جوشِ خطابت اور الزام!

جوشِ خطابت اور الزام!
جوشِ خطابت اور الزام!

  

مقرر اور خطیب، خصوصاً مذہبی وعظ کرنے والے حضرات جوشیلے ہوتے ہیں کہ جوش کے بغیر معتقدین نہیں ملتے اور نہ ہی ان کے اعتقاد کو پختہ کیا جا سکتا ہے۔اس لئے ایسی مثالیں بہت ہی کم ہیں کہ مذہبی سکالر دھیمے انداز میں تقریر کریں۔ہمارے تجربے میں ایسے بہت سے حضرات ہیں جو انتہائی سادگی اور سنجیدگی سے دلائل دیتے اور ان کا انداز بھی دلنشین ہوتا تھا۔ماضی سے ایک مثال حضرت علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری(بانی صدر جمعیت علماءپاکستان) اورمحترم حافظ کفائت حسین کی دی جا سکتی ہے۔دونوں کا تعلق الگ الگ مسلک سے تھا لیکن وہ اپنے رویے اور انداز بیان کی وجہ سے تمام مسالک میں مقبول اور محترم تھے۔یہ بزرگ بہت سی صفات کے حامل تھے۔اس کے باوجود کبھی کبھار کسی مسئلے کی نوعیت کے اعتبار سے ان کا لہجہ بھی سخت ہو جاتا تھا،تاہم ان کو خود پر قابو تھا یہ نہیں کہ وہ اس طرح اشتعال پیدا کرنے کا باعث بنیں، اسی پیمانے پر ان کے بعد آنے والے مقررین کو بھی پرکھا جا سکتا ہے، زمانہ حال یا ماضی قریب میں تو بہت سے سکالر پیدا ہوئے، جنہوں نے بڑی محنت کی اور علوم جدید سے بھی استفادہ کیا ان میں بڑے پرجوش خطیب بھی ہیں۔

محترم ڈاکٹر طاہر القادری دور جدید کے ایسے ہی خطباءمیں سے ہیں، جنہوں نے عصری علوم سے اجتناب نہیں، بلکہ جدید مواصلاتی نظام کو اپنانے میں جلدی کی وہ اچھے اور پرجوش مقرر ہیں اور زور دے کر اپنی بات کرتے ہیں اب تو وہ ساٹھ سال کی عمر سے تجاوز کر چکے لیکن ان کا انداز بیان اور بھی تیز ہوگیا ہے۔ وہ اپنی بات کرنے کے لئے دلائل کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے لئے تیاری بھی کرتے ہیں چنانچہ جب وہ کسی دینی محفل یا نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران تقریر کرتے ہیں تو حوالہ جات والی کتابیں بھی ان کے پاس رکھی رہتی ہیں جن پر ”ٹیگ“ موجود ہوتے ہیں، یہ تو ان کے مذہبی اسلوب کی بات ہے جس سے ہمارے سمیت بہت سے حضرات متاثر ہیں لیکن سیاست کے میدان میں اعلیٰ حضرت کے انداز ہی مختلف ہیں اور کئی بار وہ چیختے چنگھاڑتے محسوس ہوتے ہیں تو اکثر وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جو بات اب کررہے ہیں وہ ان کی پہلی کسی بات کی تردید یا اس سے مختلف ہے، اس کی بہت سی مثالیں ہیں وہ تو پرانی ہیں تاہم علامہ قادری اسلام آباد میں نئے ریکارڈ بناتے چلے جا رہے ہیں۔

ابھی حال ہی میں ہونے والے ایک دو واقعات کا ذکر بے معنی نہیں ہوگا، جس روز دھرنا والوں نے پی ٹی وی پر قبضہ کیا اور وزیراعظم ہاﺅس کے دروازے تک چلے گئے تو وہ اپنے کنٹینر کے ساﺅنڈ سسٹم سے بڑے زور دار طریقہ سے فخریہ طور پر یہ کہتے پائے گئے کہ ہمارے لوگ پی ٹی وی میں داخل ہو گئے اور وہ وزیراعظم ہاﺅس بھی پہنچ گئے ہیں جہاں گیٹ پر ہمارا قبضہ ہو گیا اب نہ کوئی اندر جا سکتا اور نہ باہر آ سکتا ہے۔پھر بڑے جوش سے وزیراعظم اور ان کے رفقاءکو للکارا اور کہا ان کو بھاگنے نہیں دینا، ادھر تم ہو تو ادھر ہم ہیں، اب یہ کہیں نہیں جا سکتے۔اسی دوران ان کے فدائی اور سیکرٹری اطلاعات قاضی فیض بھی آن ریکارڈ ہیں۔انہوں نے کہا سیکرٹریٹ پر بھی ہمارا قبضہ ہوگیا ہے۔علامہ طاہر القادری خود جدید مواصلاتی نظام سے مستفید ہوتے ہیں۔ان کو بخوبی علم ہے کہ یہ ویڈیو اور آڈیو محفوظ رہتے ہیں، پی ٹی وی میں گھسنے والوں اور خود ان کے ہر ہر خطاب کی ویڈیو اور آڈیو فوٹیج موجود ہے۔وقت آنے پر شہادت کے طور پر پیش ہوئیں تو لوگ پہچانے جائیں گے اس لئے محض ان کے یہ کہہ دینے سے کہ یہ کام ان کے کارکنوں نے نہیں کیا بات صاف نہیں ہو جاتی۔

تازہ ترین ثبوت تو خود ان کے نئے حکم سے مل جاتا ہے جو فرزند راولپنڈی شیخ رشید کی کاناپھوسی کے بعد دیا گیا، انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کہ کہ وہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے لان سے واپس آ جائیں، دوسری طرف تحریک انصاف نے بھی یہ ہدایت دی تاہم اس کا انداز مختلف تھا، کہا گیا پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں ہمارا کوئی کارکن نہیں، پھر بھی عمران خان کا حکم ہے کہ اگر کوئی ہے تو پارلیمنٹ ہاﺅس کے اس حصے کو خالی کر دیا جائے ۔یہ ہدایت نامہ شیخ رشید کی پیغام رسانی کے ذریعے جاری ہوا۔عدالت عظمیٰ کے فل بنچ کے ایک فاضل رکن نے ان کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ پیغام پہنچا دیں اور یہ طریقہ مناسب رہا، درست بندے کا انتخاب کیا گیا اور اس کے توسط سے پیغام کو ہر دو نے مان بھی لیا یہ الگ بات ہے کہ جمعرات کی صبح تک تو سبزہ زار کو خالی نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ دلچسپ نظارہ دیکھا جا رہا تھا کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے بیرئیر لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے اس کی شناخت پوچھتے اور تلاشی لیتے ہیں۔سیکرٹریٹ کے ملازمین کو ان کے دفاتر میں نہیں جانے دیا جاتا اور واپس کر دیا جاتا ہے۔

بدھ کی شب علامہ طاہر القادری قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی اس بات پر بگڑ گئے کہ عوامی تحریک جمہوری پارٹی نہیں، اس کے بعد ان کو خود پر قابو نہیں رہا اور تاریخی حقائق بیان کرتے ہوئے نہ صرف غلط بیانی کے مرتکب ہوئے بلکہ انہوں نے پاکستان عوامی اتحاد کی صدارت کے حوالے سے ایسے اعتراف بھی کئے جو ان کے اس دور 1999ءکے رویئے کی عکاسی کرتے ہیں جن سے وہ انکار کرتے رہے ہیں، انہوں نے خورشید شاہ کو زبان بند کرنے کے لئے کہا پھر ان کے خلاف تو صرف یہ الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں، باقی الزام پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پر لگا دیئے بلکہ دہرا دیئے کہ یہ اتنے تواتر سے کہے گئے ہوئے ہیں اب اپنے معنی بھی کھو چکے ہیں، ایسے میں ان کے منہ سے حسب عادت کف جاری تھا۔

ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم نے محترم طاہر القادری صاحب کی پاکستان عوامی اتحاد کی صدارت کے حصول، محترمہ بے نظیر بھٹو کی نوابزادہ نصراللہ خان کے سامنے بے بسی اور پھر ان کے عوامی اتحاد کی صدارت چھوڑ دینے والے واقعات کا ذکر ان کالموں میں کر دیا تھا، اس لئے اس بارے میں تو یادداشت تازہ کر لیں، البتہ ان کی تازہ ترین بات کا ذکر کرتے ہیں جو غالباً جوش خطابت میں کہہ دی گئی انہوں نے کہا ”مینار پاکستان پر میں خود موجود تھا جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے ادھر تم ادھر ہم کہا، پھر زور دے کر کہتے ہیں، میں نے خود سنا تھا” پھر انہوں نے ٹانگیں توڑ دینے والا فقرہ بھی دہرایا“ ہم اپنے کالموں میں ایک سے زیادہ بار بتا چکے ہوئے ہیں کہ بھٹو کی جس تقریر سے ”ادھر تم ادھر ہم“ کی شہ سرخی بنائی گئی وہ فیصل چوک میں ہوئی تھی اور الفاظ مختلف تھے جن کے معانی یہ نکالے گئے، اب معلوم نہیں قبلہ نے یہ تقریر اور الفاظ مینار پاکستان پر کب سن لئے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انہوں نے آصف علی زرداری کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کو کچھ نہیں کہتے، نہ معلوم یہ کسے کہا“ ویسے وہ یہ درست کہتے ہیں کہ وہ پاکستان عوامی اتحاد کے صدر تھے جس کی رکن جماعتوں میں سے ایک جماعت پیپلزپارٹی بھی تھی، وہ کس طرح صدر بنے اور کتنی دیر بعد چھٹی پر چلے گئے اور پھر داغ مفارقت دیا یہ تاریخ کا حصہ ہیں اور ہم ان کالموں میں بتا چکے ہوئے ہیں کہ عینی شاہد ہیں۔بات ختم کرنے سے قبل حال ہی میں ایک ڈائجسٹ میں چھپنے والے ایک لطیفے سے لطف اندوز ہوں۔

ایک سردار(ڈرائیور) صاحب کی بس نہر میں گر گئی، پولیس والا! سردار صاحب، بس کیسے گری،

سردار صاحب۔ مجھے تو معلوم نہیں، وہ گلزار (کنڈکٹر) نہیں آیا تھا اور میں پیچھے سے کرایہ وصول کررہا تھا۔

مزید : کالم