دنیا میں وزارتوں میں خواتین کی نمائندگی کم ، نکاراگوا میں 57 فیصد

دنیا میں وزارتوں میں خواتین کی نمائندگی کم ، نکاراگوا میں 57 فیصد

جوہانسبرگ ( بیورورپورٹ)دنیا بھر کے زیادہ تر ملکوں میں خواتین کی وزیروں کے طور پر حکومتوں میں نمائندگی مردوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہی صورت حال موجود ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے نئی 30 رکنی کابینہ میں خواتین وزرائکی تعداد اب پانچ کر دی ہے۔ اس طرح یہ کابینہ کا 28 فیصد بنتا ہے۔ اس سے قبل ان کی کابینہ میں صرف دو خواتین وزرائتھیں۔ یہ امر اہم ہے کہ دنیا بھر میں ایسے ملکوں کی تعداد صرف 36 فیصد ہے جہاں حکومتی کابینہ میں خواتین وزرائکی شرکت کا تناسب تیس فیصد یا اِس سے زائد ہے۔ اقوامِ عالم کی پارلیمانوں سے متعلق عالمی ادارے انٹر پارلیمنٹری یونین کے مطابق سن 2012 میں تیس فیصد وزرا کے حامل ملکوں کی تعداد صرف 26 فیصد تھی۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ خواتین وزراء لاطینی امریکی ملک نِکاراگوا میں ہے جہاں یہ تعداد 57فیصد ہے ۔

س کے بعد بڑی تعداد میں خواتین وزرائ کے حامل ملکوں میں براعظم یورپ کے ممالک سویڈن، فِن لینڈ اور فرانس ہیں۔ برطانیہ میں ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ کو درمیانی عمر کے وزرائ کا ٹولہ کہا جاتا ہے اور اِس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں جو عورتوں کو بااختیار بنانے کا راگ آلاپ لگاتے رہتے ہیں لیکن ملکی کابینہ میں خواتین کی خاصی کم تعداد کے بارے میں کسی نے کوئی بیان نہیں دیا۔ کیمرون نے بھی رواں برس جولائی میں اپنی کابینہ میں ردوبدل کرنے کے بعد ہی بائیس رکنی کابینہ میں پانچ خواتین کو شامل کیا تھا۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کی کابینہ کے وزراءکی تعداد 34 ہے اور ان میں سے نصف وزارتوں پر خواتین کو تفویض کیا گیا ہے۔ امریکا میں صدر اوباما کی کابینہ کے اراکین کی تعداد سولہ ہے اور اِس میں صرف تین خواتین شامل ہیں۔ چین میں صدر شی جِن پِنگ کی کابینہ میں بھی تین ہی خواتین شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر