وزیر اعظم عمران خان 69 برس کے ہو گئے ، سوشل میڈیا پر کارکنوں اور مداحوں کی مبارکبادیں

وزیر اعظم عمران خان 69 برس کے ہو گئے ، سوشل میڈیا پر کارکنوں اور مداحوں کی ...
وزیر اعظم عمران خان 69 برس کے ہو گئے ، سوشل میڈیا پر کارکنوں اور مداحوں کی مبارکبادیں

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  وزیر اعظم عمران خان 69 برس کے ہو گئے ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وزیر اعظم کو ان کی 69 ویں سالگرہ پر مبارکباد کے پیغامات دیے جا رہے ہیں ۔

نجی ٹی وی 24  نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف 5 اکتوبر  1952 کو میانوالی میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے ،انہوں نے  ابتدائی تعلیم کیتھیڈرل سکول اور ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر سکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ  یونیورسٹی سے سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی،  وہ 1974ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

عمران خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے اپنا ڈیبیو 18 سال کی عمر میں برمنگھم میں 1971 کی پاک انگلینڈ سیریز میں کیا ،  انہوں نے بطور کپتان  1992 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انتہائی عروج  پر ہونے کے باوجود ریٹائرمنٹ لے لی ،  25 اپریل 1996 کو  اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان مختلف برطانوی اور ایشیائی اخباروں میں خاص طور پر پاکستان کی قومی ٹیم کے بارے میں آرٹیکل تحریر کرتے رہے ہیں، انہوں نے بی بی سی اردو ، سٹار ٹی وی نیٹ ورکر سمیت متعدد اشیائی اور برطانوی کھیلوں کے نیٹ ورکر پر مبصر کے طور پر خدمات انجام دیں  جب سال 2004 میں بھارتی کرکٹ ٹیم 14 سال بعدپاکستان کھیلنے کیلئے آئی تو عمران خان  ٹین اسپورٹس چینل کے خصوصی براہ راست پروگرام میں مبصر تھے۔

عمران خان کو نومبر 2005 میں بیرونس لاک ووڈ کے بعد بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا گیا وہ 9 برس تک اس عہدے پر فرائض انجام دیتے رہے مگر 30 نومبر 2014 کو بوجہ سیاسی مصروفیات انہوں نے اس عہدے کو بھی چھوڑ دیا ۔  یونیورسٹی کے وائس چانسلر برائن کینٹرن نے عمران خان کو طالب علموں کے لیے ایک شاندار رول ماڈل قرار دیا۔

عمران خان سال 2002  کے عام انتخابات میں میانوالی کی سیٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ،  انہوں نےقومی اسمبلی کی  کشمیر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں میں بھی خدمات سر انجام دیں۔ سال 2007 میں سابق جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفیٰ دیابغیر صدارتی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ، جس کے خلاف آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ نے عمران خان کے ساتھ مل کر تحریک چلائی جس کے باعث پرویز مشرف نےہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کو نظر بند کرنے کی کوشش کی مگروہ فرار اور روپوش ہو گئے ، بعد ازاں انہیں پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ احتجاج کرنے پر گرفتار کر کے ڈیرہ غازی خان کی جیل میں بھجوا دیا گیا۔ 18 نومبر کو عمران خان نے جیل میں بھوک ہڑتال کی جس کے بعد انہیں 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

عمران خان کو عروج  2011 کے لاہور جلسے میں حاصل ہوا جہاں انہوں نے میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد سے خطاب کرتے ہوئے دو جماعتوں کی اقتدار میں باریوں کا نکتہ اٹھا کر ملک کو لوٹنے کا الزام عائد کیا، اس کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی جماعت میں جان ڈل گئی اور اس کے حامی تیزی سے بڑھنے لگے ، 2013کے انتخابات میں ان کی جماعت ملک میں تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری جبکہ انہوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں حکومت بھی بنائی ۔

سال 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی سب سےبڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری اور انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -سیاست -