خبردار! رعائت قانون نہ بن جائے

خبردار! رعائت قانون نہ بن جائے
خبردار! رعائت قانون نہ بن جائے

  

یوم آزادی کے مقدس دن سے پوری قوم کو جس بخار میں مبتلا کر دیا گیا تھا اب اس کے ٹوٹنے کے آثار پیدا ہو چلے ہیں۔ جرگے سے ہونے والے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں اور فیس سیونگ کے متلاشیوں نے عظیم کامیابیوں کی نوید دے ڈالی ہے۔ فیس سیونگ ان کی ضرورت ہے، حکومت کو انہیں فیس سیونگ کا موقع ضرور فراہم کرنا چاہئے، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ رعائت کو لوگ استحقاق یا قانون بنا ڈالتے ہیں۔

میرے ایک استاد تھے میاں محمد صاحب، ریاضی پڑھاتے تھے اور غیرحاضری یا دیر حاضری کو کبھی معاف نہیں کرتے تھے، ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ لوگ رعائت کو پہلے استحقاق،پھر رفتہ رفتہ قانون بنا لیتے ہیں۔ حکومت، جرگے اور مذاکرات کاروں کو یہ امر ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے کہ وہ آزادی اور انقلاب کے نام پر تخریب کاری کرنے والوں کو کوئی ایسی رعائت نہ دے بیٹھیں جسے کل کلاں دوسرے تخریب کار استحقاق سمجھ لیں اور پھر یہ قانون بن جائے کہ کروڑوں ووٹروں کے اعتماد والی پارلیمنٹ یا حکومت کو ہنگامے، آزادی اور بلوے کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے۔ ملا فضل اللہ نے اپنے عزائم ظاہر کر دیئے ہیں اور اگر رعائت قانون کا درجہ اختیار کر گئی تو ملا فضل اللہ یا کسی بھی دوسرے کے لئے حکومت کو زچ کر کے مطالبات منوانے کا راستہ کھل جائے گا۔

ان کے کچھ ہمدردوں نے ابھی سے ان کے لئے مراعات طلب کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ انہیں بلوائی نہ کہا جائے۔ کیوں بھائی بلوائی کو بلوائی کہنا کوئی گالی ہے؟ کیا یہ ان مغلظات سے زیادہ ناپسندیدہ ہے جو 15،16روز سے اسلام آباد کی فضاﺅں میں گونجتی رہیں اور جنہیں ذمہ دار میڈیا پاکستان بھر میں نشر کر رہا ہے۔احتجاج کرنے والے احتجاجی، مظاہرہ کرنے والے مظاہرین اور بلوہ کرنے والے بلوائی کہلاتے ہیں، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاﺅس اور پی ٹی وی پر جو کچھ ہوا، وہ نہ تو احتجاج تھا اور نہ ہی مظاہرہ، وہ صریح بلوہ اور تخریب کاری تھی، جس کے الزام اب ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمارے آدمی نہیں تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری قسمیں کھا کھا کر انکار کئے جاتے ہیں کہ ان کے آدمی نہیں تھے، حالانکہ انہیں واپسی کے احکامات بھی جاری کر رہے ہیں۔پی ٹی وی پر حملہ کرنے اور تخریب کاری کرنے والوں کے چہرے تو صاف نظر آ رہے ہیں اور نادرا سے ان کی تصدیق بھی ہو ہی جائے گی۔ بلا شبہ معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھانا ضروری ہے، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا؟

(ا) یوم آزادی کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ (ب) عورتوں اور بچوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا، حتیٰ کہ انہیں ڈھال بنایا گیا۔(ج) ریاست بچانے کے دعویداروں نے احتجاج کو حکومت تک محدود نہیں رکھا، ریاستی املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وقار کی علامت کی بے حرمتی کی۔(د) ملک کی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور لوگوں کو سول نافرمانی، ٹیکس نہ دینے، ملک میں زرمبادلہ نہ بھیجنے کی تلقین کر کے اس معاشی خسارے کو جان بوجھ کر بڑھایا۔ (ر) ججوں، عدالتوں اور پارلیمنٹ کے خلاف الزام تراشیاں کی گئیں۔ پارلیمنٹ پر تبرے بازی کی گئی، عدلیہ پر بے بنیاد الزامات لگانے کے لئے سازشیں کی گئیں۔ اس طرح پارلیمنٹ اور عدلیہ کی توہین کی گئی۔(س) اس ہنگامے سے دنیا کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔(ک) فوج اور سابق فوجیوں کو اپنا ساتھ دینے کا تاثر دیا گیا۔ فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش بھی کی گئی اور ملوث ہونے کا تاثر بھی دیا جاتا رہا۔ (ل) نئے چیف جسٹس کو بلوائیوں کا طرف دار بنا کر چیف جسٹس اور عدلیہ کی توہین کی گئی۔ مختصر طور پر یہ وہ امور ہیں جو جرم کے زمرے میں آتے ہیں اور جن سے وطن سے دور بیٹھے لوگ بھی بخوبی واقف ہیں اور اندرون ملک عوام الناس بھی اس کا علم رکھتے ہیں۔ قانونی طور پر ہو سکتا ہے کہ کئی اور ایسے اقدامات ہوں، جو انہیں مجرم بناتے ہوں۔

اگرچہ یہ بات خاصی مضحکہ خیز ہے کہ عمران خان طالبان سے مذاکرات کے حامی تھے، لیکن جب انہوں نے خود طالبان کا رویہ اختیارکیا تو مذاکرات کو مسترد بھی کرتے رہے اور بار بار نئے نئے مطالبات پیش کر کے مذاکرات کو ناکام بھی بناتے رہے۔ مذاکرات طالبان سے بھی ہوتے تو اُن کے بعض مطالبات ماننا پڑتے، لیکن جواب میں انہیں بھی کچھ تسلیم کرنا پڑتا۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ ان لوگوں کو ذرا سی رعائت بھی نہ دی جائے۔ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح ہٹ دھرمی اختیار کر لی جائے اور وزیراعظم کے استعفے سے کم پر کوئی بات نہ کی جائے تو پھر مذاکرات یا جرگے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر ان لوگوں کو بھی رعائت نہ دی جائے، تو پھر مذاکرات کس بات پر ہوں گے اور جرگہ کیا کرے گا؟

مقصد یہ ہے کہ مذاکرات میں ان تمام امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جو آئندہ ایسی کسی مہم جوئی کی حوصلہ افزائی کا باعث نہ بنیں۔ گزشتہ دنوں ایک دلچسپ خبر پڑھی تھی.... چین میں ایک باورچی کو سانپ کے کٹے ہوئے سر نے کاٹ لیا اور وہ موت سے ہمکنار ہو گیا.... مذاکرات کرنے والوں اور جرگے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ سانپ کا کٹا ہوا سر موت کا باعث نہ بن جائے، کیونکہ مَیں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ اس ناکامی کے داغ کو دھونے کے لئے ایک بار پھر مہم جوئی نہیں کریں گے۔ محترم وسعت اللہ خان لکھتے ہیں: ”قادری انویسٹمنٹ کے شیئر ہولڈرز کا کچھ نہیں بگڑے گا، وہ کسی اور میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری کر لیں گے۔ کپتان صاحب بھی جب وقتی مایوسی سے نکلیں گے تو ان کے لئے بھی کرنے کے کام ہزار۔ یوں بھی کہتے ہیں کہ رانڈیں تو رہ بھی جائیں، لیکن انہیں رنڈوے کب رہنے دیتے ہیں۔ چودھری برادران اور شیخ رشید جیسے رنڈوے تو سامنے کی بات ہے، جانے پس پردہ کون کون سے رنڈوے ہوں گے جو رانڈ کو دلہن بنانے کے لئے جتن کرتے رہیں گے۔

یہاں حکومت کے لئے ایک اور پہلو بھی بے حد اہم ہونا چاہئے۔ اس سارے بحران میں بعض قوتیں تو حکومت کا ساتھ دینے میں اپنا اُلو بھی سیدھا کرتی رہی ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن کچھ سیاسی رہنماﺅں اور اُن کی جماعتوں نے پورے خلوص کے ساتھ جمہوریت کو بچانے کے لئے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور انہیں طعنے بھی سننے پڑے ہیں کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لئے اس لئے متحد ہیں کہ وہ اقتدار میں حصہ دار ہیں اور اپنے حصے کا اقتدر نہیں کھونا چاہتیں، جو بھی تصفیہ ہو، ان اتحادیوں اور جمہوریت کے حامیوں کے مشورے سے ہو۔ اکثر جنگیں میدانِ جنگ میں جیت لی جاتی ہیں، لیکن مذاکرات کی میز پر ہار دی جاتی ہیں، پاکستان کو تو اس کا بہت تجربہ ہے۔ اگر اتحادیوں کی بات نہ سُنی گئی اور بخار سے جان چھڑانے کے لئے جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا تو اتحادی بددل ہو کر مخالفت پر بھی کمر بستہ ہو سکتے ہیں اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو آئندہ طالع آزما طاقتوں، سیاسی بلیک میلروں اور دھرنوں کے خوگروں نے پھر سر اٹھانا ہے اور اس صورت میں حکومت کو وہ اتحادی میسر نہیں ہوں گے،جو آج اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والوں کو اتنی ہی رعائت دے جتنی اس کے اتحادیوں کو خوش دلی سے ہضم ہو سکے، اگر اتنی رعائت پر انقلابی راضی نہ ہوں تو پارلیمنٹ اور اتحادیوں کے متفقہ فیصلے سے کوئی دوسری راہ اختیار کی جائے۔ طاقت کے استعمال سے حالات بگڑنے کی تنبیہہ پر دھیان دینا بھی ضروری ہے، لیکن اگر پارلیمنٹ، عدلیہ اور قانون کی طاقت کو سمجھ داری سے استعمال کیا جائے تو اول تو حالات نہیں بگڑیں گے اور خدانخواستہ بگڑنے کی کوئی صورت بھی ہوئی تو کم از کم اتحادی، پارلیمنٹ ، عدلیہ اور قانون سب جمہوریت اور حکومت کی پشت پر ہیں۔ ایسی صورت حال کم از کم اس صورت حال سے پھر بھی بہتر ہی ہو گی، جب تحمل اور روا داری کے باعث دی جانے والی رعائت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے یا اسے استحقاق اور پھر قانون بنا لیا جائے۔

مزید : کالم