سویڈن کا دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ

سویڈن کا دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ

 سٹا ک ہو م(آن لائن)سویڈن کے سیکیورٹی حکام نے ملک میں مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں کی دہشت گردی کی دو الگ الگ کارروائیوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔سویڈش ریڈیو کے مطابق اسلامی انتہا پسند اس اہم پورپی ملک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

 خفیہ اداروں کو اس کا علم ہو گیا جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے فوری کارروائی کرکے دہشت گردی کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔ادھر سویڈن سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کنٹرول روم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انڈیچ کاسمن نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کی سازش ناکام بنائے جانے کی خبروں کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں اس کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے خود کش بمبار بھی تیار کیے جا رہے تھے۔ مسٹر انڈیچ کا کہنا تھا کہ ہمارا کام دہشت گردی کی روک تھام ہے اورہم اس نوعیت کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن کو بعض دوسرے یورپی ملکوں سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات کا خطرہ ہے کیونکہ سویڈن ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سویڈش فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سویڈش فوجیوں کی موجودگی اور پیغمبر اسلام کی شان میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد سویڈن کو دہشت گردانہ حملوں کا مسلسل خطرہ ہے۔جب فوجی اہلکار سے سوال کیا گیا کہ آپ دہشت گردی کی حالیہ سازش کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریزاں کیوں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ "ہم لوگوں میں مزید پریشانی کی فضاءپیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی سے نمٹنے میں مصروف ہیں، ہماری توجہ ایسے واقعات کی روک تھام ہے نہ کہ انہیں افشاءکرکے عوام کو ایک نئی مشکل میں ڈالنا ہے۔"خیال رہے کہ سویڈن کے سیکیورٹی ادارے اس سے قبل بھی اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے اپنے ملک میں حملوں کا خطرہ ظاہر کر چکے ہیں۔ سویڈش حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ملک سے شام کے محاذ جنگ میں شامل ہونے والے نوجوان واپس پلٹ کر سویڈن کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تاہم دو تازہ واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ملوث افراد کا شام کی جنگ سے تعلق نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر