عدالت کوشش کرتی ہے کہ فائل پر آجائیں مگر وکلاءاردگرد گھومتے رہتے ہیں ، چیف جسٹس پاکستان کا پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب 

عدالت کوشش کرتی ہے کہ فائل پر آجائیں مگر وکلاءاردگرد گھومتے رہتے ہیں ، چیف ...
عدالت کوشش کرتی ہے کہ فائل پر آجائیں مگر وکلاءاردگرد گھومتے رہتے ہیں ، چیف جسٹس پاکستان کا پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب 

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کچھ وکلاءنے شکایات کی ہیں کہ جج صاحب کیس سے قبل ہی سوالات شروع کر دیتے ہیں ، کچھ شکایات ہماری بھی ہیں جیسے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وکیل کیس کی فائل پر بات کریں مگر وکلاءاردگرد گھومتے رہتے ہیں اور یہ کشمکش جاری رہتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پنجاب بارکونسل کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وکلاءاور عدالت ایک ہی دو راہے کا حصہ ہیں ، جو توقعات عدالت وکلاءسے رکھتی ہے وہی وکلاءبرادری عدالت سے رکھتی ہے ۔ وکیل محترم کیس کی تیاری کر کے نہیں آتے ، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فیصلہ درست کیا جائے مگر حقائق وکلاءسامنے رکھتے ہیں ، کیسز کی فوری سماعت کی کوشش کرتے ہیں ، ایک دن میں فوری سماعت کیلئے آٹھ دس فائلیں ملتی ہیں جن میں ڈیڑھ دو سو کیسز درج ہوتے ہیں ، کوشش کرتاہوں کہ تمام پر سماعت ہو جائے ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ میں قریباً دس برس ہو چکے ہیں ، اس لئے ہائیکورٹ کے معاملات سے کچھ دور رہا ہوں مگر وکلاءسے ملاقاتوں میں یہاں کے حالات کا علم ہوتا رہتا ہے ، پنجاب بار کونسل نے جو ڈرافٹ بنایا ہے اس کو دیکھا ہے اور کافی غور وخوض بھی کیا ہے ، جانتا ہوں کہ کورونا کی وجہ سے وکلاءکو بہت مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، ہاو¿سنگ سوسائٹی کا معاملہ حل ہو رہا ہے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -