پانی اور پاکستان

پانی اور پاکستان
پانی اور پاکستان

  

ہر سال یکم اپریل ایک ایسے تلخ واقعہ کی یاد تازہ کردیتا ہے،جب ہندوستان نے 64سال پہلے پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو بھوک سے مارنا چاہا۔یہ ہندوستان کا نوزائیدہ پاکستان پر پانی کی جنگ کا پہلا وار تھا....یکم اپریل 1948ءکو ہندوستان نے اچانک مغربی پنجاب کی نہروں میں پانی کی سپلائی روک دی۔ پانی بیشک پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے آب حیات کی مانند ہے، کیونکہ اس کی معیشت کا انحصار 70فیصد زراعت پر ہے، لہٰذا اس وقت لاکھوں ایکڑ کھڑی فصلیں بُری طرح متاثر ہوئیں۔یہاں تک کہ پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں تھا۔وہ ہزاروں غریب لوگ جن کی روزی روٹی کا انحصار صرف زراعت پر تھا اور وہ تمام مہاجر جو ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے ،مشکلات میں گھر گئے۔

1947ءمیں متحدہ پنجاب کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے پنجاب کی نہروں اور دریاﺅں کے ہیڈ ورکس بھارت کے حصے میں آ گئے،اس لئے دہلی نے پاکستان کی نہروں میں پانی کی سپلائی روک دی۔یہ نہ صرف غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکت تھی، بلکہ جولائی 1947ءکے معاہدے کی بھی خلاف ورزی تھی۔3مئی 1948ءکو پاکستانی وفد دہلی گیا۔ پانی کی سپلائی بحال کروانے کے لئے 4مئی کو انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ پیش کیا،۔جس میں قوما تک بدلنے کی اجازت نہیں تھی۔دستخط نہ کرنے کا مطلب قحط اور بھوک تھا۔بالآخر پاکستانی وفد کو دستخط کرنا پڑے ،لاکھوں پاکستانیوں کو بھوک سے بچانے کے لئے ۔

یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ تو آغاز تھا، نہ ختم ہونے والے پانی کے جھگڑے کا۔اس سلسلے میں بہت سے مذاکرات ہوئے،جن کے نتیجے میں 1950ءکا واشنگٹن ڈی سی اور 1960ءکا سندھ طاس معاہدہ بھی شامل ہے۔اس معاہدے کے مطابق ستلج، بیاس اور راوی انڈیا، جبکہ چناب، جہلم اور دریائے سندھ پاکستان کے حصے میں آئے ۔اس معاہدے میں منگلا اور تربیلا ڈیم بنانے کی اجازت بھی شامل تھی۔یہ معاہدہ بھی ناکام رہا۔اس کے ناکام ہونے میں درج ذیل عوامل کارفرما تھے:

پہلا : کم پانی اور بجلی کا بحران۔خاص طور پر یہ پانی کا بہاﺅ مغربی دریاﺅں سے انڈیا کی طرف۔

دوسرا:منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی تعداد میں کمی۔

تیسرا:پاکستان میں بڑے ڈیم کی کمی۔

کالاباغ ڈیم جو کہ 1996ءمیں تعمیر ہونا تھا،وہ پاکستان کی سیاست کی نذر ہوگیا اور آبادی کے بڑھنے سے پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ، جو کہ 76ملین سے 180ملین ہوگئی ہے، جبکہ پانی کی سپلائی میں کمی 40فیصد سے زیادہ ہو کر 50فیصدہوگئی ہے،جس کا خمیازہ نہ صرف خوراک اور صحت کے شعبوں کو بھگتنا پڑرہا ہے، بلکہ بے تحاشالوڈشیڈنگ بھی عوام کا مقدر ہے،جبکہ دوسری طرف انڈیا آئے روز نئے ڈیم تعمیر کررہا ہے،جس کی وجہ سے مغربی دریاﺅں میں پانی کی سپلائی مسلسل خطرے میں ہے، جو کہ سراسر جموں و کشمیر معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک ہلا دینے والے رپورٹ کے مطابق انڈیا مغربی دریاﺅں پر 190ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے،جس سے وہ 33000میگاواٹ بجلی پیدا کرسکے گا۔ان میں سے 33ڈیم دریائے سندھ پر بنائے جائیں گے۔ یہ ڈیم 6سال کے عرصے میں، یعنی 2011ءتک مکمل ہو جائیں گے۔

پاکستانی دریاﺅں پر انڈیا کا مکمل قبضہ پاکستان کی سلامتی و بقاءکے لئے نہ صرف خطرہ ہے ، بلکہ ان دریاﺅں پر تعمیر کئے جانے والے ڈیم ہماری معیشت کے لئے بھی خطرہ ہیں،جس سے لاکھوں، کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ایسے حالات میں ایک آخری امید کی کرن دریائے کابل جو ہمارے لئے تھوڑا سا اطمینان کا باعث تھا۔وہ بھی بھارتی سازش کا نشانہ بن رہا ہے،کیونکہ نئی دہلی اپنا سرمایہ دریائے کابل پر لگا رہا ہے،جس کی وجہ سے انڈیا نہ صرف دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر بلکہ دریائے کابل پر بھی قابض ہوگیا۔ اب وقت آ گیا ہے، متحد ہونے کا،اپنے حق کے لئے کھڑے ہونے کا، وسائل کے صحیح استعمال کا، اپنے حقوق کا تعین کرنے کا ، دنیا کو اپنی اہمیت کا احساس دلانے کا اور اپنے حقوق حاصل کرنے کا۔  ٭

مزید :

کالم -