ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ، نیب گواہ کا ایسا جواب کہ کسی کو یقین نہ آئے 

ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ، نیب گواہ کا ایسا ...
ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ، نیب گواہ کا ایسا جواب کہ کسی کو یقین نہ آئے 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی جہاں شاہد خاقان عباسی کے وکیل نیب گواہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی عاصم ترمذی کے بیان پر جرح کی ۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے سوال کیا کہ ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی تھی ، نیب گواہ سید عاصم ترمذی نے کہا مجھے یاد نہیں کہ کون تھے ، انرجی سکیورٹی ایکشن پلان کے ذریعے ایل این جی کو فاسٹ ٹریک پر لایا گیا ، ظفر اللہ نے پوچھا کہ انرجی سکیورٹی ایکشن پلان کیا ہے ؟نیب گواہ نے جواب دیاکہ مجھے علم نہیں ۔

 شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے نیب گواہ کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ سوئی سدرن گیس کا بورڈ کتنے ممبران پر مشتمل ہوتاہے جس پر گواہ نے جواب دیا کہ بورڈ 11سے 14 ممبران پر مشتمل ہوتاہے ، مجھے علم نہیں کہ بورڈ اجلاس میں کون کون شرکت کرتا تھا ۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے پوچھا کہ ایل این جی کو پرائیویٹ سیکٹر سے امپورٹ کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر ہوا تھا ، نیب گواہ نے جواب دیاکہ یہ فیصلہ اس وقت کے صدر اور وزیر اعظم کی ہدایت پر ہوا تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -