگے جبکہ مولوی مطیع الحق کو ہلال احمر کا سربراہ اور سخت گیر رہنما ملا نور الدین ترابی کو ان کا نائب بنایا گیا ہے۔مولوی عبد الرشید کو کابل کا ڈپٹی میئر بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ بھی طالبا ن نے مختلف صوبوں میں بھی تعیناتیاں کی ہیں۔ گزشتہ ماہ طالبان نے افغانستان کی عبوری کابینہ کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند افغانستان کے عبوری وزیر اعظم جبکہ ملا عبدالغنی برادر اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزرائے اعظم ہیں۔اس کے علاوہ طالبان نے 33 رکنی کابینہ اور اہم شعبہ جات کے سربراہان کا اعلان کیا تھا۔دوسری طرف طالبان نے کہا کہ انہوں نے دارالحکومت کابل میں مسجد پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی شدت پسند تنظیم داعش کے ایک سیل کو تباہ کردیا۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا جنگجوؤں نے یہ کارروائی اتوار کی شام کابل کے شمال میں کی گئی، کامیاب آپریشن کے نتیجے میں داعش کا مرکز مکمل طور پر تباہ اوراس میں موجود داعش کے تمام ارکان ہلاک ہو گئے۔ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا تحقیقات ابھی جاری ہیں لیکن ابتدائی معلومات سے پتا چلتا ہے داعش سے وابستہ گروپس نے یہ حملہ کیا، عالمی شدت پسند تنظیم داعش خرا سا ں کیخلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں،11 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ادھر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان میں 70 فیصد میڈیا ادارے بند ہیں۔ افغانستان کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کابل میں صحافیوں کی نیشنل ایسوسی ایشن نے کہا میڈیا ادارے معاشی بدحالی کی وجہ سے  بند ہوئے ہیں، کابل میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کی قومی تنظیم نے کہا ملک کے 28 صوبوں میں آن لائن سروے میں 1500 افغان صحافیوں نے حصہ لیا،67 فیصد افغان صحافی ملازمتیں کھو چکے ہیں جبکہ 33 فیصد شدید دباؤ اور سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔40 فیصد افغان صحافی اپنی جان کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں۔دریں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اب تک طالبان حکومت کا رویہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں،جبکہ افغانستان میں کسی بھی قسم کا معاشی بحران دہشت گردی کا خطرہ اور دیگر خدشات بڑھا سکتا ہے۔گزشتہ روزجوزف بوریل نے سعودی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہاسعودی حکام سے افغانستان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یورپی یونین نے افغانستا ن میں انسانی امداد بڑھا دی ہے تاہم ترقیاتی امداد روک دی گئی ہے اور یہ اقدام دیگر ممالک اور عالمی بینک نے بھی اٹھایا ہے۔یقیناً یہ دوہری مشکل ہے کیونکہ اگر آپ معاشی تباہی سے بچنے کیلئے کسی طریقے سے تعاون کرتے ہیں تو یہ خیال کیا جائیگا کہ آپ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔اگر معاشی بحران پیدا ہوتا ہے تو انسانی حالات مزید خراب ہوجائیں گے، شہریوں کیلئے ملک میں رہنا مزید پریشانی کا باعث بن جائیگا، خدشات اور دہشت گردی کے خطرات مزید بڑھیں گے اور اس طرح افغانستان سے خطرات عالمی برادری کیلئے مزید بڑھ جائیں گے۔

طالبان

مزید :

صفحہ اول -