سلام استاد ...

سلام استاد ...
سلام استاد ...

  

لق و دق صحرا ... گرم ہوا ... اونچے نیچے ٹیلے ... ایک درخت کے نیچے اصحابؓ رسولﷺ محفل جمائے محو گفتگو ہیں. شمع محفل حضرت علیؓ بھی موجود ہیں،اچانک سے گرد و غبار کے بادل دکھائی دیتے ہیں، چند لمحوں بعد ایک گھڑ سوار گردوغبار کے بادلوں کو چیرتا ہوا جانب محفل آتا دکھائی پرتا ہے.جونہی قریب پہنچتا ہے. نگاہ پڑتے ہی حضرت علیؓ تعظیماً کھڑے ہو جاتے ہیں.اصحابؓ رسولﷺمجسمہ حیرت بنے دریافت کرتے ہیں.  اے علیؓ ... کافر کی یہ تعظیم کیسی ؟؟؟؟ حضرت علیؓ کے حیران کن الفاظ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں "یہ وہ شخص ہے کہ جس نے قبولِ اسلام سے پہلے مجھے ایک لفظ سکھایا تھا." اس عظیم شخصیت کے یہ الفاظ تاریخ میں ثبت ہو گئے. "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں،چاہے مجھے بیچے یا آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے "

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ ... اسلام علیکم ورحمۃ اللہ ... بغداد کی جامع مسجد ...سپیکر سے آواز گونجتی ہے. امام سلام پھیرتا ہے. مقتدی پیروی کرتے ہیں. دعا اور سنتوں کی ادائیگی کے بعد لوگ جوق در جوق واپسی کی راہ تک رہے ہیں، اس مجمع میں بادشاہ وقت بھی شامل ہے، شہزادے اور انکے استاد محترم بھی... اچانک ایک عجیب منظر نگاہوں کے سامنے وا ہوتا ہے دونوں شہزادے باہم متصادم ہیں اور وجہ تنازع استاد محترم کے جوتے ہیں. بادشاہ وقت خلیفہ ہارون رشیدؒ اسی اثناء میں باہر تشریف لاتے ہیں. چشم کشاء منظر دیکھ کر گرجتے ہیں "دونوں استاد محترم کا ایک ایک جوتا اٹھا لو" اگلے دن دربار سجتا ہے . بادشاہ وقت سوال کرتا ہے. آج کے دن سب سے زیادہ معزز کون ہے. درباری جواب دیتے ہیں. آپ سے زیادہ معزز اور کون ہوسکتا ہے. صدا بلند ہوتی ہے. نہیں بلکہ آج کے دن سب سے زیادہ معزز وہ ہے جس کی جوتیاں اٹھانے کیلئے بادشاہ وقت کے بیٹے جھگڑتے ہیں.

ذرا ٹھہریے . ایک اور منظر ملاحظہ کیجئے. اپنے وقت کا بہترین سپہ سالار حکمران مسند اقتدار پر جلوہ فرما ہے. درباری تعظیم بجا لاتے ہیں. سوالی اجازت طلب کرنے کے بعد دریافت کرتا ہے. "اے شہنشاہ اعظم آپ استاد کو باپ پر کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ چند لمحوں کو دربار میں سناٹا چھا جاتا ہے، اس سکوت کو توڑتی ایک رعب دار آواز بلند ہوتی ہے"باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا ستاد ارسطو مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا، باپ سبب حیات فانی اور استاد سبب حیات جاودانی ہے، باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے اور استاد میری روح کی.. جی ہاں اگر آپ پہچاننے میں غلطی نہیں کر رہے تو یہ اپنے وقت کے عظیم حکمران سکندر اعظم ہیں جنہیں دنیا الیگزینڈر دی گریٹ کے نام سے جانتی ہے.

اگر سکت ہے تو یہ منظر بھی دیکھ لیجئے.شہنشاہ وقت کے صاحبزادے علم وادب کی تعلیم حاصل کرنیکے لئے درس گاہ پہنچتے ہیں.استاد محترم تشریف لاتے ہیں . علم و تعلم میں کچھ وقت گزارنے کے بعد استاد کو وضو کی حاجت ہوتی ہے. شاگرد پانی ڈالتا ہے،اسی اثناء میں جبکہ وضو مکمل ہونے کو ہے. شہنشاہ وقت کا گزر ہوتا ہے نگاہیں اس منظر کو دیکھتی ہیں اور برہمی کی حالت میں شہنشاہ کی تعظیم سے لبریز آواز بلند ہوتی ہے "میں نے اسکو آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اسکو آداب سکھائیں گے. آپ نے اسے یہ حکم کیوں نہ دیا .کہ ایک ہاتھ سے پانی گرا دے اور دوسرے سے پاؤں دھو ڈالے ... "

چشم کشاء مناظر کی طویل فہرست ہے. جس کی ایک ادنی جھلک پیش کرنیکی جسارت کی ہے. تاریخ کھنگال لیجئے. دنیا کی امام عظیم ریاستوں, حکمرانوں اور شخصیات کی زندگی کامطالعہ کیجئے، آپ کو ان سب میں ایک قدر مشترک نظر آئے گی اوروہ ہےتعلیم ومعلم دوستی اورقدر دانی کی عظیم روایت.اسلام کئی دہائیوں تک سپر پاور رہا تو اسکی وجہ مسلم حکمرانوں کی علم دوستی اور معلم کی قدردانی تھی. علم کو اسقدر فروغ اور معلم کو وہ رتبہ دیا گیا . جسکا وہ حقدار تھا.آج کی جدید دنیا اور انسان اگر  کائنات کی پہنائیوں تک پہنچ پایا ہے اور دوسری کائنات ارض و سماء پر کمندیں ڈال رہا ہے تو اسکی وجہ ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کرنے والے عظیم مسلم حکمران ہیں. جن کی بدولت ابتدائی دنیا حقیقی معنوں میں علم وامن کا گہوارا بنی. جب تک مسلم حکمران علم و تعلم کی سرپرستی کرتے رہے. اندلس بغداد, قاہرہ ,دمشق اور مسلم ریاستیں علم و فن کا مرکز بنی رہیں، دنیا میں انکی سطوت کے پرچم لہراتے رہے اور مسلم تہذیب و تمدن کا طوطی بولتا رہالیکن جوں جوں مسلمانوں میں دیگر اخلاقی عوارض کیساتھ علم و معلم کی قدر دانی گھٹتی چلی گئی توں توں اقتدار کی گرفت بھی ڈھیلی پرتی گئی اور قوت و اقتدار کی جگہ ذلت و رسوائی نے لے لی.۔۔

اگلا دور اگر تھا تو وہ یورپ کا تھا کہ جس نے مسلمانوں سے اس علم کو سیکھا، اس کی ناقدری کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے علم و معلم دوستی کو زاد راہ بناکر جہالت کے اندھیروں کو دور بھگایا، نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا. علم و معلم دوستی کی بنیاد پر جدید یورپ کی داغ بیل ڈالی گئی. یورپ اور امریکہ اس ہتھیار کی بدولت دنیا کی کنجیوں کے مالک ٹھہرے.ہم علم و معلم کی ناقدری کی بنیاد پر مغلوب ہوتے چلے گئے.ہم نےاپنی سنہری تاریخ کا وہ سبق بھلا دیا کہ کس طرح طالبعلموں(رضوان اللہ علیہم اجمعین) نےمعلم ( صل اللہ علیہ وسلم) کی قدر دانی کی اور بے سروسامانی کے باوجود دنیا پر چھاتے چلے گئے. رب کائنات نے کئی گنا بڑے دشمن پر انکی دھاک بٹھا دی.یہ اصحابؓ چہار دانگ عالم کے بادشاہ تسلیم کئے گئے، وقت گزرتا گیا، غلامی کی زنجیریں مضبوط تر ہوتی چلی گئیں،یہاں تک کہ سرسید احمد خانؒ ,علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ جیسے نابغہ روزگارنگینے مسلمانوں میں ابھرے جنہوں نے امت کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہوئے انکی توجہ علم وتعلم کی جانب مبذول کروائی

وقت گزرتا رہتا ہے مگر استاد کا مقام و احترام اپنی جگہ موجود رہتا ہے. اس تیزی سے بدلتے وقت نے ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیوں کو جنم دیا ہے جو معاشرتی تباہی کا سبب ہیں. انہی میں سے ایک استاد کا احترام نہ کرنا ہے، اگر اپنے بزرگوں سے اساتذہ اور شاگردوں کا حال دریافت کیا جائے تو معلوم پڑتا ہےکہ استاد کا احترام کیا ہوتا ہے،جواب ملتا ہےکہ علم حاصل کرنیکا شوق تو انکے دور میں ہوا کرتا تھا،جہاں استاد کا ایک مقام و مرتبہ ہوا کرتا تھا لیکن جب نگاہ آج کے پاکستان پر پڑتی ہےتو حزن و ملال کی ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے، جہاں تعلیم کاروبار, استاد کو ایک ذاتی ملازم اور طالبعلم کو گاہک بنا دیا گیا ہے ،  تعلیمی ادارے ایک کمرشل حیثیت اختیار کر چکے ہیں.

مادیت پسندی کی انتہا یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی ایک بے بس اور معمولی تنخواہ دار ملازم بنا دیا گیاہےکہ جن کے ہاتھ کار سرکار کے ساتھ ساتھ نوخیز اور نوجوان نسل کے سامنے بھی باندھ کر رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ جو جی میں آئے کریں، کوئی تہذیب سکھانے والا, روک ٹوک اور پوچھ گچھ کرنیوالا نہیں.حکومتوں کی کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے سب سےکم توجہ کا مستحق شعبہ تعلیم کو گردانا ہے. یہیں پربس نہیں بلکہ سب سے کم بجٹ بھی شعبہ تعلیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے. اساتذہ کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں، تعلیمی اداروں کے سربراہان کی تقرریاں بھی سیاسی مداخلت, سفارش, رشوت اور پرچی سسٹم کی بنیاد پر ہوتی ہیں،کم علم , سرمایہ دار اور کاروباری ذہنیت کے حامل افراد کے ہاتھ محکمہ تعلیم کی باگ ڈور تھما دی جاتی ہے جو تعلیم کی الف ,ب سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔۔۔ کیا یہ معاشرتی تباہی کی ایک بڑی مثال نہیں؟ ضرورت اس امر کی ہےکہ اپنے ان مجموعی رویوں کو تبدیل کیا جائے. صحیح معنوں میں علم و ہنر کی سرپرستی کیجائےاور استاد کو معاشرے میں اسکا جائز مقام دیا جائے تاکہ ایک روشن مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکےاور اقوام عالم کے درمیان ہم نمایاں مقام حاصل کر سکیں. اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -