دما دم مست قلندر ۔۔۔ !

دما دم مست قلندر ۔۔۔ !
 دما دم مست قلندر ۔۔۔ !
کیپشن: imran khan

  


عمران خان کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ خان صاحب پچھلے بیس دِنوں کی سیاست میں کچھ پا تو نہیں سکے۔ البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔کپتان نے اپنی جلد بازی میں کئی دوستوں کو دشمن اور کئی دشمنوں سے دشمنی مزیدبڑھا لی ہے۔62 سال کی عمر میں کھیلے جانے والے اس سیاسی میچ میں کپتان عمران خان نے اپنے مخالف حریف کی نہ تو کوئی وکٹ لی اور نہ ہی ان کے خلاف سکور کر سکے۔ بہاولپور میں خان صاحب نے اپنے شاندار جلسے میں جس راستے کا چناؤ کیا، وہ ایک گہری دلدل میں جا رہا ہے۔ اہل دانش کا کہنا ہے کہ خان صاحب کو بہاولپور میں جو پذیرائی ملی،اگر وہ اس کا مظاہرہ پارلیمنٹ اور ایوان عدل میں کرتے تو آج ان کے قدو قامت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ۔ وہ باتیں جو آج وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کر رہے ہیں ، کرپشن کے الزامات جن کو وہ عوام کے سامنے میڈیا پر بیان کر رہے ہیں، اگر پارلیمنٹ کے اندر عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کرتے تو اس طرح ان کی آواز انتہائی مضبوطی کے ساتھ باز گشت کرتی ہوئی عوام تک پہنچ جاتی اوراس عمل سے خان صاحب کی سیاست اور جدوجہد کو نہ صرف پذیرائی ملتی،بلکہ ان کی ذات غیر جمہوری اور غیر آئینی الزامات سے محفوظ رہتی اور وہ لوگ جو خان صاحب سے اس ملک کے شاندار مستقبل کی توقعات لگائے بیٹھے تھے، کبھی مایوس نہ ہوتے ۔

سیاسی جدوجہد کا آئینی طریقہ یقیناًقدرے سست ہوتا ہے، لیکن پائیداری اسی میں ہے ۔لیڈر جلد باز نہیں ہوتے، بلکہ تدبر اور ہوش مندی سے کام لیتے ہیں ، لیکن پتہ نہیں خان صاحب کی کس نے کوچنگ کی کہ انہوں نے دما دم مست قلندر کا نعرہ لگا دیا اور ایک ایسی راہ پر چل پڑے جہاں خاردار کانٹوں میں ان کی سیاست الجھ کر رہ گئی ہے۔مولانا طارق جمیل کے مشورے پر انہوں نے سونامی مارچ کا نام آزادی مارچ تورکھ دیا،لیکن اس کے مقاصد وہی رہنے دےئے ، اس طرح آزادی مارچ لاہور سے روانہ ہو گیا۔ پہلوانوں کے شہر میں آزادی مارچ کو کچھ تشدد کا سامنا کرنا پڑا، لیکن خان صاحب کا قافلہ خیر خیریت سے قادری صاحب کے نقش قدم پر چلتا ہوا شہر اقتدار پہنچا ۔

عمران خان کے مداحوں کے مطابق ان کی سب سے پہلی غلطی سول نافرمانی کا اعلان کرنا تھا،جسے کسی بھی سطح پر بھی سراہا نہیں گیا،کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق اس ماہ سب سے زیادہ یوٹیلیٹی بل جمع کرائے گئے، کیونکہ لوگوں کو یہ خطرہ لگا کہ اگر انہوں نے اس بار بل جمع کرانے میں کوتاہی کی تو ان پر تحریک انصاف کا لیبل لگ جائے اور ان کا میٹر بغیر کسی وارننگ کے کاٹ دیا جائے گا ۔بینکوں کی رپورٹ ہے کہ اس ماہ بجلی، گیس اور پانی کے بل جمع کرانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا،جبکہ ٹیکسوں کی ادائیگی میں بھی تیزی کا رجحان رہا اور سرمایہ کاروں نے پہلے کی نسبت زیادہ اور بر وقت ٹیکس ادا کیا ۔اس طرح خان صاحب کی یہ کوشش کہ لوگ سول نافرمانی کرتے ہوئے بل جمع نہ کرائیں، بُری طرح ناکام رہی اور حکومت کو مجموعی طور پر اس کا فائدہ ہوا، جبکہ خان صاحب کو یہ نقصان اٹھانا پڑا کہ ان کی اپنی صف میں کھڑے ہوئے کارکن بھی اس بات پر ناراض ہوئے ۔ عالمی اداروں کو یہ مشورہ دینا کہ ’’وہ پاکستان کو قرضے نہ دیں‘‘ان کی دوسری غلطی تھی، جسے خان صاحب کے چاہنے والوں سمیت تمام محب وطن حلقوں نے مسترد کر دیا۔ اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ بھی جذباتی نکلا ۔

کپتان اپنی پے در پے غلطیوں سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ انہوں نے قادری صاحب کے ہمراہ دما دم مست قلندر کا نعرہ لگاتے ہوئے ڈی چوک پارلیمنٹ کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا۔ خطرناک صورت حال تھی، لیکن خیر خیریت سے کپتان اور قادری صاحب اپنے خیمے پارلیمنٹ کے سامنے لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی میں حکومت کی نرمی تھی یا نیک نیتی! خان صاحب نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا اور کئی میوزیکل راتیں سجانے کے بعد انہوں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان کے قریبی ساتھی جاوید ہاشمی اس سوچ پر انہیں چھوڑ گئے اور پھر انہوں نے عمران خان کے خلاف ایسے انکشافات ظاہر کئے جس نے ان کی تحریک کو کھوکھلا کر دیا ۔اپنے دوست کے ساتھ راستے جدا کرکے عمران خان صاحب نے اپنے مقاصد کے حصول میں مزید مشکلات پیدا کر لی ۔اس فیصلے سے جہاں انقلاب اور آزادی مارچ سے سینکڑوں کارکن زخمی ہو گئے، وہاں احتجاجی تحریک کے مقصد کو بھی نقصان پہنچا۔پی ٹی وی کی عمارت میں ڈنڈا بردار کارکنوں کا حملہ بھی اسی فیصلے کا نتیجہ ثابت ہوا اور قومی ادارے پر حملے کے منفی اثرات احتجاجی تحریک پر مرتب ہوئے اور ملک بھر میں قومی ادارے پر وحشیانہ حملے کی بھرپور مذمت کی گئی ۔پی ٹی وی کو، جو کہ ایک قومی ادارہ ہے اور ہمیشہ ملک و قوم کی آواز کی ترجمانی کرتا ہے،اس شرمناک انداز میں دبانے کی کوشش کی گئی جو خان صاحب کے سیاسی کیرئیر پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گی ۔

اس حملے کے دوران پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا پتھراؤ، ڈنڈے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں اسلام آباد کی فضاؤں میں گھٹن اور سراسیمگی پیدا کرتی رہیں۔خوف اور پریشانی کے یہ اثرات زلزلے کی طرح ملک کے کونے کونے میں محسوس کئے گئے ۔ ان حالات میں عمران خان صاحب کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہے، کیونکہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ پوری پارلیمنٹ اور جمہوریت پسند کھڑے ہیں۔ محض نعروں اور الزامات سے انہیں آئینی عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب نے مزید غلطیاں کیں تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی اور وہ مزاروں پر دمادم مست قلندر کے نعرے لگاتے نظر آئیں گے اور ہو سکتا ہے کہ جاوید ہاشمی انہیں مزاروں سے بھی دور کر دیں۔

مزید :

کالم -