وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا اعلان لیکن اس کا خفیہ ہیڈ کوارٹر آج کل کس علاقے میں ہے؟ وہ معلومات جو شاید آپ نہیں جانتے

وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا اعلان لیکن اس کا خفیہ ہیڈ کوارٹر آج کل کس ...
وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا اعلان لیکن اس کا خفیہ ہیڈ کوارٹر آج کل کس علاقے میں ہے؟ وہ معلومات جو شاید آپ نہیں جانتے

  

لاہور (کالم: لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)وزیراعظم عمران خان نے اگلے روز ایک ترک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بعض عناصر سے مذاکرات کر رہی ہے۔ آج کل اس تحریک کا خفیہ ہیڈکوارٹر شمالی وزیرستان میں ہے۔ اگر آپ نے (میری طرح) وہ علاقہ دیکھا ہے تو آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کی ٹیرین قدرت کی طرف سے عطا کردہ خفیہ کمین گاہوں کی آماجگاہ ہے۔ برطانوی دور میں بھی یہ دونوں وزیرستان (شمالی اور جنوبی) ان علاقوں میں شامل تھے جو ان کی دسترس سے باہر رہے۔

جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں کی زمین ایک دم خیبرپختونخوا سے جدا ہو کر نیم ہموار ٹیرین سے مکمل ناہموار ٹیرین میں ڈھل جاتی ہے۔ قدم قدم پر گھاٹیاں، ندی، نالے، غاریں، کھوہ، جنگل اور سخت اور سنگلاخ ترائیاں آپ کا استقبال کرتی ہیں اور جو کچھ آپ نے ایک کمین گاہ کی تعمیر کے سلسلے میں عسکری درسگاہوں میں پڑھا ہوتا ہے یا ملٹری ہسٹری کی کتابوں میں یہ تفصیل دیکھی ہوتی ہے، عین مین وہ سب کچھ آپ کو یہاں بنا بنایا مل جاتا ہے۔

میدانی، نیم کوہستانی اور نیم صحرائی علاقوں میں گھات لگانے کے لئے تیاری کرنا پڑتی ہے اور کئی عارضی اور مستقل تعمیرات کی بنیادیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ لیکن اس شمالی وزیرستان میں یہ سب کچھ آپ کو جگہ جگہ مل جاتا ہے۔ چنانچہ یہاں کے باسیوں کا پیشہ لوٹ مار، قتل و غارت گری اور سفاکی و بربریت کی ”صفات“ آزمانے کا پیشہ ہے۔ جس طرح ہموار اور زرخیز میدانی علاقوں کے رہنے والے کاشتکاری پر مجبور ہوتے ہیں، اسی طرح ان علاقوں کے باشندے خونریزی پر مجبور ہوتے ہیں اور جس طرح کاشتکار کو آلاتِ کشاورزی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح وزیرستانیوں کو آلاتِ قتل کی احتیاج ہوتی ہے اور یہ کام صدیوں سے چل رہا ہے۔ اسے ایک امن پسند علاقے میں ڈھالنے کا کام اگرچہ آج جدید ٹیکنالوجی نے آسان بنا دیا ہے، پھر بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل ہو چکی لیکن پاکستانی طالبان کی نئی حکومت چونکہ تشکیل نہیں ہو سکی اس لئے ان کے سینوں میں پاکستان کے اندر ایک ’نیا افغانستان‘ بنانے کے خواب پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ ٹی ٹی پی نے حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کرنے کے دوران درج ذیل تین شرائط پیش کی ہیں:

1۔ فاٹا کے انضمام کو کالعدم قرار دیا جائے۔

2۔ٹی ٹی پی کے قیدی جو حکومت نے جیلوں میں بند کر رکھے ہین، ان کو رہا کیا جائے۔

3۔ ٹی ٹی پی کمانڈروں کو مسلح رہنے کی اجازت دی جائے۔

درج بالا شرائط اور آزادیاں وہی ہیں جو فاٹا کے ادغام سے پہلے وزیرستانیوں کو حاصل تھیں۔ وہ نیم آزاد اور نیم خود مختار تھے، ان کا اپنا قانون تھا، اپنی عادات تھیں جن کو مرورِ ایام نے ’پشتون والی‘ ثقافتی روایات کا نام دے دیا۔ ان روایات سے سرمو انحراف کسی بھی وزیرستانی (ٹی ٹی پی کے اراکین) کو پسند نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہتھیار بند رہنا ان کا پیدائشی حق ہے۔اب ان کو کون بتائے کہ دنیا بدل چکی ہے۔

پاکستان کے پاس اپنی ائر فورس ہے اور اپنی ڈرون فورسز ہیں۔ وزیرستان کوئی ایسا وسیع و عریض علاقہ نہیں کہ پاکستان کی فضائی قوت اس کے طول و عرض میں فضائی ایکشن نہ کر سکے۔ لیکن جو بات پاکستان کو ایسا کرنے سے روکتی ہے اس کی دو پرتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ علاقے پاکستان کے اپنے علاقے ہیں۔ ان پر کارپٹ بمباری کرکے ویت نام کی جنگ میں امریکی فضائی قوت کی وحشیانہ کارروائیوں کی یاد تازہ کرنا سٹرٹیجک لیول پر پاکستان کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ اور دوسری پرت یہ ہے کہ ایک گمراہ اقلیت کو راہِ راست پر لانے کا چیلنج اگرچہ بہت زیادہ دل آزاری کا باعث ہے لیکن اسے آزمانے میں کیا ہرج ہے؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ ہتھیار پھینک دیں تو ان میں بعض گروپوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو تحریک طالبان پاکستان کو امن کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں؟ میرے خیال میں ان کے آباؤ اجداد نئی راہ پر چلنے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت مذاکرات میں ان سے پوچھ رہی ہے کہ وہ واپس فاٹا کا احیاء کیوں چاہتے ہیں۔ یہ تو اب پاکستانی آئین کا حصہ بن چکا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ ان علاقوں کو جلد از جلد پاکستان کے دوسرے علاقوں کے برابر لایاجائے۔ حکومت نے اس مقصد کے حصول کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں اور جو جاری ہیں، ان کا نتیجہ لاکھ آہستہ خرام سہی لیکن نوشتہء دیوار ہے۔ اگر تحریک کے ”آباؤ اجداد“ مذاکرات پر راضی ہوئے ہیں تو یہ ان نوجوانوں کی فتح ہے جو اپنے اجداد کی ”پشتون والی“سے تنگ آکر ایک نئی اور بہتر زندگی کے طالب ہیں …… پرانے قاتل طالبان کو نئے طالبان میں ڈھلنے کے لئے وقت درکار ہے اور وزیراعظم نے ان کے سامنے ایک آپشن رکھ کر ان کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ گمراہی چھوڑ کر صراطِ مستقیم پر آ جائیں۔

جہاں تک قیدیوں کو رہا کرنے اور کمانڈروں کو مسلح رہنے کی اجازت دینے کا سوال ہے تو حکومت ان ہر دو شرائط پر اپنا موقف نرم کرتی نظر آتی ہے۔ یہ مذاکرات افغانستان کے کسی علاقے میں ہو رہے (اغلب خیال یہی ہے کہ یہ علاقے شمالی وزیرستان کی مغربی سرحد سے ملحق ہیں اور یہاں وزیرستانیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے) جنگلہ بندی کے جو علاقے ابھی تک جنگلہ بند نہیں کئے گئے ان میں ایک بڑی رکاوٹ انہی طالبانِ پاکستان کی وہ آبادیاں ہیں جو وزیرستان اور اس سے ملحق و منسلک علاقوں میں رہ رہی ہیں۔

حکومت کے پاس یہ آپشن بھی ہے کہ وہ ان علاقوں میں اپنی ائر فورس صف بند کر سکتی ہے۔ اگر امریکی ائر فورس کو ان علاقوں میں ڈرون بازی کی کھلی چھٹی نہ مل سکی تھی تو اس کا ادراک ان طالبان کو ہونا چاہیے۔ افغان طالبان جو اس مذاکراتی عمل میں شریک ہیں اگر وہ ٹی ٹی پی کو اس بات پر راضی کر لیتے ہیں کہ وہ ”کچھ دو اور کچھ لو“ کی مساوات میں وزیرستان کے ادغام کی طرف مراجعت ترک کرکے ایک قابلِ عمل راہ نکال سکتے ہیں تو یہ افغان طالبان کا پاکستان پر ایک ”احسان“ ہوگا۔

باقی رہی یہ بات کہ پاکستان کی سیاسی اپوزیشن اس موضوع کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہی ہے تو اس مطالبے کے پیچھے جو عوامل ہیں، ان سے نہ صرف حکومت آگاہ ہے بلکہ پاکستانی عوام کو بھی معلوم ہے کہ اپوزیشن کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کیا ہیں۔ ہم صبح و شام ان لوگوں کی لن ترانیاں سنتے ہیں اور سن سن کر بعض اوقات ہنستے اور بعض اوقات روتے ہیں کہ یا اللہ پاکستانی قوم کو ’یکجائی‘ کب نصیب ہو گی؟ اگر وزیراعظم نے مذاکرات کا ’راز‘ فاش کر ہی دیا ہے تو میڈیا کے ’ٹاک شوز‘ کے لئے ہفتے بھر کا راشن پانی بھی فراہم کر دیا ہے جو ہم سن اور دیکھ رہے ہیں اور امید ہے سنتے اور دیکھتے رہیں گے۔اللہ اللہ خیر سلا!

مزید :

قومی -