آزادی اور انقلاب کا نوحہ

آزادی اور انقلاب کا نوحہ

  



وہ کہہ رہے تھے۔پست ذہنی اور معمولی پن کسی قوم کے اخلاقی زوال کی وہ سطح ہے جہاں وہ اپنی نظریاتی فنا کے قریب ہوتی ہے۔اُس کے ذہنی افلاس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اپنی تہذیب اور تمدّن سے باہر کی ہر چیز اُسے اس لئے دلکش لگتی ہے کہ وہ اُس کی اپنی نہیں ہے۔وہ ہر نئی چیز کو لپک کر حاصل کرنے میں اِس لئے پہل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کہیں اُسے پسماندہ نہ سمجھ لیا جائے ۔اُس کی یہی ذہنی پسماندگی اُسے اِس چیز سے بھی غافل کر دیتی ہے کہ اُس کی ذہنی اور تہذیبی غیرت کے بھی کچھ تقاضے ہیں۔

سنو! جن لوگوں نے ”آزادی “اور ”انقلاب“ جیسے الفاظ استعمال کیے کیا اُنہیں اَنHolistic narrativesکے معنی و مفہوم کا کچھ ذوق ہے؟کیا اُنہیں کسی کلام کی کُلّیت کے اُن اجزا کا ذوق و فہم ہو سکتا ہے جو یہ بھی سلیقہ نہیں رکھتے کہ مغرب سے درآمد کی جانے والی کون سی اصطلاح اُن کے اپنے بیان و کلام (Discourse)کو زہر ناک کر رہی ہے؟اس معاشرے کے افلاس زدہ تخیل کے حامل صاحبانِ زبان و بیان کے ذہن میںکبھی یہ سوال اُبھر ا کہ اُنہوں نے ”سول سوسائیٹی“کی اصطلاح کو کس طرح بے سوچے سمجھے قبول کر لیا؟کیا ایلیٹ کلاس کے کِسی مخلوط گروہ کا کس واقعے کی یاد کسی سے یکجہتی کے اظہار ،کسی کی غمگساری یا اشک شوئی کے لئے کس چوک میں پھولوں کے گلدستے رکھ کر اورشمیں روشن کر کے خود کو ”سول سوسائیٹی“ سمجھ لینا اُس کی اُس نفسیات کا عکاّس نہیں جو اپنے ”فرمانبردارانہ ماتحت“ ذہن کے ساتھ ”صاحب لوگوں“کی ریس کرتا ہے؟

 خود کو سیکولر و لبرل اور روشن خیال سمجھنے والے تو اِس بد ذوق معاشرے کا ایک الگ المیہّ ہوں گے۔لیکن کیا ”ذہنی ماتحتی“کے گروہوں پر مشتمل اس معاشرے نے کبھی یہ سوچا کہ اُسے کس معنی و مفہوم کے ساتھ اُس کی نفسیات میں اس طرح سیکولر اور لبرل بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تہذیب و تمدّن سے اِس طرح سے بہرہ اور بیگانہ ہو جائے کہ اُس کے کمزور اور بے ہُنر ذہن کے گوشے شرمساری اور ندامت کی بجائے ایک عجیب طرح کے فخر سے بھر جائیں؟ایک ایسا فخر جس میں مبتلا ہو کر وہ اِس بات ہی پر اتراتا رہے کہ دراصل وہ اب وہ نہیں ہے جو کہ درحقیقت وہ ہے۔ یہ درماندہ ذہن کس طرح ”آزادی“اور ”انقلاب“کے معنی متعیّن کر سکتا ہے جو ”آزادی“لانے اور ”انقلاب“برپا کر نے کے لئے جس ”کُدال“سے دودھ کی نہر لانا چاہتا ہے وہ بھی اس کو جبر و استبداد کی قوتوں نے رشوتاًدی ہے۔

سن اے غافل قوم!کیا یہ شہید ہوں گے جنہیں نہ شہید ہونے کے مقاصد کا شعور ہے نہ زادراہ کا؟جو غبارہ پھٹنے کی آواز پر محض ٹھٹھکنے کی بجائے دہل کر دُبک جائیں کیا کفن پہن کر فضا میں ہاتھ بلند کر دینا اُن کے کسی حقیقی اور پختہ عزم کااظہار ہے؟شہادت کے راستے کے مسافر کا سامانِ سفر کفن نہیں ہوتا ،نہ اُسے قبر کے منزل ہونے کی پرواہ ہوتی ہے۔وہ کفن اور قبر کے تصوّر سے بے نیاز ہو کر سرہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہے لوگوں کو شوق شہادت کے جنون میں مبتلا کر کے اُنہیں گولیوں کے سامنے اور خود چھپ کر کنیٹنروں میں نہیں بیٹھ جاتا۔پھر عزیمت کے راستے میںایسا کفن اُس کا مقدّر ہو بھی کیسے سکتا ہے جو لوٹ ماراور قرضے معاف کراکے دولت سمیٹنے والوں کی تجوری سے ادائیگی کر کے خریدا گیا ہو؟یہ لیٹیںگے اُن قبروں میں جو حکومتی ایوانوں کے سامنے کھو دی ہی اِس لئے گئی ہیں کہ اِس میں اُنہیں اپنے لیٹنے کی بجائے نہ لیٹنے کا یقین ہے وہ تو سچ مچ شہید ہونے کی بجائے شہید ہونے کا جھوٹا واویلا محض اسی لئے کر رہے ہیں کہ اُنہیں یقین ہے کہ ”قلعہ راولپنڈی“والے اس سے پہلے ہی اُنہیں بچانے کے لئے آجائیں گے۔

سنو!تم حکومتی ایوانو ں کے صحن میں کھڑ ے ہوئے ہو لال مسجد کے صحن میں نہیں۔لال مسجد کے صحن والوں کو شہادت سامنے نظر آرہی تھی۔تمہیں شہادت نہیں اقتدار کی کرسی سامنے نظر آرہی ہے لال مسجد کے صحن کے باہر وہی کھڑے تھے جو آج تمہارے ساتھ تمہارا سہارا بن کر کھڑے ہیں اور اپنی تجوریوں کے منہ کھول رکھے ہیں لال مسجد والوں کو ان کی موجودگی میں گھیر لیا گیا،اُسے کر بلا کا میدان بنا دیا گیا۔وہ تھے شہید جن کے بارے میںکسی کو نہیں معلوم کہ انہیں کفن اور قبر مل بھی سکی تھی یا نہیں۔تم اپنے لئے ایسے کفن اور ایسی قبریں لئے پھرتے ہو جن کے بارے میں تمہیں یقین ہے کہ یہ تمہاری شہادت کا سامان نہیں ،اقتدار کے حصول کا ذریعہ بننے کا سامان ہے۔خواہش نفس ،حرص و ہوس کے ہتھیاروں سے ہاتھ پاﺅں تڑواکر راستوں میں گری پڑی لولی لنگری اور مفلوج قوم اور اُس کے رہنما کسی انقلاب اور آزادی کے دعویدار ہو بھی کیسے سکتے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کس کی غلامی سے کس کو آزاد کرانا ہے اور کون سے نظام کے خلاف کچھ ایسا برپا کرنا ہے جسے انقلاب کہا جاسکے۔کیا انقلاب برپا کرنے والے کسی خفیہ فنڈ سے بنائے گئے بلڈبنک سے لہو چُرا کر اپنی رگوں میں بھر تے ہیں؟

انقلاب اور آزادی کا چیلنج جن قوموں کے سامنے ہوتا ہے وہ اس کے مقاصد کی عظمت سے بھی آگا ہ ہوتے ہیں اور اس کے طریقہ کا رسے بھی جب ان کے جذبے صادق عزم و حوصلے بلند ہوں تو غیرت مند اور صالح قیادت کے ذریعے ان کی مدد کی جاتی ہے۔وہ قیادت انقلاب کے سوتوں سے آگاہ ہوتی ہے اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کونسا چشمہ کہاں سے پھوٹتا ہے کس دریا کو کس رُخ پر ڈال کر کون سے سمندر میں اُتارنا ہے۔شر اور فساد کے وہ منبعے کہاں ہیں جنہیں بند کئے بغیر خیر کا پھیلاﺅ ممکن نہیں ۔کسی کے ایجنڈے پر کام کرنے والی، کسی کی آلہ کار بننے والی قوتیں انقلاب برپا نہیں کر سکتیں۔یہ تو کسی معاشرے کی وہ قوتیں ہیں جن کے خلاف انقلاب برپا کیا جاتا ہے۔

سنو!آزادی اُن لوگوں کا مقدر کس طرح بن سکتی جو اپنے پنجرے کی قید سے نکل کر کوٹھڑی کی قید جتنی وسعت میں جانے سے بھی گھبراتے ہیں۔انقلاب اور آزادی کی ضرورت تو بہر حال ہے لیکن یہ کسی قوم کا مقدر اُن لوگوں کے ذریعے کس طرح بنائی جاسکتی ہے جو اپنی آزادی اور فتح کے لئے محض ایک اشارے پر جبر کی قوتوں کی خدمت میں ہاتھ باندھ کر حاضر ہو جائیں۔

سنواے بیداری سے محروم ،غفلت میں ڈوبے ہوئے لوگو!ہم وہ بے دست و پا قوم ہیں جس کے لئے محض ایک عام سا شخص افکار و نظریات کے محاذ پر ایسی شکست دینے میں کامیاب ہو گیا جس کے بعد ہمیں اس کی قوم کے ساتھ میدان میں لڑنے اور جہاد کرنے کی ضرورت ہی نہیںرہی۔بّرصیغرکی اس سب سے طاقتور شخصیت کا نام تھا لارڈ مکالے،جو ایک عام سا آدمی اور کالج میں پڑھانے والا ٹیچر تھا وہ اپنی قوم کاکوئی بہت بڑا مفکر بھی نہیں تھا بس برطانیہ کی پارلیمنٹ کا ایک عام سا رکن تھا۔اُس نے برصغیر سے برطانوی پارلیمنٹ میں واپس جا کر جو رپورٹ پیش کی اُس رپورٹ کے چند کاغذ ہماری قومی تقدیر کا حصہ بننے کے لئے کافی ہو گئے۔اس کی رپورٹ کا لب لباب یہ تھا کہ ” اس قوم کے دیسی بدن میں ولائیتی روح بھر دو،اس کی آئیدیل آیزیشن تبدیل کر دو،انہیں اپنی اقدار پر شرمندہ ہونا اور ہماری اقدار کو اپنانے پر فخرکرنا سکھا دو۔یہ جو ہیں وہ یہ نہ رہیں اور جو یہ بننا چاہتے ہیں وہ یہ بن نہ سکیں ۔یہ دیسی اور ولائتی کے درمیان مخنث بن جائیں اور یہ سب کچھ اس صورت ہی میں ممکن ہے کہ ان کا نظام تعلیم ان سے چھین لو، یہ اپنی تہذیب اور اپنے تمدن سے خود دور ہوتے چلے جائیں گے۔ان کے تعلیمی ادارے مخلوط کلبوں کے منظر پیش کرنے لگیں گے۔پھر یہ ہمارے ہوں گے ہمیں ان کے ممالک پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی،ہمیں کوئی کالونی بنانا بھی نہیں پڑے گی۔ہمیں ان سے کوئی جنگ بھی نہیں کرنی پڑے گی ان کی قیادت اپنی ہی قوم کے خلاف ہمارے مفادات کی نگہبان ہو گی اور یہ پھر بھی ہماری ریس کریں گے اور ہمارے گن گائیں گے ۔یہ ہماری زبان بولیں گے اور خود کو ایلیٹ کلاس سمجھیں گے یہ سول سوسائیٹی بن جائیں گے اور خوش ہوں گے۔“

آہ!پھر یہ سب کچھ ہو گیا آج اگلے مرحلے میں ہمارے تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں آکسفورڈکا نصاب نافذ کیے جانے کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے تاکہ غلامی مزید رنگ لائے۔اس سیاسی نظام کے محافظ اس کی حفاظت پر فخرکر رہے ہیں اس کے خلاف انقلاب برپا کرنے والے ان کی جگہ لینا چاہتے ہیں طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی۔اے پنجرے میں رہنے والو!تم ایسے انقلاب کی تلاش میں ہو جو پنجرے میں آکر تمہارے ساتھ رہنے لگے۔افسوس!صد افسوس!

مزید : کالم