امریکہ میں اسقاط حمل کی حا می ہزاروں خواتین کے ملک گیر مظاہرے 

امریکہ میں اسقاط حمل کی حا می ہزاروں خواتین کے ملک گیر مظاہرے 

  

       واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ میں اسقاط حمل کے حق کی ہزاروں حامی خواتین نے ملک گیر مظاہرے کئے ہیں۔ ٹی وی چینلز کی رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا مظاہرہ واشنگٹن ڈی سی میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے ہوا جس میں سیکڑوں خواتین نے اسقاط حمل پر پابندی کیخلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے اسقاط حمل کے حق میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ خواتین کے یہ ملک گیر مظاہرے ہوئے ہیں۔ ریاست نیویارک کی خاتون گورنر کیتھی ہو چل نے صدر مقام مین ہٹن میں ایک ریلی میں خواتین کے اس حق کی حمایت میں خطا ب کرتے ہوئے کہا میں خواتین کے اسقاط حمل کے حق کیلئے لڑتے ہوئے تنگ آچکی ہو ں، یہ ملک کا ایک طے شدہ قانون ہے۔ ان کا یہ موقف درست ہے لیکن صرف ریاست ٹیکساس میں حال ہی میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے جس میں چھ ہفتوں کے بعد حمل گرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، بائیڈن انتظامیہ کا محکمہ انصاف اس قانون کو چیلنج کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں جلد اپیل دائر کریگا۔ ریاست ٹیکساس کے صدر مقام آسٹن پر ریاستی قانون کیخلاف مظاہرے کے شرکاء کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔ یاد رہے امریکہ میں 1973ء میں ایک قانون کے ذریعے اسقاط حمل کو پورے ملک میں قانونی قرار دیدیا گیا تھا۔

امریکہ مظاہرے

مزید :

صفحہ اول -