ضم اضلاع کی تیز رفتار ترقی حکومت کی ترجیح ہے: محمود خان 

  ضم اضلاع کی تیز رفتار ترقی حکومت کی ترجیح ہے: محمود خان 

  

        پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ضم اضلاع کی تیزرفتار ترقی ان کی حکومت کی ترجیحات کااہم حصہ ہے اور موجودہ حکومت اس مقصد کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھار ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیراعلیٰ ضم اضلاع کے حقوق کے حصول اور وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کو دور کرنے کے لئے ہر دستیاب فورم پرمؤثر آواز اٹھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں تمام ترقیاتی منصوبے وہاں کے عوام کے منتخب نمائندوں کی بھر پور مشاورت سے ترتیب دیئے جائیں گے اور اس سلسلے میں لوگوں کی ضروریات کو مد نظر رکھا جائیگا اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جن کافائدہ زیادہ سے زیادہ عوام کو ملے۔ محمود خان نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں کسی بھی حلقے کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی جائے گی اور تمام حلقوں کو ان کا پورا پورا حصہ ملے گا۔ ضم اضلاع میں اسکولوں سے متعلق ممبران قومی اسمبلی کے اٹھائے گئے مسائل کے حل کے لئے وزیراعلیٰ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اعلیٰ حکام کا ایک خصوصی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی۔ ممبران قومی اسمبلی نے قبائلی اضلاع کی ترقی اور وہاں کے عوامی مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی کے ساتھ کام کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ہائی رائزبلڈنگ کی تعمیر سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے این او سیز کے اجرا ء میں  غیر ضروری تاخیر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق مقررہ ٹائم لائنز کے اندر اندر اس طرح کے این او سیز کے اجراء کو یقینی بنانے اور نجی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جب حکومت نے اس مقصد کیلئے قوانین اور بائی لاز بنائے ہیں تو ان پرمن و عن عمل درآمد ہونا چاہئیے۔ اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے بنائے گئے قوانین پر من و عن عملدرآمد متعلقہ محکموں اور اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ پیر کے روز محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، کمشنر پشاور، ڈی جی پی ڈی اے کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں کمرشل عمارتوں کی تعمیر کیلئے این او سیز کے اجراء سے متعلق ٹی ایم ایزاورمحکمہ بلدیات کے دیگر ذیلی اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نچلی سطح پر سرمایہ کاروں کو بے جا تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو انتہائی افسوس ناک اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کا وژن ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو انتہائی ذمہ داری اور معمول سے ہٹ کر کام کرنا ہو گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان تمام قوانین کو بنانے کا مقصد صوبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر لوگوں کیلئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب سرمایہ کاروں کو زیادہ سہولیات فراہم ہوں۔ اُنہوں نے واضح ہدایت کی کہ متعلقہ محکمے اور ادارے ان قوانین پر سو فیصد عمل درآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر کسی کو معاف نہیں کیا جائے گااور ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جس کام سے صوبے میں گورننس متاثر ہواور حکومت کی کارکردگی پر اُنگلی اُٹھے وہ کسی صورت برداشت نہیں ہو گی، اُنہیں پریزنٹیشن کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ عملی کام پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجی سرمایہ کاری کیلئے این او سیز کے اجراء کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق ہر صورت یقینی بنایا جائے جبکہ قانونی لوازمات اور شرائط پر پورا نہ اُترنے والے سرمایہ کاروں کوصاف جواب دیا جائے۔ سرمایہ کاری کی راہ میں غیر ضروری طور پر روڑے اٹکانے سے اجتناب کیا جائے، قانونی شرائط پر پورا اُترنے والے سرمایہ کاروں کو این او سیز کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر پر سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو اس طرح کے جملہ معاملات کی خود نگرانی کرنے جبکہ محکمہ بلدیات کو نجی سرمایہ کاری کیلئے جاری شدہ این او سیز سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -